بنگلور : آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل کی جانب سے چلائی جا رہی ملک گیر مہم "میرا ملک میری پہچان" کے تحت کونسل کے قومی نمائندہ وفد نے دو روزہ تلنگانہ اور کرناٹک کا اہم دورہ کیا۔ اس دوران تلنگانہ کے حیدرآباد۔ سنگاریڈی۔ ظہیرآباد اور ہمن آباد نیز کرناٹک کے گلبرگہ۔ آلند اور ہلکٹہ میں مختلف مذہبی۔ سماجی اور عوامی بیداری کے پروگرام منعقد کیے گئے جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کرکے قومی یکجہتی۔ سماجی ہم آہنگی اور صوفی روایت کے پیغام کی حمایت کی۔
نمائندہ وفد کی قیادت حضرت سید نصیرالدین چشتی۔ جانشین درگاہ اجمیر شریف اور چیئرمین آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل نے کی۔ وفد میں حضرت شاہ احمد احمد صاحب المعروف نیر میاں۔ سجادہ نشین درگاہ رودولی اتر پردیش۔ جناب حبیب الرحمٰن نیازی صاحب۔ سجادہ نشین درگاہ میر جی کا باغ جے پور۔ جناب سید انجم فرید صاحب۔ سجادہ نشین درگاہ امبیٹا شریف گجرات۔ جناب حسین خان صاحب المعروف چھنو بابا۔ سجادہ نشین حیدرآباد۔ جناب سید علی ذکی حسینی صاحب۔ اسٹیٹ صدر کرناٹک آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل اور خانوادہ خواجہ بندہ نواز گلبرگہ۔ نیز جناب سید عبدالقادر قادری صاحب۔ نیشنل کوآرڈینیٹر آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل سمیت ملک بھر کے متعدد سجادہ نشین۔ خلفا۔ صوفی علما اور مختلف درگاہوں کے نمائندے شریک رہے۔

تمام مقامات پر نمائندہ وفد کا شاندار استقبال کیا گیا۔ پروگراموں میں بڑی تعداد میں عقیدت مندوں۔ نوجوانوں۔ خواتین۔ سماجی کارکنوں اور مقامی شہریوں نے شرکت کی۔
اپنے خطاب میں حضرت سید نصیرالدین چشتی نے کہا کہ ہندوستان کی صوفی روایت صدیوں سے محبت۔ انسانیت۔ امن۔ بھائی چارے۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور حب الوطنی کا پیغام دیتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "میرا ملک میری پہچان" مہم کا مقصد ملک کے ہر شہری میں حب الوطنی۔ سماجی ہم آہنگی اور آئینی اقدار کے احترام کے جذبے کو مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کونسل کی مہم "میرا ملک میری پہچان" صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ہندوستان کی وحدت۔ سالمیت۔ آئین کے احترام اور گنگا جمنی تہذیب کو مضبوط بنانے کا ایک قومی عزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب اور صوفی بزرگوں کی تعلیمات آج بھی معاشرے کو جوڑنے کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ نفرت کے بجائے محبت۔ تقسیم کے بجائے اتحاد اور تشدد کے بجائے امن کا پیغام عام کریں اور ملک کی سالمیت اور ترقی میں فعال کردار ادا کریں۔
پروگراموں سے حضرت شاہ احمد احمد صاحب المعروف نیر میاں اور جناب حبیب الرحمٰن نیازی صاحب سمیت دیگر صوفی بزرگوں اور سجادہ نشینوں نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ صوفی فکر ہمیشہ انسانیت۔ خدمت۔ محبت اور وطن سے عشق کا پیغام دیتی رہی ہے اور موجودہ دور میں اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوفیا نے ملک کی سالمیت کے تحفظ اور لوگوں کو صحیح طرز زندگی کی راہ دکھانے میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
پروگراموں کے اختتام پر ملک میں امن۔ خوشحالی۔ قومی یکجہتی اور باہمی بھائی چارے کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ ساتھ ہی عظیم صوفی بزرگوں کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے وطن اور انسانیت کی خدمت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔