نئی دہلی: مالی سال 2024-25 کے دوران ’پی ایم کیئرز‘ کو ملنے والے گھریلو چندے میں 30 فیصد کمی ہوئی اور یہ گھٹ کر 479 کروڑ روپے رہ گیا، جبکہ غیر ملکی چندہ 18 فیصد کم ہو کر 92.8 لاکھ روپے رہ گیا۔ پی ایم کیئرز فنڈ کی آڈٹ رپورٹ میں یہ معلومات سامنے آئی ہیں۔
پی ایم کیئرز فنڈ (وزیر اعظم شہری امداد و ہنگامی حالات میں راحت فنڈ) میں 31 مارچ 2025 تک مجموعی طور پر 8,452 کروڑ روپے موجود تھے، جبکہ ایک سال قبل یہ رقم 7,173 کروڑ روپے تھی۔ رپورٹ کے مطابق، اس رقم میں سے 7,846 کروڑ روپے فکسڈ ڈپازٹ میں جبکہ 605 کروڑ روپے بچت کھاتے میں رکھے گئے تھے۔ مالی سال 2023-24 میں پی ایم کیئرز فنڈ کو 681.8 کروڑ روپے گھریلو چندہ ملا تھا، جبکہ غیر ملکی چندے کی مجموعی رقم 1.13 کروڑ روپے تھی۔ فنڈ نے مالی سال 2024-25 کے دوران ’پی ایم کیئرز فار چلڈرن اسکیم‘ پر 87.8 لاکھ روپے خرچ کیے، جو اس سے پچھلے سال کے 15.37 کروڑ روپے کے مقابلے میں کافی کم ہے۔
مالی سال 2024-25 کے دوران مجموعی ادائیگی 87.85 لاکھ روپے رہی، جبکہ اس سے پچھلے مالی سال میں یہ رقم 15.6 کروڑ روپے تھی۔ پی ایم کیئرز کی آڈٹ رپورٹ کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ رضاکارانہ گھریلو چندہ مالی سال 2020-21 میں سب سے زیادہ 7,184 کروڑ روپے تھا۔ یہ 2021-22 میں گھٹ کر 1,896 کروڑ روپے اور 2022-23 میں مزید کم ہو کر 909 کروڑ روپے رہ گیا۔ رپورٹ کے مطابق غیر ملکی چندے میں بھی تیزی سے کمی آئی ہے۔ مالی سال 2020-21 میں یہ 495 کروڑ روپے کی بلند ترین سطح پر تھا، لیکن اگلے دو برسوں میں کم ہو کر بالترتیب 40 کروڑ روپے اور 2.57 کروڑ روپے رہ گیا۔
اب غیر ملکی چندہ 92.8 لاکھ روپے ہے، جو 2019-20 میں درج 39.7 لاکھ روپے کے بعد دوسری سب سے کم سطح ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے پی ایم کیئرز فنڈ بنیادی طور پر کسی بھی قسم کی ہنگامی یا بحرانی صورت حال، مثلاً کووڈ-19 وبا، سے نمٹنے اور متاثرہ افراد کو راحت فراہم کرنے کے مقصد سے قائم کیا تھا۔ اسے ایک عوامی فلاحی ٹرسٹ کے طور پر رجسٹر کیا گیا تھا۔ وزیر اعظم اس فنڈ کے بذریعہ عہدہ چیئرمین ہوتے ہیں۔ یہ فنڈ مکمل طور پر رضاکارانہ چندے سے چلتا ہے اور اسے حکومت کی جانب سے کوئی بجٹ امداد نہیں ملتی۔