برلن:وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی سفارتی حکمت عملی کو متوازن قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز میں ہندوستان کے کردار کی تعریف کیا۔جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ہندوستانی سفارت خانے میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ ہندوستان نے عالمی تنازعات کے حل میں ہمیشہ متوازن سفارتی رویہ اختیار کیا ہے اور مستقبل میں بھی اس کے کردار کے امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے مغربی ایشیا کے بحران سمیت مختلف عالمی مسائل میں امن کے لیے کوششیں کی ہیں تاہم نتائج کا انحصار وقت اور عالمی حالات پر ہوتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وزیر اعظم نے دونوں فریقوں سے جنگ ختم کرنے کی اپیل کی ہے اور ان کا سفارتی انداز نہایت متوازن ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نے ذاتی طور پر کئی عالمی رہنماؤں سے ملاقات کر کے مذاکرات اور پرامن حل پر زور دیا اور ہر موقع پر بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوشش کی گئی۔
وزیر دفاع نے عالمی سیاست میں ہندوستان کی پوزیشن کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ ملک نے مختلف فریقوں کے ساتھ متوازن تعلقات قائم رکھے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسی سفارتی حکمت عملی کی بدولت آبنائے ہرمز سے ہندوستانی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ ممکن ہو سکی۔
انہوں نے کہا کہ نہ امریکہ ہندوستان کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور نہ ہی ایران اور یہی متوازن پالیسی ملک کی بڑی طاقت ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے جرمنی کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ پہلا دورہ ہے اور یہ سال دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتا ہے اور یہ تعلقات جمہوری اقدار پر مبنی ہیں۔
اقتصادی تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 7 دہائیوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون ہر شعبے میں مضبوط ہوا ہے۔ جرمنی یورپ میں ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن چکا ہے اور 2000 سے زائد جرمن کمپنیاں ہندوستان میں سرگرم ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جرمن کمپنیاں ہندوستان کی صنعتی ترقی کو فروغ دے رہی ہیں جبکہ کئی ہندوستانی کمپنیاں بھی جرمنی میں اپنی مضبوط موجودگی قائم کر رہی ہیں۔