نئی دہلی: ملک کے چیف جسٹس آف انڈیا، جسٹس سوریہ کانت، پیر کے روز ایک معاملے کی سماعت کے دوران ایک وکیل کے بیان پر سخت ناراض ہو گئے اور تقریباً ڈانٹتے ہوئے انہیں خبردار کیا کہ ان کی عدالت میں ایسی بدتمیزی برداشت نہیں کی جائے گی۔
درحقیقت سینئر وکیل میتھیوز نیدم پَرا نے چیف جسٹس کی بنچ کے سامنے کہا کہ ایک عرضی دائر کی گئی تھی جس میں عدلیہ کے کالجیم سسٹم کو چیلنج کیا گیا تھا اور ججوں کی تقرری کے لیے نیشنل جوڈیشل اپائنٹمنٹ کمیشن (این جے اے سی) کو نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایسی کوئی عرضی رجسٹر نہیں ہے۔
اس پر وکیل نیدم پَرا نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا، "اڈانی اور امبانی کے لیے آئینی بنچیں تشکیل دی جاتی ہیں اور عام لوگوں سے جڑے مسائل پر سماعت ہی نہیں ہوتی۔" لائیو لا کی ایک رپورٹ کے مطابق، وکیل کے اس بیان سے چیف جسٹس ناراض ہو گئے اور فوراً نیدم پَرا کو وارننگ دیتے ہوئے کہا،مسٹر نیدم پَرا، آپ میری عدالت میں جو کچھ کہہ رہے ہیں، سوچ سمجھ کر کہیے۔
آپ نے مجھے چندی گڑھ میں بھی دیکھا ہے، دہلی میں بھی... یہ مت سمجھیے کہ جس طرح آپ دوسری بنچوں کے ساتھ بدتمیزی کرتے رہے ہیں، ویسے ہی آپ میری عدالت میں بھی بدتمیزی کریں گے۔ میں آپ کو خبردار کرتا ہوں۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ سال 2024 میں سپریم کورٹ کے رجسٹری شعبے نے نیدم پَرا کی عرضی کو رجسٹر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
رجسٹری کا کہنا تھا کہ نیشنل جوڈیشل اپائنٹمنٹ کمیشن کے معاملے پر پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے، اس لیے اسی موضوع پر نئی عرضی قابل سماعت نہیں ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی جج نے نیدم پَرا پر ناراضگی ظاہر کی ہو۔ گزشتہ سال اس وقت کے چیف جسٹس سنجیو کھنہ نے بھی انہیں سرزنش کی تھی۔ جسٹس سنجیو کھنہ نے کہا تھا،عدالت میں سیاسی تقریر مت کیجیے۔