نئی دہلی: شمالی اڈیشہ میں بدھ کے روز بھی سیلاب کی صورتحال سنگین بنی رہی۔ مسلسل بارش کے باعث بڑی ندیوں میں پانی کی سطح خطرے کے نشان سے اوپر پہنچ گئی ہے، جبکہ کئی دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔ حکام کے مطابق سیلاب سے ریاست کے پانچ اضلاع میں 1.25 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ صورتحال کے پیش نظر 10 اضلاع میں تمام اسکولوں اور آنگن واڑی مراکز کو بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ گہرے دباؤ کے باعث ہونے والی شدید بارش سے دریاؤں میں طغیانی آ گئی ہے۔ بالاسور، بھدرک، جاج پور، میوربھنج اور کیونجھر اضلاع کے متعدد دیہات میں سیلابی پانی داخل ہو گیا ہے، جبکہ زرعی اراضی کا بڑا حصہ زیرِ آب آ چکا ہے۔
بالاسور ضلع میں بدھ بلنگا اور جالکا ندیوں میں طغیانی کے باعث کئی گاؤں ڈوب گئے ہیں، جبکہ بھدرک اور جاج پور اضلاع میں بیترنی، بدھا اور سالندی ندیوں نے متعدد علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ محکمہ آبی وسائل کے مطابق علاقے کی تمام بڑی ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے نشیبی علاقوں میں رہنے والے تقریباً 50 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی مہم تیز کر دی ہے۔ متاثرہ افراد کو راحتی مراکز میں رکھا گیا ہے، جہاں انہیں پکا ہوا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔ ریسکیو اور راحتی کاموں کے لیے قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف)، اڈیشہ ڈیزاسٹر ریپڈ ایکشن فورس (او ڈی آر اے ایف) اور محکمہ فائر بریگیڈ کی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔
ریاستی حکومت نے سیلاب کی نگرانی اور امدادی سرگرمیوں میں بہتر تال میل کے لیے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع بالاسور، بھدرک اور جاج پور میں تین سینئر آئی اے ایس افسران کو بھی تعینات کیا ہے۔ ادھر محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران اڈیشہ کے کئی علاقوں میں انتہائی شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔