نئی دہلی: لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے جمعہ کے روز متعدد کسان تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کی اور امریکہ کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدے کی مخالفت کے ساتھ ساتھ کسانوں اور کھیت مزدوروں کی روزی روٹی کے تحفظ کے لیے قومی سطح پر ایک بڑی تحریک شروع کرنے کی ضرورت پر تبادلۂ خیال کیا۔ کانگریس کے مطابق یہ ملاقات پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں ہوئی۔
اس موقع پر راہل گاندھی نے کہا کہ اس تجارتی معاہدے نے زرعی درآمدات کے لیے دروازہ کھول دیا ہے اور جلد ہی کئی دیگر فصلیں بھی اس کے اثرات کی زد میں آ سکتی ہیں۔ کانگریس کے بیان کے مطابق کسان تنظیموں کے قائدین نے بھارت۔
امریکہ تجارتی معاہدے کی مخالفت کی اور مکئی، سویابین، کپاس، پھلوں اور میوہ جات کی کاشت کرنے والے کسانوں کی معاشی حالت پر گہری تشویش ظاہر کی۔ بیان میں کہا گیا، ’’کسان رہنماؤں اور راہل گاندھی نے اس معاہدے کی مخالفت کرنے اور کسانوں و کھیت مزدوروں کی روزی روٹی کے تحفظ کے لیے ایک بڑے قومی احتجاج کی ضرورت پر تبادلۂ خیال کیا۔‘‘ راہل گاندھی کے ساتھ اس نشست میں مختلف کسان تنظیموں کے رہنما شریک ہوئے جن میں کسان کانگریس اور دیگر ریاستی و قومی سطح کی یونینوں کے نمائندگان شامل تھے۔