گریٹر نوئیڈا/ آواز دی وائس
گزشتہ سال قومی چیمپئن شپ میں ہونے والی غیر متوقع شکست نیتو گھنگھاس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی، لیکن اسی شکست نے ان کے کیریئر کی سمت بدل دی۔ نیتو نے نکحت زرین کے غلبے والے 51 کلوگرام وزن کے زمرے میں مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ لاس اینجلس اولمپکس میں تمغہ جیتنے کا اپنا خواب پورا کر سکیں۔
غیر اولمپک زمرہ 48 کلوگرام میں 2022 کے کامن ویلتھ گیمز کی گولڈ میڈلسٹ اور 2023 کی ورلڈ چیمپئن نیتو کو گزشتہ سال خواتین کی قومی چیمپئن شپ کے کوارٹر فائنل میں میناکشی ہوڈا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جنہوں نے بعد میں ورلڈ چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیتا۔
نیتو نے کہا کہ میراکشی سے ہارنا ایک طرح سے میرے لیے فائدہ مند ثابت ہوا۔ اگر میں جیت جاتی اور مجھے گولڈ میڈل مل جاتا تو میں مطمئن ہو جاتی اور شاید کبھی 51 کلوگرام زمرے میں نہ آتی۔ وہ شکست میرے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ اس کے بعد میں نے وزن کا زمرہ بدلنے کا فیصلہ کیا۔ یہ قدم نیتو نے طویل عرصے تک بین الاقوامی مقابلوں سے دور رہنے کے بعد اٹھایا۔ انہوں نے 2023 میں ورلڈ چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیتنے کے بعد کسی بھی بین الاقوامی مقابلے میں حصہ نہیں لیا ہے۔
نیتو کے لیے یہ تبدیلی بالکل نئی نہیں ہے۔ اس سے قبل انہوں نے ہانگژو ایشیائی کھیلوں اور پیرس اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے کی کوشش میں 54 کلوگرام زمرے میں بھی اپنی قسمت آزمائی تھی، لیکن انہیں پریتی پوار سے شکست ہوئی تھی۔
نیتو نے کہا کہ میں نے سوچا کہ میرے پاس پہلے ہی کامن ویلتھ گیمز کا گولڈ میڈل اور ورلڈ چیمپئن شپ کا خطاب ہے، اس لیے اب میری پوری توجہ اولمپکس پر ہے۔ میں اس نئے وزن کے زمرے میں خود کو پُراعتماد محسوس کر رہی ہوں اور کسی بھی طرح کے چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔
تاہم 51 کلوگرام زمرے میں کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ موجودہ قومی چیمپئن شپ کے فائنل میں نیتو کا مقابلہ دو مرتبہ کی ورلڈ چیمپئن نکحت زرین سے ہونے کا امکان ہے۔