نئی دہلی: انتخابی اصلاحات کے لیے کام کرنے والی تنظیم ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) کی رپورٹ کے مطابق 2026 کے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) انتخابات میں کامیاب ہونے والے تقریباً ایک چوتھائی امیدواروں نے اپنے انتخابی حلف ناموں میں اپنے خلاف فوجداری مقدمات درج ہونے کا انکشاف کیا ہے، جبکہ تقریباً 80 فیصد امیدوار کروڑ پتی ہیں۔ اے ڈی آر نے تمام 227 کامیاب امیدواروں کے حلف ناموں کا تجزیہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق 54 امیدواروں (24 فیصد) نے اپنے خلاف فوجداری مقدمات کی موجودگی ظاہر کی، جب کہ 29 امیدواروں (13 فیصد) پر سنگین نوعیت کے الزامات ہیں۔ یہ اعداد و شمار ’مہاراشٹر الیکشن واچ‘ کے تعاون سے بی ایم سی انتخابات کے دوران جمع کرائے گئے حلف ناموں کی بنیاد پر مرتب کیے گئے۔ جماعتی بنیادوں پر تجزیے سے معلوم ہوا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے 33 فیصد کامیاب امیدواروں نے اپنے خلاف مقدمات ظاہر کیے۔
اس کے بعد شیوسینا کے 24 فیصد اور شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے 15 فیصد امیدواروں نے فوجداری مقدمات کی تفصیل دی۔ مالی حیثیت کے حوالے سے بھی رپورٹ میں خوشحال امیدواروں کی نمایاں موجودگی سامنے آئی ہے۔ اے ڈی آر کے مطابق 227 میں سے تقریباً 180 کامیاب امیدوار (یعنی 79 فیصد) نے ایک کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کا اعلان کیا، جبکہ کامیاب امیدواروں کی اوسط دولت 7.18 کروڑ روپے ریکارڈ کی گئی۔
جماعتی سطح پر دیکھا جائے تو بی جے پی کے 76 فیصد، شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے 83 فیصد، شیوسینا کے 93 فیصد اور کانگریس کے 92 فیصد کامیاب امیدوار کروڑ پتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق منتخب ہونے والے کونسلروں میں 60 فیصد خواتین شامل ہیں، جبکہ تقریباً 70 فیصد کی عمر 41 سے 70 سال کے درمیان ہے۔ تقریباً نصف کامیاب امیدواروں نے گریجویشن یا اس سے اعلیٰ تعلیمی قابلیت ظاہر کی ہے۔