نئی دہلی:سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک وکیل کو اس کی جانب سے دائر 47 مفادِ عامہ کی عرضیوں میں سے 17 واپس لینے کی اجازت دے دی۔ اس وکیل کو گزشتہ ماہ "غیر اہم اور بے بنیاد" عرضیاں دائر کرنے پر عدالت نے سرزنش کی تھی۔ ہندوستان کے چیف جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جوی مالیا باغچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی پر مشتمل بنچ نے ایڈووکیٹ سچن گپتا کو عرضیاں واپس لینے کی اجازت دی۔
گپتا بطور عرضی گزار خود عدالت میں پیش ہوئے۔ جیسے ہی 17 عرضیاں سماعت کے لیے بنچ کے سامنے آئیں، گپتا نے کہا کہ وہ انہیں واپس لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، "میں عرضیاں واپس لے رہا ہوں۔ میں متعلقہ حکام سے رجوع کروں گا۔"
اس سے پہلے 10 اپریل کو، جب 25 مختلف عرضیاں سماعت کے لیے پیش ہوئی تھیں، سپریم کورٹ نے گپتا سے کہا تھا کہ وہ براہِ راست عدالت آنے کے بجائے پہلے متعلقہ حکام سے رجوع کریں۔ بنچ نے کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر مناسب وقت پر ان کی عرضیوں پر غور کیا جائے گا۔ عدالت نے اس دن انہیں اپنی 25 عرضیاں واپس لینے کی اجازت دے دی تھی۔
اس سے پہلے 9 مارچ کو اعلیٰ عدالت نے پانچ "غیر اہم" عرضیاں خارج کر دی تھیں۔ ان میں ایک عرضی میں یہ جاننے کے لیے سائنسی مطالعہ کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا کہ آیا پیاز اور لہسن میں "تامسک" (منفی) توانائی ہوتی ہے۔ تب چیف جسٹس نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا، "کیا یہ سب عرضیاں آدھی رات کو تیار کرتے ہو؟"
انہوں نے ان عرضیوں کو "مبہم، غیر اہم اور بے بنیاد" قرار دیا تھا۔ بنچ نے گپتا کی جانب سے دائر چار دیگر عرضیاں بھی خارج کر دی تھیں، جن میں ایک میں شراب اور تمباکو مصنوعات میں مبینہ طور پر مضر اجزاء کے ضابطے کے لیے ہدایات دینے کی درخواست شامل تھی۔