بائسرن حملے کاایک سال _ غموں، بہادری اور امید کی کہانی،آواز دی وائس پہنچا پہلگام

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 22-04-2026
بائسرن حملے کاایک سال _ غموں، بہادری اور امید کی کہانی،آواز دی وائس پہنچا پہلگام
بائسرن حملے کاایک سال _ غموں، بہادری اور امید کی کہانی،آواز دی وائس پہنچا پہلگام

 



 دانش علی  کی رپورٹ

 پہلگام حملے کی یاد یں آج بھی دل کو تکلیف دیتی ہیں، جو ظلم ہوا اسے بھلانا مشکل ہے اور ہم سب کو ان لوگوں کا بہت دکھ ہے۔ رمضان کے مہینے میں بھی ہم نے ان کے لیے دعائیں کیں۔ وہ لوگ ہمارے اپنے تھے اور آج بھی ان کی یاد آتی ہے

  پہلگام کا مرکزی علاقہ جو کبھی سیاحوں سے بھرا رہتا تھا اب سوگ اور خاموشی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ایک مقامی شخص نذیر احمد جو گھوڑوں کا کام کرتے ہیں ان کے الفاظ  اس بات کو بیان کر رہے ہیں کہ  دہشت گردی کا درد اب بھی برقرار ہے  وہ کہتے ہیں کہ  اس رمضان المبارک میں ہم نے پورا مہینہ اس خاتون کے لیے دعائیں مانگیں جو میت پر بیٹھی تھی۔ ہمیں یہ بہت افسوسناک لگتا ہے۔ وہ ہماری بہن ہے۔

یاد رہے کہ پہلگام کی پُرسکون وادی، جو کبھی اپنی خوبصورتی اور سکون کے لیے جانی جاتی تھی، 22 اپریل 2025 کے اس ہولناک دن کو آج بھی نہیں بھلا سکی۔ وادی بائسرن میں گونجنے والی گولیوں کی آواز نے نہ صرف 26 بے گناہ جانیں چھین لیں بلکہ پورے علاقے کو غم اور خوف میں ڈبو دیا۔

شہید عادل کی بیوہ اور والد 


عادل کی بہادری اور شہادت

اس دن جب ہر طرف چیخ و پکار تھی اور لوگ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے، وہیں ایک نوجوان سید عادل حسین انسانیت کی ایک عظیم مثال بن کر سامنے آیا۔ پہلگام کے قریب واقع ایک گاؤں ہپٹنار میں رہنے والے عادل کی کہانی بہادری اور قربانی ہر کسی کی زبان پر ہے۔ عادل پیشے کے اعتبار سے ایک ٹٹو گائیڈ تھا، مگر 22 اپریل کے حملے کے دوران اس نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دہشت گرد کو پکڑنے کی کوشش کی اور اسی دوران اپنی جان قربان کر دی۔

وہ دہشت گردوں کے سامنے ڈٹ گیا اور کہنے لگا کہ یہ ہمارے مہمان ہیں، ان پر گولیاں کیوں برسا رہے ہو، ان کا کیا قصور ہے۔ اسی کوشش میں اس نے اپنی جان قربان کر دی، مگر کئی لوگوں کی زندگیاں بچا گیا۔

آج ایک سال گزر چکا ہے مگر بائسرن کا راستہ اب بھی سنسان ہے۔ مقامی افراد جیسے عبدالغنی اور نذیر احمد بتاتے ہیں کہ اس حملے کے بعد سیاحوں کا آنا بند ہو گیا اور ان کا روزگار ختم ہو کر رہ گیا۔ گھوڑے والے، ڈرائیور اور دیگر افراد سب بے روزگاری کا شکار ہو گئے ہیں اور زندگی مشکل ہو گئی ہے۔

عادل کی یاد 

 شہید عادل حسین کی بہادری پر پورے علاقے کو فخر ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے سیاحوں کو بچاتے ہوئے اپنی جان قربان کی اور ایسی مثال کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سیاح ہی ہماری روزی روٹی تھے اور ہم ان کے ساتھ جڑے ہوئے تھے

عادل کا مکان جو مہاراشٹر کی حکومت نے تعمیر کرایا ہے


بیوہ کا غم

 ہپتنار گاؤں میں جہاں شہید عادل حسین کی اہلیہ گلناز اختر سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سال ان کے لیے بہت مشکل رہا۔ ان کے شوہر کے بغیر زندگی بے معنی لگتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ روزانہ کام پر جاتے تھے اور شام کو واپس آ جاتے تھے لیکن اس دن وہ واپس نہ آئے۔ آج بھی اس دن کو یاد کر کے بہت دکھ ہوتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ جیون ساتھی نہ ہو تو نوکری کا کیا فائدہ؟ سب کچھ اس طرح ہوتا ہے۔ جیون ساتھی ہو تو سب کچھ ہوتا ہے۔ سب کچھ ہوتا ہے۔  عادل صاحب  بہادر تھے۔  تو انہوں نے جس طرح بہادری کا مظاہرہ کیا، جس طرح سے گولیوں کا شور تھا، جہاں سے لوگ بھاگ رہے تھے، وہ وہاں لوگوں کو بچانے کے لیے گیا، سیاحوں کو بچاتے ہوئے اس نے اپنی جان قربان کردی،  مجھے اس پر فخر ہے،  اس نے سیاحوں کی جان بچاتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، بہت کم لوگ ایسی مثال قائم کرتے ہیں، جس طرح کی مثال ہر کسی نے رکھی ہے، اس طرح کی مثال ہر ایک میں ہے۔ علاقہ میں تشویش ہے کہ معزز شخص نے سیاحوں کی جان بچاتے ہوئے اپنی جان قربان کردی

گلناز کی والدہ نے بتایا کہ اس دن عادل کام پر گئے تھے اور بعد میں خبر ملی کہ وہاں حملہ ہوا ہے۔ شام تک پتہ چلا کہ وہ شہید ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد سے گھر میں غم کا ماحول ہے اور گلناز اب بھی صدمے میں ہیں۔

بیٹے پر فخر ہے

شہید کے والد سید حیدر حسین شاہ نے بتایا کہ انہیں اپنے بیٹے پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عادل نے اپنی جان دے کر نہ صرف لوگوں کو بچایا بلکہ پورے کشمیر کا نام روشن کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آخری بار جب عادل گھر سے نکلے تو وہ معمول کے مطابق کام پر گئے تھے اور کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ واپس نہیں آئیں گے۔

عادل سے اپنی آخری گفتگو کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ صبح گھر میں  ہاتھ منہ دھوئے، پھر گھر میں چائے پی۔ پھر نوشاد، جو عادل سے چھوٹا تھا، بھی پہلگام میں گاڑی چلا رہا تھا، اس لیے وہ پہلے چلا گیا۔ پھر بعد میں عادل کم از کم صبح آٹھ بجے نکلا اور یہیں اپنے گھر کی سیڑھیوں پر کھڑا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ دو راونڈ لگاؤں گا، کیونکہ راستے میں کیچڑ تھا کیونکہ دو تین دن سے بارش ہو رہی تھی، اس لیے جب میں واپس آؤں گا تو ایک کیچڑ ہٹا کر دوسری لگاؤں گا۔ عادل سے میری آخری گفتگو تھی

 انہوں نے مزید بتایا کہ حملے کے بعد مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے ان کے خاندان کی مدد کی۔ انہیں مالی امداد دی گئی اور ان کے لیے نیا گھر بھی تعمیر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بغیر کسی سیاسی فائدے کے ان کے ساتھ تعاون کیا اور انہیں اپنی فیملی کی طرح سمجھا۔یہ کہانی صرف ایک سانحہ نہیں بلکہ غم بہادری اور انسانیت کی ایک زندہ مثال ہے جو آج بھی پہلگام اور اس کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے

پہلگام کی یہ کہانی صرف ایک سانحہ نہیں بلکہ بہادری، قربانی اور انسانیت کی ایک لازوال داستان ہے۔ یہاں کے لوگ آج بھی زخموں کے ساتھ جینے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر ان کے دلوں میں یہ یقین زندہ ہے کہ محبت، انسانیت اور امن کی روشنی ایک دن ہر اندھیرے پر غالب آئے گی۔