نئی دہلی: سپریم کورٹ نے عدلیہ میں بدعنوانی سے متعلق ایک کتاب میں شامل مواد کے معاملے پر اہم تبصرہ کیا ہے۔ عدلیہ سے متعلق نصابی کتاب کے ایک باب پر ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ وہ کسی کو بھی ادارے کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
کلاس 7 کی این سی ای آر ٹی کی نصابی کتاب کے اس مواد سے جڑے تنازع کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے چیف جسٹس سوریا کانت نے کہا، میں کسی کو بھی ادارے کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔ قانون اپنا کام کرے گا۔ اس معاملے میں عدالت کے سامنے پیش ہونے والے سینئر وکیل اور راجیہ سبھا کے رکن کپل سبل نے کہا، این سی ای آر ٹی آٹھویں جماعت کے طلبہ کو عدالتی بدعنوانی کے بارے میں پڑھا رہی ہے۔ یہ ایک سنگین تشویش کا موضوع ہے۔
بھارت کے چیف جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی پر مشتمل بنچ کے سامنے سینئر وکیل کپل سبل نے مؤقف اختیار کیا کہ ’’آٹھویں جماعت کے بچوں کو عدلیہ میں بدعنوانی کے بارے میں پڑھایا جا رہا ہے۔ یہ ایک سنگین تشویش کا موضوع ہے۔‘‘ چیف جسٹس نے کہا، ’’میں کسی کو بھی ادارے کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔ قانون اپنا کام کرے گا۔‘
‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ادارے کے سربراہ کے طور پر میں نے اپنا فرض ادا کیا ہے اور اس کا نوٹس لیا ہے... یہ ایک سوچا سمجھا قدم معلوم ہوتا ہے۔ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا۔‘‘ جسٹس باگچی نے ریمارکس دیے کہ یہ کتاب آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف معلوم ہوتی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا، ’’براہِ کرم چند دن انتظار کریں۔ وکلا اور جج صاحبان سب پریشان ہیں۔ تمام ہائی کورٹ کے جج بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔ میں اس معاملے کو ازخود نوٹس کے تحت لوں گا۔ میں کسی کو بھی ادارے کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔ قانون اپنا کام کرے گا۔‘‘ بعد ازاں جسٹس کانت نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لے لیا ہے۔
آٹھویں جماعت کے لیے این سی ای آر ٹی کی نئی سماجی علوم کی نصابی کتاب کے مطابق بدعنوانی، زیر التوا مقدمات کا بھاری بوجھ اور ججوں کی ناکافی تعداد عدالتی نظام کو درپیش ’’چیلنجز‘‘ میں شامل ہیں۔ نئی کتاب کے ’’عدلیہ میں بدعنوانی‘‘ کے عنوان سے حصے میں کہا گیا ہے کہ جج ایک ضابطۂ اخلاق کے پابند ہوتے ہیں، جو نہ صرف عدالت میں ان کے رویے کو منظم کرتا ہے بلکہ عدالت کے باہر ان کے طرزِ عمل کو بھی قابو میں رکھتا ہے۔