نئی دہلی: “پریم چند کے ادبی کارناموں کو دیکھتے ہوئے ہمیں مایوسی نہیں بلکہ خوشی کا احساس ہوتا ہے، اور ہمیں حسن کا معیار بدلنے کی ضرورت ہے۔”
ان خیالات کا اظہار پروفیسر محمد علی جوہر نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقدہ قومی سمینار کے افتتاحی اجلاس میں کیا۔
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور پریم چند آرکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اشتراک سے “پریم چند کا ادب: نئے تناظر میں” کے عنوان سے نہرو گیسٹ ہاؤس میں یک روزہ قومی سمینار منعقد ہوا جس میں ملک بھر سے آئے ماہرین نے پریم چند کے ادب اور فکر پر تفصیلی گفتگو کی۔
استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ پریم چند کی تخلیقات اردو فکشن کا بیش بہا سرمایہ ہیں اور کونسل نے ان کی تحریروں کو چوبیس جلدوں میں شائع کر کے ایک اہم ادبی خدمت انجام دی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج کے دور میں پریم چند کو نئے زاویے سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔
پروفیسر شہزاد انجم نے اپنے تعارفی خطاب میں پریم چند آرکائیوز کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پریم چند ہندوستانی ادب اور معاشرے کا روشن چہرہ ہیں جن کے یہاں حب الوطنی اور سماجی شعور نمایاں نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پریم چند نے نہ صرف مہاتما گاندھی کی تحریک کا ساتھ دیا بلکہ سماجی برائیوں کو بھی بے نقاب کیا۔
کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر انور پاشا نے کہا کہ پریم چند اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں یکساں مقبول ادیب ہیں اور ان کے بغیر فکشن پر گفتگو ادھوری رہتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پریم چند نے اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرتی تبدیلی کی کوشش کی اور طبقاتی کشمکش کو نمایاں کرتے ہوئے مساوات کا درس دیا۔

مہمان اعزازی پروفیسر جتندر سریواستو نے اپنے خطاب میں کہا کہ پریم چند نے نہایت دور اندیشی کے ساتھ عورتوں کی تعلیم اور برابری کی بات کی اور سماجی بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سمینار کے دوران تین تکنیکی اجلاس بھی منعقد ہوئے جن میں مختلف اسکالروں نے پریم چند کے افسانوں مضامین اور فکری جہات پر مقالات پیش کیے۔ ان اجلاسوں میں پریم چند کے عالمی اثرات نسوانی کردار طبقاتی شعور اور عصری معنویت جیسے موضوعات پر تفصیلی بحث کی گئی۔
افتتاحی اجلاس کے بعد تین اہم تکنیکی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسر قمرالہدیٰ فریدی (چیئرمین، شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) اور پروفیسر ابوبکر عباد(صدر شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی) نے کی۔ جس میں پروفیسر حبیب اللہ خاں (پریم چند عالم عرب میں)، پروفیسر احمد امتیاز(پریم چند کا نظریۂ مصوری)، ڈاکٹر ارشاد نیازی(افسانہ 'کفن' کی ایک اور قرأت)، ڈاکٹر خالد مبشر(پریم چند کا افسانہ، بازارواد کے تناظر میں) اور جناب سید فیصل ہاشمی (مغربی زبانوں میں پریم چند کے تراجم) نے مقالات پیش کیے۔
دوسرے تکنیکی اجلاس کی صدارت ڈاکٹر ارشاد نیازی (شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی) نے کی۔ اس اجلاس میں پروفیسر محمد علی جوہر(پریم چند کا ایک مضمون ‘قوت بیانیہ کا زوال’)، ڈاکٹر محمد مشتاق تجاروی(جامعہ کا پریم چند آرکائیوز اور ادبی مرکز)، ڈاکٹر رحیل صدیقی(پریم چند اپنی تخلیقات کے آئینے میں)، ڈاکٹر سید محمد عامر (پریم چند کے افسانوں میں نسوانی کردار: نئے تناظر میں)، ڈاکٹر ثاقب عمران (افسانہ "پنچایت" حق و انصاف کا لازوال بیانیہ) نے مقالات پیش کیے۔ تیسرے تکنیکی اجلاس کی صدارت پروفیسر کوثر مظہری اور پروفیسر شہزاد انجم نے کی۔
اس اجلاس میں ڈاکٹر جاوید حسن(پریم چند کے افسانوں میں ڈرامائی عناصر)، ڈاکٹر جے موہن سنگھ (پریم چند کے مضامین:نئے تناظر میں)، ڈاکٹر محمد اسلم(عصر حاضر میں پریم چند کے افسانوں کی معنویت)، ڈاکٹر شاہنواز حیدر شمسی(پریم چند کے افسانوں کی عصری حسیت) اور ڈاکٹر نسیم افضل (پریم چند کے مضامین:ایک مطالعہ) نے مقالات پیش کیے۔ یہ سمینار پریم چند کے فکرو فن کی تفہیم میں اہم کاوش کی حیثیت رکھتا ہے۔ سمینار میں مختلف یونیورسٹیوں کے مہمان مقالہ نگاروں کے علاوہ ریسرچ اسکالرز اور طلبہ و طالبات موجود رہے۔ یہ سمینار پریم چند کے فکرو فن کو نئے زاویے سے سمجھنے کی ایک اہم کوشش ثابت ہوا جس میں مختلف جامعات کے اساتذہ ریسرچ اسکالرز اور طلبہ نے شرکت کی۔