نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے اقتصادی ترقی کی شرح سے متعلق وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان پر منگل کو ان پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عوام سے ’’جھوٹ بولنے کی صلاحیت‘‘ کے علاوہ اقتصادی محاذ پر کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام لوگ بے روزگاری، مہنگائی اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات سے پریشان ہیں، جبکہ حکومت مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کا جشن منا رہی ہے۔
وزیر اعظم مودی نے پیر کو اپریل سے جون کی سہ ماہی میں 7.8 فیصد جی ڈی پی کی شرح نمو کی تعریف کی تھی۔ ہندوستانی معیشت کی صورتحال پر سوال اٹھانے والوں پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا، ’’مایوس افراد ناکام ہوئے اور ہندوستان ایک بار پھر کھل اٹھا۔‘‘ انہوں نے کہا تھا کہ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران ہندوستان کی جی ڈی پی میں 7.8 فیصد اضافہ ایک ’’غیر معمولی کامیابی‘‘ ہے۔ کھرگے نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں مودی حکومت کی اقتصادی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عام آدمی ’’تین یو‘‘ یعنی غیر معمولی بے روزگاری، ناقابل برداشت مہنگائی اور بے لگام عدم مساوات سے دوچار ہے۔
کانگریس صدر نے دعویٰ کیا کہ بے روزگاری 50 سال کی بلند ترین سطح پر ہے اور 40 فیصد نوجوان گریجویٹ بے روزگار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جولائی 2026 میں 15 سے 29 سال کی عمر کے ہر چھ میں سے ایک نوجوان بے روزگار تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہر سال دو کروڑ روزگار فراہم کرنے کا وعدہ بھی پورا نہیں ہوا۔ کھرگے نے خوردہ مہنگائی کے معاملے پر بھی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خوردہ مہنگائی 19 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور چینی، پیاز، ٹماٹر، دال، خوردنی تیل، چاول اور دودھ جیسی روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں عام لوگوں پر بوجھ ڈال رہی ہیں۔ انہوں نے پٹرول، ڈیزل، ایل پی جی اور سی این جی کی قیمتوں کا بھی ذکر کیا۔ اقتصادی عدم مساوات پر الزام لگاتے ہوئے کھرگے نے کہا، ’’ملک میں اوپر کے ایک فیصد لوگوں کے پاس کل دولت کا 40 فیصد حصہ ہے، جبکہ نچلے 50 فیصد لوگوں کے پاس صرف 15 فیصد دولت ہے۔‘‘
کانگریس صدر نے حکومت پر ’’بے لگام دوست نواز سرمایہ داری‘‘ کو اقتصادی پالیسی بنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2014 کے بعد سے 16 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے کارپوریٹ قرض معاف کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے ایک میڈیا کاروباری کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 22,006 کروڑ روپے کے تسلیم شدہ دعووں کے مقابلے قرض دہندگان کو صرف 6.5 کروڑ روپے کی وصولی ہوئی۔
کھرگے نے وزیر اعظم پر ایک کاروباری دوست کے مفادات کے لیے کام کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی کی جانب سے ہندوستانی شہریوں سے سونا نہ خریدنے اور بیرون ملک سفر نہ کرنے کی اپیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تبصرے ملک کی ’’زمینی حقیقت‘‘ سے مختلف ہیں۔ کانگریس صدر نے کہا، ’’حقیقت یہ ہے کہ کچھ بھی نہیں بدلا، سوائے آپ (مودی) کی لوگوں سے جھوٹ بولنے کی صلاحیت کے۔‘‘