نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے زیر اہتمام انڈیا انٹرنیشنل سینٹر، نئی دہلی میں "آج کے تناظر میں پریم چند کی معنویت" کے عنوان سے ایک پینل ڈسکشن منعقد ہوا۔تقریب کی صدارت ممتاز ناقد و محقق پروفیسر صغیر افراہیم نے کی، جبکہ ڈاکٹر شانتنو مکھرجی مہمان خصوصی تھے۔ پینل میں پروفیسر شہزاد انجم اور محترمہ سائرہ مجتبیٰ نے بھی اظہار خیال کیا۔ نظامت نہاں رباب نے انجام دی۔
قومی کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ پریم چند اردو اور ہندی ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستانی ادب کے مؤثر ترین ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی تخلیقات دنیا کی متعدد زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اردو کونسل نے کلیات منشی پریم چند کو 24 جلدوں میں شائع کرنے کا اہم کارنامہ انجام دیا ہے۔
ڈاکٹر شانتنو مکھرجی نے کہا کہ پریم چند کی شخصیت روشن خیال اور دور اندیش تھی۔ انہوں نے معاشرتی مسائل، خصوصاً خواتین کے مسائل کو غیر معمولی بصیرت کے ساتھ اپنی تحریروں میں پیش کیا۔ انہوں نے پریم چند کی مشہور کہانی "دنیا کا سب سے انمول رتن" بھی حاضرین کو سنائی۔
صدارتی خطاب میں پروفیسر صغیر افراہیم نے کہا کہ پریم چند انسان دوستی، حب الوطنی اور سماجی اصلاح کے ادیب تھے۔ ان کا ادب آج بھی پوری دنیا میں پڑھا جاتا ہے کیونکہ وہ انسان اور انسانیت کو اپنی فکر کا مرکز بناتے ہیں۔پروفیسر شہزاد انجم نے کہا کہ پریم چند ہندوستانی ادب کے معمار تھے۔ انہوں نے مشترکہ تہذیب، سماجی ہم آہنگی اور عوامی زبان کو فروغ دیا۔ ان کی شخصیت اور فن کی معنویت آج بھی برقرار ہے۔
محترمہ سائرہ مجتبیٰ نے کہا کہ پریم چند نے جس معاشرے کی تصویر اپنی تخلیقات میں پیش کی تھی، آج بھی اس کے بہت سے مسائل موجود ہیں۔ بہتر انسانی سماج کی تشکیل کے لیے ان کے افکار آج بھی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔تقریب کے آغاز میں مہمانوں کی شال پوشی کی گئی جبکہ اس موقع پر قومی اردو کونسل کے رسالہ اردو دنیا کے پریم چند نمبر اور سہ ماہی فکر و تحقیق کے ترجمہ نمبر کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ پروگرام میں دہلی کے ادیبوں، دانشوروں، اساتذہ، محققین اور ریسرچ اسکالرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔