وہ سی ای ٹی آئی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منعقدہ "نسیم عارفی اردو میڈیا ایوارڈ 2025" تقریب سے خطاب کر رہے تھے جو میڈیا اکیڈمی نامپلی حیدرآباد میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر سینئر صحافی معصوم مرادآبادی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا جبکہ ڈاکٹر یامین انصاری، روہینی سنگھ، فضل بیگ اور فوٹو جرنلسٹ محمد علیم الدین کو بھی نسیم عارفی ایوارڈ پیش کیے گئے۔
ڈاکٹر اوصاف سعید نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ نوجوان صحافیوں کی حوصلہ افزائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو دیے جانے والے یہ اعزاز دراصل ان کی خدمات کا اعتراف ہیں۔ انہوں نے مرحوم نسیم عارفی کی صحافتی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اردو صحافت کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے ممتاز صحافی معصوم مرادآبادی کو "حافظ صحافت" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اردو صحافت کی تاریخ اور اس سے وابستہ شخصیات پر ان کی گہری نظر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ اردو صحافت کو آج مختلف چیلنجز کا سامنا ہے اور قارئین کی تعداد میں کمی آئی ہے لیکن الیکٹرانک میڈیا کے اس دور میں بھی پرنٹ میڈیا کی اہمیت برقرار ہے۔
سی ای ٹی آئی فاؤنڈیشن کے بانی سید بشارت علی نے تمام مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے ایوارڈ یافتگان کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ فاؤنڈیشن اردو صحافیوں کی خدمات کے اعتراف کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہے۔
تلنگانہ میڈیا اکیڈمی کے چیئرمین سرینواس ریڈی نے کہا کہ عابد علی خاں اور نسیم عارفی اردو صحافت کی یادگار شخصیات ہیں جنہوں نے اس شعبہ کو بام عروج تک پہنچایا۔ انہوں نے سی ای ٹی آئی فاؤنڈیشن کی خدمات کو سراہتے ہوئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔
ممتاز ماہر معاشیات ڈاکٹر عامر اللہ خان نے تقریب کی نظامت کرتے ہوئے نسیم عارفی کی صحافتی خدمات کو یاد کیا اور کہا کہ انہوں نے ہمیشہ عوامی مفادات کو ترجیح دی۔
لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ حاصل کرنے والے سینئر صحافی معصوم مرادآبادی نے کہا کہ صحافت اب صرف پروفیشن نہیں بلکہ کمیشن بھی بنتی جا رہی ہے جو تشویش ناک رجحان ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت میں دیانت داری اور محنت بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور کامیابی کے لیے مسلسل جدوجہد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی سماجی اقدار کے محافظ ہوتے ہیں اور انہیں ذمہ داری کے ساتھ اپنی خدمات انجام دینی چاہئیں۔
ریزیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ انقلاب ڈاکٹر یامین انصاری نے کہا کہ یہ ایوارڈ صحافتی خدمات کے اعتراف کے ساتھ مزید ذمہ داریوں کا احساس بھی دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو صحافت نے ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے اسے مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
ایوارڈ یافتہ صحافی روہینی سنگھ نے اردو زبان کو مذہب سے نہ جوڑنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اردو پورے ملک کی مشترکہ زبان ہے۔ انہوں نے اردو سیکھنے کے اپنے تجربات بیان کیے اور اردو کے بہتر سافٹ ویئر اور آن لائن ڈکشنری کی ضرورت پر زور دیا۔
پروفیسر احتشام نے کہا کہ ایوارڈ کے لیے درخواستوں کا انتخاب انتہائی شفاف انداز میں کیا گیا۔ انہوں نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں فلم میکنگ کورس شروع کیے جانے کی بھی اطلاع دی اور کہا کہ اردو صحافیوں کی خدمات کا اعتراف وقت کا تقاضہ ہے۔
تقریب میں ڈاکٹر اوصاف سعید اور سرینواس ریڈی کے ہاتھوں مختلف صحافتی اور سماجی شخصیات کی تہنیت بھی کی گئی۔ اس موقع پر صحافیوں، دانشوروں، اساتذہ، ڈاکٹروں، انجینئروں اور سماج کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔