سرینگر: جموں و کشمیر کی سابق خصوصی حیثیت کی منسوخی کے سات سال مکمل ہونے پر بدھ کے روز برسراقتدار نیشنل کانفرنس (این سی) کے رہنماؤں نے سرینگر میں احتجاج کرتے ہوئے آرٹیکل 370 اور سابق ریاست کی خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ وزیر سکینہ ایتو کی قیادت میں نیشنل کانفرنس کے متعدد رہنما، ارکانِ اسمبلی اور کارکن پارٹی ہیڈکوارٹر نواۓ صبح میں جمع ہوئے اور احتجاجی مارچ نکالا۔
مظاہرین آرٹیکل 370 اور خصوصی حیثیت کے حق میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے۔ انہوں نے پارٹی دفتر سے باہر مارچ نکالنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی۔ تعلیم اور سماجی بہبود کی وزیر سکینہ ایتو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہماری خصوصی حیثیت اور وہ حقوق، جو ہم سے چھین لیے گئے تھے، ہمیں واپس کیے جائیں۔ ہماری جماعت تب سے اپنے حقوق کی بحالی کے لیے پُرامن احتجاج کر رہی ہے۔"
انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کا مطالبہ ہے کہ جموں و کشمیر کو حاصل تمام آئینی حقوق اور ضمانتیں بحال کی جائیں۔ سکینہ ایتو نے مزید کہا، "ہم نے اسمبلی میں دو تہائی اکثریت سے ایک قرارداد منظور کی، جبکہ کابینہ نے بھی ایک قرارداد منظور کرکے مرکزی حکومت کو بھیج دی ہے، تاکہ عوام کی آواز ان تک پہنچے اور جو حقوق ہم سے چھین لیے گئے ہیں، وہ واپس کیے جائیں۔" واضح رہے کہ جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت دینے والا آرٹیکل 370 سال 2019 میں منسوخ کر دیا گیا تھا۔