قطب مینار معاملے: اگلی سماعت ایک ماہ بعد 23 جولائی کو

Story by  ایم فریدی | Posted by  [email protected] | 1 Years ago
قطب مینار

 

 نئی دہلی : دہلی کی ساکیت عدالت نے 27ہندو اور جین مندروں کو توڑ کر قطب مینار کیمپس میں بنے قوة الاسلام مسجد پر دعویٰ کرنے والی عرضی پر سماعت ملتوی کر دی ہے ۔اس معاملے پر اگلی سماعت 23 جولائی کو ہوگی۔

۔ 24 دسمبر 2020 کو عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت دی تھی کہ وہ یہ بتائے کہ کسی عقیدت مند کی حیثیت سے عرضی داخل کرنے کا کیا جواز ہے۔ عدالت نے کہا تھا کہ یہ بتایا جائے کہ کیا عدالت ٹرسٹ کے قیام کا حکم دے سکتی ہے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار وکیل ہری شنکر جین نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں کوئی تنازعہ نہیں ہے کہ مندروں کو مسمار کردیا گیا تھا۔ لہذا اسے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم آٹھ سو سے زیادہ برسوں سے استحصال کا شکار ہیں۔ اب ہم عبادت کا حق مانگ رہے ہیں ، جو ہمارا بنیادی حق ہے۔ جین نے کہا تھا کہ گذشتہ آٹھ سو سالوں سے وہاں نماز نہیں پڑھیگئی ہے۔ یہ کبھی بھی بطور مسجد استعمال نہیں ہوا تھا۔ ان کے دلائل کی حمایت میں ، ہری شنکر جین نے وہاں موجود لوہے کے ستونوں ، بھگوان وشنو اور دیگر دیوتاوں اور دیویوں کے بکھرے بتوں کا حوالہ دیا تھا۔

 سماعت کے دوران وکیل وشنو جین نے کہا تھا کہ یہ قومی شرم کی بات ہے۔ ملکی اور غیر ملکی تمام لوگ وہاں پہنچتے ہیں،دیکھتے ہیں کہ کیسے مورتیاں بکھری پڑی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد اب عدالت کو وہاں کسی انہدام پر قائل کرنا نہیں ہے۔ ہم صرف عبادت کا اپنا حق چاہتے ہیں۔ تب جج نیہا شرما نے پوچھا تھا کہ آپ عبادت کا حق مانگ رہے ہیں۔ فی الحال یہ جگہ اے ایس آئی کے قبضے میں ہے۔ تو کسی اور طریقے سے آپ زمین پر قبضہ کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں۔ تب ہری شنکر جین نے کہا تھا کہ ہم زمین پر اپنی ملکیت کے حقوق نہیں مانگ رہے ہیں۔ حق مالکانہ حقوق دیئے بغیر بھی دیا جاسکتا ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے پوچھا تھا کہ اس عرضی داخل کرنے کا کیا جواز ہے۔ کس وجہ سے آپ درخواست دائر کررہے ہیں؟ پھر درخواست گزار نے کہا کہ ہم نے دیوتا اور عقیدت مند دونوں کی جانب درخواست دائر کی ہے۔ عدالت عالیہ کے ذریعہ کسی عقیدت مند کو درخواست دائر کرنے کے حق کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ آپ میرے اختیار کا انکار نہیں کرسکتے۔

عرضی پہلے رشبھ دیو ،ہری شنکر جین ،رنجنا اگنی ہوتری اور جتیندر سنگھ بسین نے دائر کی ہے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مغل بادشاہ قطب الدین ایبک نے 27 ہندووں اور جین مندروں کی جگہ قوة الاسلام مسجد تعمیر کی۔ ایبک مندروں کو مکمل طور پر ختم نہیں کرسکا اور مسجد مندروں کے کھنڈرات سے بنائی گئی تھی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ قطب مینار کمپلیکس کی دیواروں ، ستونوں اور چھتوں میں ہندو اور جین دیوتاوں کی تصاویر ہیں۔ ان پر بھگوان گنیش ، وشنو ، یکش، یکشینی ، مہاویر ، نٹراج کی تصویروں کے علاوہ ، یہاں منگل کلش ، شنکھ ، گدا ، کمل مندر کی گھنٹیاں وغیرہ آثار ہیں۔ یہ سب بتاتے ہیں کہ قطب مینار کمپلیکس ایک ہندو اور جین مندر تھا۔ درخواست میں قطب مینار کو قطب نما بتایا گیا ہے۔

درخواست میں ہندوستان کے آثار قدیمہ کے سروے کی مختصر تاریخ کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قوة الاسلام مسجد 27 مندروں کے ملبے سے تعمیر کی گئی تھی ۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان 27 مندروں کو بحالی کا حکم دیا جائے اور قطب مینار کمپلیکس میں ہندو رسموں کے مطابق پوجا کی اجازت دی جائے۔ واضحرہے کہ اس متنازعہ جگہ کو مرکزی حکومت نے قومی اہمیت کا ایک مقبرہ قرار دیا تھا۔ اے ایس آئی اس مقبرے کو برقرار رکھتا ہے۔ قدیم یادگاروں اور آثار قدیمہ کی سائٹس اینڈ ریمنس ایکٹ کی دفعات کے تحت اے ایس آئی اس مقبرے کی دیکھ بھال اور حفاظت کرتا ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مرکزی حکومت سے ایک ٹرسٹ تشکیل دینے اور اس جگہ کے انتظام کو اس کے حوالے کرنے کے لئے ہدایات جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیاہے۔