بی جے پی سے لوگ اکتا چکے: پرینکاگاندھی

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 04-08-2026
بی جے پی سے لوگ اکتا چکے: پرینکاگاندھی
بی جے پی سے لوگ اکتا چکے: پرینکاگاندھی

 



بی جے پی سے لوگ اکتا چکے: پرینکا

نئی دہلی: کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے اسمبلی ضمنی انتخابات کے نتائج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ اب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے اکتا چکے ہیں اور ملک میں کیا ہو رہا ہے، اسے سمجھنے لگے ہیں۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "یہ صاف ہے کہ لوگ بی جے پی سے تھک اور اکتا چکے ہیں۔ لوگ ملک کے حالات کو سمجھ رہے ہیں۔ میری نظر میں یہ صرف شروعات ہے۔" جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان نتائج کا اثر اتر پردیش اسمبلی انتخابات پر بھی پڑے گا، تو انہوں نے مختصر جواب دیا، "آگے دیکھیں گے۔" قابل ذکر ہے کہ بہار کی بانکی پور اسمبلی نشست کے ضمنی انتخاب میں جن سوراج پارٹی کے رہنما پرشانت کشور نے بی جے پی کو شکست دی، جبکہ مدھیہ پردیش کی دتیا اسمبلی نشست پر کانگریس نے بی جے پی کو ہرایا۔

دوسری جانب گجرات کی مانجل پور اسمبلی نشست بی جے پی نے برقرار رکھی۔ دریں اثنا مدھیہ پردیش کے خرگون میں چار سال قبل رام نومی تشدد کے مقدمے میں تمام ملزمان کی بریت کے بعد کانگریس نے بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں "بلڈوزر انصاف" کے نام پر آئین اور قانون کی حکمرانی کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اپریل 2022 میں رام نومی جلوس کے دوران تشدد کے اگلے ہی دن ضلع انتظامیہ نے پانچ مسلم اکثریتی علاقوں میں 16 مکانات اور 29 دکانیں بلڈوزر سے منہدم کر دی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے کہا تھا، "جس گھر سے پتھر آئے ہیں، اسی گھر کو پتھروں کا ڈھیر بنا دیں گے۔

" جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ جولائی 2026 میں مدھیہ پردیش کی ایک سیشن عدالت نے اس مقدمے میں نامزد تمام 11 مسلم ملزمان کو ناکافی ثبوت، گواہوں کی عدم موجودگی اور غیر قانونی تفتیش کی بنیاد پر بری کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عدالت کی جانب سے ملزمان کو بے قصور قرار دیے جانے کے باوجود برسوں پہلے ہی ان کے خلاف "بلڈوزر انصاف" نافذ کر دیا گیا تھا۔ کانگریس نے مطالبہ کیا کہ جن لوگوں کے مکانات منہدم کیے گئے، انہیں مناسب معاوضہ دیا جائے اور اس کارروائی کے ذمہ دار افسران کا بھی احتساب کیا جائے۔