نئے پرانے چراغ: اردو کی ادبی محفلیں اپنی رونق برقرار رکھے ہوئے ہیں، نئی اصناف پر مزید تحقیق کی ضرورت

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 30-08-2026
نئے پرانے چراغ: اردو کی ادبی محفلیں اپنی رونق برقرار رکھے ہوئے ہیں، نئی اصناف پر مزید تحقیق کی ضرورت
نئے پرانے چراغ: اردو کی ادبی محفلیں اپنی رونق برقرار رکھے ہوئے ہیں، نئی اصناف پر مزید تحقیق کی ضرورت

 



 نئی دہلی،: اردو کی ادبی محفلوں کے مستقبل کے حوالے سے بعض خدشات کے باوجود اردو اکادمی، دہلی کے مسلسل ادبی پروگرام اس بات کا ثبوت ہیں کہ اردو زبان و ادب سے وابستگی آج بھی مضبوط اور توانا ہے۔ ’’نئے پرانے چراغ‘‘ جیسے پروگرام نہ صرف نئی نسل کے ریسرچ اسکالرز اور تخلیق کاروں کو سینئر اہلِ قلم سے استفادہ کا موقع فراہم کر رہے ہیں بلکہ اردو تحقیق کے نئے موضوعات اور ہندوستانی ادبی روایت کے مختلف سرچشموں کی جانب بھی توجہ مبذول کرا رہے ہیں۔

معروف ادیب و ماہرِ تعلیم پروفیسر شمیم احمد نے کہا کہ اردو اکادمی ہر سال ایسے پروگرام منعقد کرکے ان خدشات کی نفی کرتی ہے کہ اردو کی ادبی محفلیں اپنی رونق کھو رہی ہیں، جبکہ پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے کہا کہ ’’نئے پرانے چراغ‘‘ جیسا قدیم، معروف اور مقبول ادبی پروگرام کسی دوسری اکادمی کے پاس نہیں ہے۔ انہوں نے اردو کے درست لب و لہجے، تلفظ اور سنسکرت، فارسی و عربی سمیت ہندوستانی ادبی روایت کے اہم سرچشموں کے مزید مطالعے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام جاری پانچ روزہ ادبی اجتماع ’’نئے پرانے چراغ‘‘ کے دوسرے دن کا پہلا تنقیدی و تحقیقی اجلاس آج صبح 10 بجے اکادمی کے قمر رئیس سلور جوبلی آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت پروفیسر خواجہ اکرام الدین، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اور پروفیسر شمیم احمد، سینٹ اسٹیفنس کالج، دہلی یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر کی، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر ترنم جبیں نے انجام دیے۔

اجلاس میں دہلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے وابستہ ریسرچ اسکالرز نے مختلف ادبی شخصیات، اصناف اور موضوعات پر اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے۔ جناب سجاد الرحمٰن نے ’’صلاح الدین پرویز نظم: ایک منفرد شعری لہجہ‘‘، محترمہ امانہ ساجد نے ’’بیگم انیس قدوائی کے خاکوں کا فنی و فکری جائزہ‘‘، محترمہ عارفہ ناز نے ’’سید محمد اشرف کے ناولوں میں تہذیبی زوال کا احساس‘‘، جناب محمد صادق نے ’’اقبال مجید کے افسانوں میں خواتین کے مسائل کی عکاسی‘‘، جناب فواد رشید نے ’’منظر سلیم کی ناول نگاری کا اجمالی جائزہ‘‘ اور محترمہ وسیمہ اختر نے ’’ترنم ریاض کا افسانوی مجموعہ ’مرا رخت سفر‘ میں عصری مسائل‘‘ کے موضوعات پر مقالات پیش کیے۔

محترمہ شزا سہیل نے ابن کنول کے افسانے ’’سوئٹ ہوم‘‘، جناب سید معین الدین نے نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ کی اردو شاعری، اسمہ خاتون نے سدرشن کے افسانے ’’ہار کی جیت‘‘، محترمہ طوبیٰ الماس نے اردو شاعری پر سبع معلقات کے اثرات، جبکہ جناب افراز خان نے نند کشور وکرم بحیثیت ناول نگار، ناول ’’یادوں کے کھنڈر‘‘ کی روشنی میں اپنے تحقیقی مقالے پیش کیے۔

مقالات کی پیشکش کے بعد پروفیسر شمیم احمد نے اردو اکادمی کی ادبی و تحقیقی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ کبھی کبھی یہ احساس ہوتا ہے کہ اردو کی ادبی محفلیں شاید اپنی رونق برقرار نہ رکھ سکیں، لیکن اردو اکادمی ہر سال ایسے پروگرام منعقد کرکے اس خدشے کی نفی کرتی ہے۔ انہوں نے ریسرچ اسکالرز کے لیے اکادمی کی خدمات کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’نئے پرانے چراغ‘‘ جیسے پروگراموں نے متعدد اسکالرز کو سینئر اہلِ قلم سے متعارف ہونے اور ان سے استفادہ کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

پروفیسر شمیم احمد نے اجلاس میں پیش کیے گئے موضوعات کو متنوع قرار دیتے ہوئے کہا کہ خاکہ، ناول، افسانہ، شاعری اور عربی شاعری سمیت مختلف اصناف اور ادبی شخصیات پر گفتگو اس اجلاس کی وسعتِ نظر کی عکاس ہے۔

پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے اردو اکادمی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک میں متعدد ادبی اکادمیاں کام کر رہی ہیں، لیکن ’’نئے پرانے چراغ‘‘ جیسا قدیم، معروف اور مقبول ادبی پروگرام کسی دوسری اکادمی کے پاس نہیں ہے۔ انہوں نے ریسرچ اسکالرز کو مشورہ دیا کہ اگرچہ فکشن کے میدان میں بہت کام ہو رہا ہے، تاہم ادب کی متعدد اصناف ایسی ہیں جن پر ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

انہوں نے معیاری اردو بولنے کے لیے درست لب و لہجے اور تلفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشرقی شعریات کے حوالے سے بھی مزید کام کیا جانا چاہیے۔ ہندوستانی ادبی روایت کے اہم سرچشموں، خصوصاً سنسکرت، فارسی اور عربی کے مطالعے کو بھی تحقیق کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔

اجلاس کے اختتام پر اردو اکادمی کے سکریٹری جناب لیکھ راج نے اردو زبان کی اہمیت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو ایک ایسی وسیع اور گہری زبان ہے جو انسان کی زندگی کو سمجھنے اور جینے کا سلیقہ عطا کرتی ہے۔ انہوں نے دہلی کی تاریخی و تہذیبی وراثت، خصوصاً شاہجہان آباد کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس بھرپور ورثے کو نئی نسل اور دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں اردو زبان کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ظہرانے کے بعد دوسرے دن کا پہلا تخلیقی اجلاس دوپہر ڈھائی بجے منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت پروفیسر شاہینہ تبسم، ڈاکٹر نعیمہ جعفری پاشا اور پروفیسر متھن کمار نے مشترکہ طور پر کی، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر فرمان چودھری نے انجام دیے۔

تخلیقی اجلاس میں محترمہ رخشندہ روحی نے افسانہ ’’ابھی کمبخت دل دھڑکتا ہے‘‘، ڈاکٹر شعیب رضا خاں وارثی نے انشائیہ ’’زین جی‘‘، ڈاکٹر طاہرہ منظور نے افسانہ ’’استحصال‘‘، ڈاکٹر ذاکر فیضی نے ’’اسٹوری میں دم نہیں ہے‘‘، ڈاکٹر ابراہیم افسر نے انشائیہ ’’میں پتنگ ہوں‘‘، جناب تاج الدین محمد نے افسانہ ’’بے روزگاری‘‘ اور جناب نشاط حسن نے افسانہ ’’سہارا‘‘ پیش کیا۔

محترمہ مسرت جہاں نے ’’نگاہوں کی اذیت‘‘، جناب شاہنواز نے ’’نوریٹائرمنٹ‘‘، محترمہ عزہ معین نے ’’خوب تر کی تلاش‘‘، محترمہ میسرہ اختر نے ’’چنار کے سائے میں‘‘، محترمہ سرتاج پروین شبینہ نے ’’اردھانگنی‘‘ اور جناب فیصل ہاشمی نے ’’نرگس‘‘ کے عنوان سے اپنی تخلیقات پیش کیں۔

تخلیقات پر گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر متھن کمار نے کہا کہ تخلیقی اجلاس میں پیش کی گئی تمام تحریریں موجودہ منظرنامے اور عصرِ حاضر کے حالات سے متاثر تھیں۔ تخلیق کاروں نے اپنی تحریروں میں موجودہ دور کے مسائل، انسانی زندگی کے درد و کرب اور معاشرتی صورتِ حال کی مختلف جہتوں کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک کامیاب تخلیق کار وہی ہوتا ہے جو اپنی تخلیق کے ذریعے قاری کو محض محظوظ نہ کرے بلکہ اسے سوچنے پر بھی مجبور کرے۔

ڈاکٹر نعیمہ جعفری پاشا نے تمام تخلیق کاروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی کاوشوں کو سراہا اور عصرِ حاضر کے مسائل و انسانی احساسات کی مؤثر ترجمانی پر ان کی حوصلہ افزائی کی۔

پروفیسر شاہینہ تبسم نے ’’نئے پرانے چراغ‘‘ کے پس منظر اور بنیادی مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 26 برس قبل شروع ہونے والا یہ پروگرام آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’نئے چراغ‘‘ سے مراد نئی نسل کے اسکالرز اور تخلیق کار ہیں، جنہیں تحقیق، تخلیق اور شعری اظہار کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے ایک مؤثر ادبی اسٹیج فراہم کرنا اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ افتتاحی اجلاس کے مہمانِ اعزازی جناب انیس عباسی، صدر، بی جے پی دہلی اسٹیٹ اقلیتی مورچہ، اپنی مصروفیات کے باعث افتتاحی اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے تھے، تاہم انہوں نے افتتاحی اجلاس کے بعد منعقدہ مشاعرے میں شرکت کی۔ انہوں نے اردو کے فروغ کے لیے حکومتِ ہند اور حکومتِ دہلی کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے ’’نئے پرانے چراغ‘‘ کی معنویت پر روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق پرانے چراغ ہماری تہذیبی وراثت اور روایات کی علامت ہیں، جبکہ نئے چراغ آنے والی نسل کی نئی سمتوں اور امکانات کی نمائندگی کرتے ہیں۔

تخلیقی اجلاس کے بعد شام چھ بجے مشاعرہ شروع ہوا، جس کی صدارت جناب وقار مانوی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض پروفیسر رحمن مصور نے انجام دیے۔ مشاعرے میں شہر کے معروف و ممتاز شعرا کے علاوہ نوجوان شعرا نے بھی شرکت کی اور اپنا منتخب کلام پیش کرکے سامعین کو محظوظ کیا۔