ناگپور۔: ان کی خواہش پر تاج باغ میں سی بی ایس ای طرز کا اسکول قائم کیا جا رہا ہے تاکہ غریب بچوں کو معیاری تعلیم میسر ہوسکے۔ اسی طرح بابا تاج الدینؒ کی درگاہ کے اطراف غریبوں کے لیے جدید اسپتال اور بچوں کے لیے کھیل کا میدان بھی تعمیر ہوگا۔ رکن پارلیمنٹ فنڈ سے کھیلوں کے فروغ کے لیے 50 لاکھ روپے بھی منظور کیے جا چکے ہیں۔
یہ بات مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں نتن گڈکری نے حضرت بابا تاج الدینؒ کے 104ویں سالانہ عرس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ بابا تاج الدینؒ کی تعلیمات مذہبی ہم آہنگی، انسان دوستی اور غریبوں کی خدمت کا عملی نمونہ ہیں اور انہی اقدار کو آگے بڑھانا وقت کی ضرورت ہے۔
نتن گڈکری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت بابا تاج الدینؒ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ ہر مذہب اور ہر طبقے کے لوگ ان سے عقیدت رکھتے تھے اور آج بھی دنیا بھر سے زائرین ان کی درگاہ پر حاضری دینے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں درگاہ کے احاطے کی ترقی اور تزئین و آرائش کے لیے مہاراشٹر حکومت نے تقریباً 200 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں، جس سے اس تاریخی مقام کی شکل مکمل طور پر تبدیل ہو گئی ہے۔
.webp)
انہوں نے کہا کہ جب ترقیاتی کام شروع ہوئے تھے تو انہوں نے ٹرسٹ کے ذمہ داران کو واضح طور پر کہا تھا کہ "بابا کے نام پر آنے والی ایک ایک پائی امانت ہے۔ اگر کوئی اس رقم میں خیانت کرے گا تو اس کا کبھی بھلا نہیں ہوگا۔" ان کے مطابق یہ رقم بابا کے عقیدت مندوں کی سہولت، عوامی فلاح اور اس مقدس مقام کی ترقی کے لیے استعمال ہونی چاہیے۔
اپنے خطاب میں گڈکری نے تعلیم کو سماجی ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی نگرانی میں قائم ہونے والا انجینئرنگ کالج انجمن اسلام مسلم تنظیم کے حوالے کیا تاکہ مسلم نوجوان جدید تعلیم حاصل کرکے بہتر مستقبل بنا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب مسلم نوجوانوں کے لیے روزگار کے محدود مواقع تھے، لیکن آج اسی ادارے سے فارغ ہونے والے ہزاروں طلبہ انجینئر بن کر ملک و قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی خواہش پر یہاں سی بی ایس ای طرز کا اسکول قائم کیا جا رہا ہے تاکہ غریب بچوں کو معیاری تعلیم میسر آسکے۔ اسی طرح بابا تاج الدینؒ کی درگاہ کے اطراف غریبوں کے لیے جدید اسپتال اور بچوں کے لیے کھیل کا میدان بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رکن پارلیمنٹ فنڈ سے کھیلوں کے فروغ کے لیے 50 لاکھ روپے بھی منظور کیے جا چکے ہیں۔
.webp)
نتن گڈکری نے کہا کہ چند برس پہلے درگاہ کے اطراف منشیات اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی شکایات عام تھیں۔ انہوں نے اس وقت پولیس کو سخت ہدایات دیتے ہوئے کہا تھا کہ بابا تاج الدینؒ کی مقدس سرزمین پر کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج خوشی کی بات ہے کہ علاقے کا ماحول پہلے کے مقابلے میں کافی بہتر ہو چکا ہے اور خواتین بھی زیادہ محفوظ محسوس کرتی ہیں۔
انہوں نے درگاہ سے وابستہ خدمت گزاروں اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے دوران ان کے روزگار کا بھی خیال رکھا گیا تاکہ کسی کا ذریعہ معاش متاثر نہ ہو۔ ان کے مطابق ترقی کا اصل مقصد عوام کی زندگی بہتر بنانا ہے، نہ کہ کسی کو بے روزگار کرنا۔
مرکزی وزیر نے حضرت بابا تاج الدینؒ کی عالمی مقبولیت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ دنیا بھر سے عقیدت مند یہاں حاضر ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ معروف فلم اداکار سنجے خان بھی صرف بابا تاج الدینؒ کی درگاہ پر حاضری دینے کے لیے ناگپور آئے تھے، جبکہ ماضی میں کئی بین الاقوامی کرکٹر اور پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے ارکان بھی یہاں حاضری دے چکے ہیں۔
خطاب کے اختتام پر نتن گڈکری نے دعا کی کہ حضرت بابا تاج الدینؒ کی برکت سے ملک سے غربت، بھوک، بے روزگاری، بدعنوانی اور دہشت گردی کا خاتمہ ہو، نوجوانوں کو بہترین تعلیم اور روزگار میسر آئے، بزرگوں کو بہتر علاج کی سہولت حاصل ہو اور خواتین کی عزت و سلامتی ہر حال میں یقینی بنائی جائے۔انہوں نے 104ویں سالانہ عرس کے موقع پر تمام عقیدت مندوں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت بابا تاج الدینؒ کی تعلیمات آج بھی انسانیت، خدمت، اخوت اور مذہبی ہم آہنگی کا روشن پیغام دیتی ہیں اور یہی پیغام معاشرے کو مضبوط اور متحد بنا سکتا ہے۔
گڈکری صاحب نے کایا پلٹ دی
حضرت بابا تاج الدین ٹرسٹ کے چیئرمین پیارے خان نے مرکزی وزیر نتن گڈکری کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے ٹرسٹ کی ذمہ داری سنبھالی تھی تو ٹرسٹ 65 لاکھ روپے کے خسارے میں تھا لیکن آج یہی ٹرسٹ 31 کروڑ روپے کے سرپلس کے ساتھ مضبوط مالی بنیادوں پر کھڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ نتن گڈکری کو صرف مہاراشٹر یا ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا ان کی عوامی خدمات کی وجہ سے جانتی ہے۔ انہوں نے حاضرین سے اپیل کی کہ وہ زور دار تالیاں بجا کر مرکزی وزیر کا خیر مقدم کریں تاکہ اس کی گونج دہلی ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان اور دنیا تک پہنچے۔
پیارے خان نے کہا کہ نتن گڈکری کی خدمات کا احاطہ چند الفاظ میں ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب گڈکری پہلی مرتبہ تاج باغ آئے تو اس وقت یہاں منشیات فروشی۔ جوا۔ سٹہ بازی اور دیگر جرائم سے متعلق متعدد شکایات ان تک پہنچیں۔ اس پر گڈکری نے انہیں حضرت بابا تاج الدین ٹرسٹ کا چیئرمین مقرر کرتے ہوئے کہا کہ تاج باغ کے ماحول کو صاف ستھرا اور مثالی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ذمہ داری سنبھالنے کے بعد ٹرسٹ کی مالی اور انتظامی حالت میں نمایاں بہتری آئی۔ ان کے مطابق گڈکری کو اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ کس کام کے لیے کس شخص کا انتخاب کرنا چاہیے۔
پیارے خان نے بتایا کہ گڈکری کی ہدایت پر تاج باغ میں ایسا لنگر قائم کیا گیا جہاں روزانہ تقریباً 5 ہزار ضرورت مند افراد کو مفت کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ان کی خواہش پر ایک اسپتال بھی قائم کیا گیا جبکہ ان کا خواب ہے کہ مستقبل میں یہاں غریبوں کے لیے 400 بستروں پر مشتمل جدید اسپتال قائم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ گڈکری نے ٹرسٹ کو ایک ایمبولینس بھی فراہم کرائی تاکہ ضرورت مند مریضوں کو فوری طبی سہولت مل سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گڈکری نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے درخواست کی کہ یہاں کے بچوں کی تعلیم کے لیے کالج منظور کیے جائیں جس پر حکومت نے تاج باغ کے لیے تین کالجوں کی منظوری دی۔
پیارے خان کے مطابق گڈکری نے بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو کم کرنے کے لیے شمسی توانائی کا نظام نصب کرنے کی تجویز دی۔ اس سلسلے میں باون کلے نے اپنے فنڈ سے 50 لاکھ روپے فراہم کیے۔ اسی طرح بچوں کے کھیلنے کے لیے جدید میدان اور ٹرف کی تعمیر بھی گڈکری کی خصوصی دلچسپی سے ممکن ہوئی جس سے غریب خاندانوں کے بچے بھی بہتر کھیلوں کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔انہوں نے بتایا کہ تاج باغ میں 22 کروڑ روپے کی لاگت سے عالمی معیار کا مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ کے نصاب پر مبنی ایک جدید اسکول بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے لیے ٹرسٹ کو 12 کروڑ روپے کی منظوری مل چکی ہے جبکہ بقیہ رقم کی منظوری کا عمل بھی جاری ہے۔
پیارے خان نے کہا کہ جب بھی تاج باغ کی ترقی کے لیے کسی ضرورت کا ذکر کیا جاتا ہے تو نتن گڈکری ہمیشہ مثبت تعاون کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ گڈکری اکثر یہ کہتے ہیں کہ انہیں اس علاقے سے ووٹ نہیں ملتے لیکن انہوں نے کبھی اس بات کو خدمت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ ووٹ دیں یا نہ دیں وہ سب کی خدمت کرتے رہیں گے اور یہی ان کی سب سے بڑی خوبی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سخت مصروفیات اور سکیورٹی پابندیوں کے باوجود نتن گڈکری ہر سال عرس میں شرکت کے لیے تاج باغ آتے ہیں اور لاکھوں عقیدت مندوں کے درمیان موجود رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی ان کی عوام سے وابستگی اور خلوص کا ثبوت ہے۔
تقریر کے اختتام پر پیارے خان نے کہا کہ تاج باغ کے خدام اور عوام کی خواہش ہے کہ نتن گڈکری کی عوامی خدمات کے اعتراف میں انہیں بھارت رتن سے نوازا جائے۔ انہوں نے حاضرین سے اپیل کی کہ وہ اس کے لیے دعا کریں۔ بعد ازاں انہوں نے معزز مہمانوں اور حاضرین سے اختصار پر معذرت کرتے ہوئے مرکزی وزیر نتن گڈکری کو خطاب کی دعوت دی۔اگر یہ متن خبر کی صورت میں شائع ہونا ہے تو بہتر ہوگا کہ "بھارت رتن ملنا چاہیے" جیسے مطالبے کو صرف پیارے خان کے بیان کے طور پر ہی پیش کیا جائے، جیسا کہ اوپر کیا گیا ہے، تاکہ خبر غیر جانب دار صحافتی انداز میں رہے۔
لاکھوں زائرین کی شرکت
حضرت بابا تاج الدین اولیاءؒ کے 104 ویں سالانہ عرس کے موقع پر درباری شاہی صندل سے قبل تاج باغ میں روحانیت اور عقیدت کی دل آویز فضا قائم ہے۔۔حضرت بابا تاج الدین اولیاءؒ کے عرس کی چھبیسویں تاریخ پر نکالا جانے والا درباری شاہی صندل اس تاریخی جلوس کی یاد دلاتا ہے جو بھونسلے حکمرانوں کی سرپرستی میں حضرت بابا تاج الدین اولیاءؒ کی اس وقت کے ذہنی امراض کے اسپتال سے رہائی کے بعد نکالا گیا تھا۔ یہ جلوس ناگپور میں حضرت کی زندگی سے وابستہ تاریخی راستے سے گزرتا ہے اور عقیدت ایمان شکرگزاری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ہفتہ ہی سے تاج باغ کا پورا احاطہ زائرین سے بھرا ہوا ہے۔ عقیدت مند مزار پر حاضری دے رہے ہیں۔ درود و مناجات کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ دعا اور قوالی کی روح پرور محفلوں میں شرکت کی جا رہی ہے اور حضرت بابا تاج الدین اولیاءؒ کی بارگاہ سے برکتیں اور دعائیں طلب کی جا رہی ہیں۔ملک بھر سے آئے ہوئے عقیدت مندوں اور مختلف تنظیموں کی جانب سے قائم درجنوں لنگر شب و روز بلا تفریق مذہب و ملت زائرین کو مفت کھانا فراہم کر رہے ہیں۔ بے لوث خدمت کی یہ روایت عرس کی نمایاں شناخت سمجھی جاتی ہے۔
Sallallahu Alaika Ya Mohammad
— SAYED IKRAMULLA HUSSAINI MAGARABI QUADRI CHISHTI (@SAYEDIKRAMULLA) July 12, 2026
Urs Mubarak Hazrat Taj Baba Nagpur
Tareeqat-e-Magarabiya Al-Gafooriya #sallallahu_alaika_ya_mohammad #Tareeqat_E_Magarabiya_AlGafooriya #hazrat_Taj_Baba #urs_mubarak #nagpur pic.twitter.com/2GoC9d15Ot
حضرت بابا تاج الدین ٹرسٹ کے چیئرمین پیارے خان نے بتایا کہ درباری شاہی صندل میں شرکت کے لیے اب تک چار لاکھ سے زائد عقیدت مند ناگپور پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ تاج باغ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک بے مثال مثال ہے۔ ہندو مندر جاتا ہے۔ عیسائی گرجا گھر جاتا ہے۔ مسلمان مسجد جاتا ہے اور سکھ گردوارے جاتا ہے۔ تاج باغ ایک ایسا روحانی مرکز ہے جہاں ہر مذہب کے ماننے والے ایک ساتھ حاضر ہوتے ہیں۔ یہ گنگا جمنی تہذیب کی زندہ علامت ہے۔
حضرت بابا تاج الدین ٹرسٹ کے سیکریٹری تاج احمد رضا نے بتایا کہ درباری شاہی صندل اتوار کی صبح 10 بجے شروع ہوا اور حضرت بابا تاج الدین اولیاءؒ کی زندگی سے وابستہ روایتی راستوں سے گزرتا ہوا شام تقریباً 8 بجے دوبارہ تاج باغ پہنچا۔ اس کے بعد عقیدت مند چادر مبارک اور مزار کی زیارت کے بعد واپس روانہ ہوئی۔اس سال کے عرس میں مہاراشٹر کے علاوہ تلنگانہ۔ آندھرا پردیش۔ کرناٹک۔ مدھیہ پردیش اور دیگر کئی ریاستوں سے بڑی تعداد میں زائرین شریک ہوئے ہیں۔ متوقع غیر معمولی بھیڑ کے پیش نظر مزار کے احاطے اور جلوس کے راستے پر رضاکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ زائرین کی رہنمائی اور انتظامات کو مؤثر بنایا جا سکے۔
چھترپتی سمبھاجی نگر سے اپنے پانچ دوستوں کے ساتھ آنے والے ساحر خان نے کہا کہ عرس کے موقع پر تاج باغ حاضری دینا ان کی زندگی کی ایک خوبصورت روایت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام صوفیائے کرام سے محبت کرتے ہیں کیونکہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے قریب لاتے ہیں۔ ہم حضرت بابا تاج الدین اولیاءؒ کی بارگاہ میں ملک میں امن۔ محبت۔ بھائی چارے اور ہم آہنگی کے لیے دعا کرنے اور برکت حاصل کرنے آئے ہیں۔