گیا: جن سنسکرتی منچ گیا ضلع اکائی کے زیر اہتمام اردو کے مشہور انشائیہ نگار اور صحافی پروفیسر تاج انور کی یاد میں ایک تعزیتی نشست فکشن ہاؤس پولس لائین میں کی گئی ۔جس کی مجلس صدارت میں سنیل کمار اور مرغوب اثر فاطمی جلوۂ افروز تھے جبکہ نظامت احمد صغیر نے انجام دیا۔
اس موقع پر ریسرچ اسکالر نازش ہاشمی نے پروفیسر تاج انور کا مختصر تعارف پیش کیا۔ ایم۔اے کی طالبہ آرزو پروین نے اعجاز مانپوری کا ارسال کردہ قطعہ پیش کیا اور بی ۔اے کی طالبہ ثانیہ اظہار نے پروفیسر تاج انور کی موت پر اپنے غم کا اظہار کیا۔
احمد صغیر نے بہت تفصیل سے پروفیسر تاج انور پر اپنا مضمون پڑھا۔ انہوں نے بتایا کہ تاج انور اپنے آپ میں ایک انجمن تھے جہاں وہ انشائیہ نگار کی حیثیت سے مشہور تھے صحافی کی حیثیت سے بھی اتنے ہی مشہور تھے اور شا گردوں میں بے حد مقبول تھے۔ ان کے شاگردوں میں پروفیسر ارتضیٰ کریم، اسد ظہیر، پروفیسر شہزاد انجم، احمد صغیر ، شکیل علائی، احسان اللہ دانش ، سید ظفر اسلم اور رشید انصاری کا نام لیا جا سکتا ہے۔
جن سنسکرتی منچ کے سکریٹری میم نازش نے ایک قطعہ پیش کیا۔
جناب تاج کسی تعارف کے محتاج نہیں
پر افسوس ہے کہ ہم سب کے بیچ وہ آج نہیں
ڈاکٹر آفتاب عالم اطہر نے بھی منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔
تاج انور پیکر اخلاق کی عمدہ مثال
اور تھے اطہر وہ ادیب باکمال
عمر بھرکر گئے اردو کی خدمت اس طرح
ان کی رحلت کا رہے گا اردو دنیا کو ملال
نوشاد ناداں نے ایک نظم پیش کی۔
یہ کون سی اٹھی ہے دیوار تاج انور
خاموش ہیں ادب کے سالار تاج انور
اک کشتی قضا پر مطلق سوار ہوکر
لفظوں کے جا رہے ہیں معمار تاج انور
ڈاکٹر احسان اللہ دانش نے بھی بہت تفصیل سے ان کی حالات زندگی پیش کی اور ان کے گھریلو واقعات پیش کئے انہوں نے کہا تاج انور وہ شخصیت تھے جنہیں کبھی بھلا یا نہیں جا سکتا۔
سنیل کمار نے کہا کہ تاج انور جیسی شخصیت برسوں میں پیدا ہوتی ہے۔ صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے مرغوب اثر فاطمی نے اپنے تعلقات کی وضاحت کی کیونکہ دونوں ایک ہی محلے میں رہتے تھے۔ انہوں نے ایک لمبی نظم پیش کی۔
تڑپنا اور تڑپانا بہت تکلیف دیتا ہے
کہ یادوں کا ستم ڈھانا بہت تکلیف دیتا ہے
سفر ملک عدم کا طے ہے، یہ معلوم ہے لیکن
کسی کا یوں چلے جانا بہت تکلیف دیتا ہے
اس تعزیتی نشست میں منجو سنہا، شمشیر عالم، آصف علی، نوشاد عالم، صابرین بانو، شبنم اظہار، شمع شکیل، ڈاکٹر معراج غنی، ڈاکٹر نزہت پروین، عبدالر شید انصاری، علیشہ ملک نے شرکت کی۔ احمد صغیر کے شکریہ کے ساتھ نشست کا اختتام ہوا۔