پروفیسر سید سراج الدین اجملی شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے چیئرمین مقرر

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 10-08-2026
 پروفیسر سید سراج الدین اجملی شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے چیئرمین مقرر
پروفیسر سید سراج الدین اجملی شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے چیئرمین مقرر

 



علی گڑھ، : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے ممتاز استاد، محقق اور معروف شاعر پروفیسر سید سراج الدین اجملی کو شعبہئ اردو کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ آج انھوں نے  شعبے کے باقاعدہ چیئرمین کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ انھوں نے اپنے پیش رو پروفیسر قمر الہدی فریدی سے چارج لیا۔پروفیسر اجملی کے تقرر کو شعبہئ اردو کی علمی، تحقیقی اور ادبی روایت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ 

پروفیسر سراج اجملی کا شمار اردو کے ان معروف اساتذہ میں ہوتا ہے، جنھوں نے تدریس، تحقیق، تنقید اور شاعری کے میدان میں اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے۔ ان کی علمی دلچسپیوں میں کلاسیکی اور جدید اردو غزل اور اردو شاعری کی تاریخ و روایت کے موضوعات بہت نمایاں ہیں۔
سراج اجملی کی پیدائش سکندرپور (بلیا) اترپردیش میں ہوئی۔ ان کی ابتدائی رسمی تعلیم ادبی و روحانی تربیت گاہ دائرہ شاہ اجمل کے ماحول میں ہوئی، جہاں ان کے نانا شاہ سید احمد اجملی سجادہ نشین تھے۔ اسی ماحول نے ان کے اندر ادب، تہذیب، روحانیت اور انسانی اقدار کے اعلیٰ شعور کو جلا بخشی۔ ان کی ادبی اور فکری تربیت میں دائرے کے سجادہ نشینوں، بالخصوص سید اکمل اجملی اور مولانا سید افضل اجملی کا بھی اہم کردار رہا۔یہی خانقاہی اور ادبی ورثہ آگے چل کر ان کے ادبی شخصیت کا حصہ بنا۔سراج اجملی کے ادبی شعور کی پرداخت میں ان کے ماموں معروف ترقی پسند شاعر اور مترجم اجمل اجملی کا نام نامی بہت نمایاں ہے۔
الہٰ آباد میں ابتدائی رسمی تعلیم کے بعدپروفیسر سراج اجملی نے کانپور یونیورسٹی سے بی اے کیا۔پھر انھوں نے دہلی یونیورسٹی سے1989 میں اردو میں ایم اے کی سند حاصل کی۔ اسی سال انھوں نے جونیئر ریسرچ فیلوشپ (JRF) کا امتحان بھی پہلی کوشش میں پاس کیا۔ بعد ازاں دہلی یونیورسٹی میں ہی انھوں نے معروف ادیب و نقاد پروفیسر قمر رئیس کی نگرانی میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے لئے تحقیقی مقالے مکمل کیے۔
تدریسی اور علمی زندگی کے ساتھ ساتھ سراج اجملی کا تعلق نشریاتی دنیا سے بھی رہا۔ وہ آل انڈیا ریڈیو، دہلی کی اردو سروس سے بھی وابستہ رہے۔ علمی سفر کے مختلف مراحل طے کرنے کے بعد 1997 میں وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہئ اردو سے بحیثیت لکچرر وابستہ ہوئے اوراب پروفیسر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
پروفیسر سراج اجملی کی نمایاں شناخت کلاسیکی اردو اور فارسی شعر وادب کے ایک سنجیدہ اسکالر کی ہے۔ان کی علمی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اردو کی کلاسیکی روایت کو جدید تناظر میں سمجھنے اور نئی نسل سے متعارف کرانے کے قائل ہیں۔ سراج اجملی کی ادبی شخصیت کا ایک قابل ذکر پہلو تاریخ گوئی جیسے مشکل فن سے ان کی گہری دلچسپی بھی ہے۔موجودہ عہد میں سراج اجملی کا شمار ان معدودے چند معاصر شعرا میں ہوتا ہے، جو اس فن میں باقاعدگی سے طبع آزمائی کرتے ہیں۔
پروفیسر اجملی کی تحقیقی و تنقیدی کاوشوں میں ان کی کتاب ”ترقی پسند تحریک اور اردو غزل“ خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب 1996 میں شائع ہوئی۔ کتاب میں ترقی پسند تحریک اور اردو غزل کے باہمی رشتے اور اردو غزل کے فکری و فنی پہلوؤں کا گہرا مطالعہ کیا گیا ہے۔ان کے متعدد تحقیقی مقالے ملک و بیرون ملک کے موقر جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔انھوں نے ملک کی کئی یونیورسٹیوں اور علمی اداروں میں اپنے عالمانہ خطبات سے اہل نظر کو فیض یاب کیا ہے۔سراج اجملی ملک سے باہر بھی کئی ممالک کا علمی سفر کر چکے ہیں۔
شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی چیئرمین شپ اب ان کی ذمہ داریوں میں ایک نیا اضافہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ان کا وسیع تدریسی تجربہ، تحقیقی بصیرت اور ادبی وابستگی شعبے کی علمی اور تحقیقی سرگرمیوں کو مزید تقویت فراہم کرے گی۔