ممبئی: اداکار نوازالدین صدیقی نے بالی ووڈ میں رنگ و نسل کی بنیاد پر ہونے والے امتیازی رویوں پر کھل کر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندی فلم انڈسٹری میں صرف اقربا پروری ہی نہیں بلکہ واضح طور پر “نسل پرستی” بھی موجود ہے جو کیریئر کے مواقع پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں نوازالدین صدیقی نے بتایا کہ انہیں اپنے کیریئر کے دوران کئی بار ایسے رویوں کا سامنا کرنا پڑا جہاں اداکاروں کو ان کی شکل و صورت اور رنگت کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق انڈسٹری میں گوری رنگت اور مخصوص خوبصورتی کے معیار کو غیر ضروری طور پر اہمیت دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ “خوبصورتی کیا ہے، اس کا فیصلہ لوگوں کو خود کرنے دینا چاہیے” اور یہ کہ مصنوعی معیارات نے فلمی دنیا میں ایک محدود سوچ کو جنم دیا ہے۔ نوازالدین صدیقی نے مزید کہا کہ کیمرہ کسی سطحی معیار کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا بلکہ وہ صرف اصل اور گہری خوبصورتی کو دکھاتا ہے، جو ظاہری فیصلوں سے کہیں زیادہ اہم ہوتی ہے۔ اداکار کے مطابق وہ فلم انڈسٹری میں کسی کی جگہ لینے نہیں آئے بلکہ اپنی محنت اور سفر کے ذریعے شناخت بنائی ہے۔