عدم تشدد اور باہمی رواداری ہندوستان کی روح ہے: وجے گویل

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 19-02-2026
عدم تشدد اور باہمی رواداری ہندوستان کی روح ہے: وجے گویل
عدم تشدد اور باہمی رواداری ہندوستان کی روح ہے: وجے گویل

 



نئی دہلی :انڈیا انٹرنیشنل سینٹر نئی دہلی میں انٹر فیتھ ہارمونی فاؤنڈیشن آف انڈیا اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے مشترکہ تعاون سے بین المذاہب ہم آہنگی کے موضوع پر ایک روزہ سمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس سمینار میں مختلف موضوعات پر تین سیشن منعقد ہوئے۔ افتتاحی سیشن بعنوان “اردو: بین المذاہب ہم آہنگی اور مشترکہ ثقافتی ورثے کی زبان” کی صدارت پروفیسر قاضی عبید الرحمٰن ہاشمی نے کی جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر وجے گویل شریک ہوئے۔ اس موقع پر ڈاکٹر شمس اقبال ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد فیروز بخت احمد اور خورشید ربانی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ نظامت جاوید رحمانی نے انجام دی اور کلمات تشکر فوزان احمد خواجہ نے پیش کیے۔

ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی زبانوں میں ایک مخصوص تہذیبی رنگ پایا جاتا ہے اور اردو ایک مشترکہ وراثت کی زبان ہے جو بین المذاہب ہم آہنگی اور حب الوطنی کے جذبے کو فروغ دیتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف مذاہب کو آزادی حاصل ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔

ڈاکٹر شمس اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس موضوع کا تعلق صرف زبان و ادب تک محدود نہیں بلکہ سماجی مباحث سے بھی گہرا ربط رکھتا ہے۔ اردو نے ابتدا سے ہی ہندوستانیت اور تہذیبی شناخت کو مرکز میں رکھا ہے۔ انہوں نے اردو ناولوں اور شعری روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں ہندوستانی مشترکہ تہذیب کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔

مہمان خصوصی وجے گویل نے کہا کہ مذہب کی بنیاد تعلیم اور اخلاقیات پر قائم ہے اور ہمیں اپنے بڑوں کی مثبت تعلیمات کو اپنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب سچائی اور عدم تشدد کا درس دیتا ہے اور اس کے نام پر اختلاف اور تصادم درست نہیں۔ ان کے مطابق اردو خالص ہندوستانی زبان ہے جو یہیں پروان چڑھی اور کسی ایک طبقے کی ملکیت نہیں بلکہ سب کی مشترکہ زبان ہے۔

صدارتی خطاب میں پروفیسر قاضی عبید الرحمٰن ہاشمی نے کہا کہ اردو ایک لنگوا فرینکا کے طور پر مشترکہ تہذیب و ثقافت کے فروغ میں ہمیشہ اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ انہوں نے فلمی دنیا اور صوفی خانقاہوں پر اردو کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے قومی کونسل کی سرگرمیوں کو سراہا اور منتظمین کو مبارکباد پیش کی۔

فیروز بخت احمد نے کہا کہ اردو مذہب کی نہیں بلکہ وطن کی زبان ہے اور اس کے ادیب و شعرا مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں جو مشترکہ تہذیب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ خورشید ربانی نے کہا کہ اردو ٹی وی صحافت نے مشترکہ تہذیب کے فروغ اور سماجی فضا کو بہتر بنانے میں اہم خدمات انجام دی ہیں۔

دوسرے سیشن کا موضوع “میڈیا اور عوامی مباحثے میں بین المذاہب اخلاقیات” تھا جس میں جسٹس اقبال احمد انصاری بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے جبکہ ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد ڈاکٹر دنیش دوبے ایم ودود ساجد اور محمد وجیہ الدین نے اپنے خیالات پیش کیے۔ نظامت ڈاکٹر آیوشی کیتکر نے کی۔

جسٹس اقبال احمد انصاری نے کہا کہ ہمیں صرف آدمی نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں انسان بننے کی ضرورت ہے اور بین المذاہب ہم آہنگی کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو نقصان نہ پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک کثیر لسانی مذہبی اور تہذیبی ملک ہے اس لیے یہاں بین المذاہب مکالمے کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

ڈاکٹر دنیش دوبے نے کہا کہ تہذیب کی روشنی مذہب سے وابستہ رہی ہے اور مختلف مذاہب کی تعلیمات میں محبت اور روحانیت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ایم ودود ساجد نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانیت کے تصور کو واضح کیا۔ محمد وجیہ الدین نے میڈیا کی ذمہ داریوں اور اس کے مثبت کردار پر روشنی ڈالی۔

اختتامی سیشن بعنوان “بین المذاہب روایات اور بھارت کا مشترکہ ثقافتی ورثہ” کی صدارت پروفیسر خواجہ عبد المنتقم نے کی جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر پروفیسر محمد افشار عالم شریک ہوئے۔ اس سیشن میں ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد ڈاکٹر شمس اقبال پروفیسر دویہ تنور پروفیسر محمد قطب الدین پروفیسر ذاکر خان ذاکر اور فائنان احمد خواجہ بطور پینلسٹ شریک ہوئے۔ نظامت ڈاکٹر آمنہ مرزا نے انجام دی۔

پروفیسر محمد افشار عالم نے کہا کہ ہندوستان ایک روحانی سرزمین ہے اور اس کا مشترکہ ثقافتی ورثہ نہایت ثروت مند ہے۔ انہوں نے صوفیوں اور رشی منیوں کی تعلیمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اخلاق ہم آہنگی اور باہمی احترام کو عملی زندگی میں فروغ دینا چاہیے۔

صدارتی خطاب میں پروفیسر خواجہ عبد المنتقم نے کہا کہ ہمارا ملک ہمیشہ سے مشترکہ تہذیب کا گہوارہ رہا ہے جہاں تنوع کے باوجود باہمی احترام اور ہم آہنگی کی روایت قائم ہے۔ مختلف مقررین نے ہندوستان کی تہذیبی تاریخ اور مشترکہ ثقافتی ورثے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور بین المذاہب مکالمے کو تعلیمی اداروں تک فروغ دینے پر زور دیا۔

سمینار کا اختتام ڈاکٹر شمس اقبال کے اختتامی کلمات اور اظہار تشکر پر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی کا پیغام ملک کے کونے کونے تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور قومی اردو کونسل اس سمت میں مسلسل سرگرم عمل ہے۔