پروفیسر مظہر آصف کا "مہادیو کا ڈی این اے" بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر غلط انداز میں پیش کیا گیا: مسلم انٹلیکچوئل فرنٹ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 06-05-2026
پروفیسر مظہر آصف کا
پروفیسر مظہر آصف کا "مہادیو کا ڈی این اے" بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر غلط انداز میں پیش کیا گیا: مسلم انٹلیکچوئل فرنٹ

 



نئی دہلی:مسلم انٹلیکچوئل فرنٹ (ایم آئی ایف)، جو کہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے ممتاز تعلیمی اداروں سے وابستہ 250 سے زائد اساتذہ، محققین اور دانشوروں پر مشتمل ایک سنجیدہ علمی پلیٹ فارم ہے، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف کے حالیہ بیان کے گرد پیدا ہونے والے تنازع پر اپنی گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتا ہے۔

مسلم انٹلیکچوئل فرنٹ اس امر کی نشاندہی کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ پروفیسر مظہر آصف کے بیان کو بعض حلقوں کی جانب سے، خصوصاً مسلم سماج کے چند طبقات اور بائیں بازو سے وابستہ گروہوں کی طرف سے، سیاق و سباق سے الگ کر کے پیش کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک غیر ضروری اور مصنوعی تنازع کھڑا کیا گیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، ایکس (ٹوئٹر) اور انسٹاگرام پر جس انداز میں ان کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے، وہ نہایت افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور علمی اقدار کے منافی ہے۔ اس طرزِ عمل سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ہم بحیثیت معاشرہ سنجیدہ علمی مکالمے کے بجائے فوری ردعمل اور جذباتی اظہار کی طرف مائل ہو چکے ہیں۔

شہباز عامل، اسسٹنٹ پروفیسر، سینٹر آف فارسی اینڈ سینٹرل ایشین اسٹڈیز، جے این یو، جو مسلم انٹلیکچوئل فرنٹ کے فعال رکن ہیں، نے کہا: "اگر پروفیسر مظہر آصف کے بیان کو اس کے مکمل تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ وہ کسی سادہ یا سطحی دعوے کے بجائے ایک گہرے تہذیبی اور فلسفیانہ نکتے کی وضاحت کر رہے تھے۔ ان کا مقصد مذہبی اور ثقافتی روایات میں علامتی (symbolic) اور عقلی (rational) تعبیر کے فرق کو اجاگر کرنا تھا۔ ہندوستانی علمی روایت، بالخصوص صوفیانہ فکر، ہمیشہ سے علامتی زبان اور تمثیلی اظہار کے ذریعے پیچیدہ روحانی اور اخلاقی معانی کو بیان کرتی آئی ہے۔ اس تناظر کو نظر انداز کر کے ان کے بیان کے چند الفاظ کو الگ کر دینا نہ صرف علمی بددیانتی ہے بلکہ ایک سنجیدہ فکری گفتگو کو مسخ کرنے کے مترادف ہے"۔

پروفیسر مظہر آصف تصوف، ہندوستانی تاریخ اور تہذیبی مطالعات کے ایک معتبر اور ممتاز عالم ہیں۔ انہوں نے اپنی علمی کاوشوں کے ذریعے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ وراثت کو سمجھنے اور فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی علمی و انتظامی خدمات کا دائرہ نہایت وسیع ہے اور وہ علمی حلقوں میں اپنے متوازن اور بصیرت افروز نقطۂ نظر کے لیے جانے جاتے ہیں۔

بطور رکنِ مسودہ سازی کمیٹی National Education Policy 2020، انہوں نے ہندوستان کے تعلیمی نظام کو زیادہ ہمہ گیر، جامع اور لسانی تنوع کا حامل بنانے میں قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے نہ صرف عربی اور اردو زبانوں کے فروغ کی وکالت کی بلکہ مدارس کے تعلیمی نظام کو مرکزی دھارے سے جوڑنے کے تصور کو بھی مضبوطی سے پیش کیا، جو مسلم معاشرے میں تعلیمی بیداری اور ترقی کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔

مزید برآں، ان کی علمی خدمات میں "ویر ساورکر: دی مین ہو کڈ ہیو پریوینٹڈ پارٹیشن" کا اردو ترجمہ بھی شامل ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ مختلف فکری روایتوں کو اردو قارئین تک پہنچانے اور علمی مکالمے کو وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔ ان کا یہ رویہ اس وسیع النظری اور فکری کشادگی کی عکاسی کرتا ہے جو کسی بھی سنجیدہ دانشور کی پہچان ہوتی ہے۔

یہ نہایت افسوسناک ہے کہ ایسے ایک سنجیدہ اور باوقار دانشور کے بیان کو سمجھنے کے بجائے اس کی غلط تعبیر کر کے عوامی جذبات کو بھڑکایا جا رہا ہے۔ اختلافِ رائے یقیناً ایک صحت مند علمی روایت کا حصہ ہے، لیکن یہ اختلاف دلیل، تحقیق اور علمی دیانت کے ساتھ ہونا چاہیے۔ محض نعرے بازی، جذباتی ردعمل اور شخصی حملوں کے ذریعے کسی علمی شخصیت کو نشانہ بنانا نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ ہمارے اجتماعی علمی معیار کے زوال کی علامت بھی ہے۔

آج جب مسلم معاشرہ تعلیم، فکری قیادت اور سماجی و معاشی ترقی جیسے اہم مسائل سے دوچار ہے، تو ایسے اہلِ علم کی حوصلہ افزائی نہایت ضروری ہے جو اصلاح، تعلیم اور مکالمے کی بات کرتے ہیں۔ ایسے افراد کو تنقید برائے تنقید کا نشانہ بنانا دراصل اپنی ہی فکری بنیادوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

مسلم انٹلیکچوئل فرنٹ تمام طبقات سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات میں ذمہ داری، علمی دیانت اور مکالمے کے جذبے کو فروغ دیں۔ ہم معاشرے سے گزارش کرتے ہیں کہ ردعمل کی سیاست سے اوپر اٹھ کر سنجیدہ فکری گفتگو، اہلِ علم کے احترام اور مختلف نقطۂ نظر کو برداشت کرنے کی روایت کو مضبوط کریں۔

ہم پروفیسر مظہر آصف کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ علمی آزادی، معقول مکالمہ اور فکری تنوع ہی ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہیں.