سرینگر: کشمیر سے تعلق صرف ایک فلم ساز کی حیثیت سے نہیں بلکہ جذبات، یادوں اور تخلیقی وابستگی کا بھی ہے۔ کشمیر نے انہیں ہمیشہ متاثر کیا ہے اور وہ اسے صرف قدرتی حسن کے طور پر نہیں بلکہ اس کے لوگوں، تہذیب، روحانیت اور انسانی رشتوں کے ساتھ دیکھتے ہیں۔
معروف فلم ساز اور ہدایت کار امتیاز علی نے ان خیالات کا اظہار سری نگر میں جاری چنار بک فیسٹول میں کیا ۔
ڈاکٹر امیت وانچو کے ساتھ گفتگو کے دوران امتیاز علی نے سنیما، کہانی نویسی اور کشمیر میں فلم بندی کے اپنے تجربات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیر نے ان کی شخصیت اور تخلیقی سوچ پر گہرا اثر ڈالا ہے اور ان کی فلمی زندگی میں اس خطے کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔اس موقع پر انہوں نے طلبہ کے ساتھ ایک خصوصی اور حوصلہ افزا نشست میں بھی شرکت کی۔ طلبہ کے مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے امتیاز علی نے انہیں تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے، اپنے خوابوں پر یقین رکھنے اور مستقل محنت کے ساتھ اپنی منزل کی جانب بڑھنے کی تلقین کی۔انہوں نےنوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کی کہانیاں خود دنیا کے سامنے لائیں کیونکہ کسی بھی معاشرے کی حقیقی نمائندگی وہاں کے لوگ ہی بہتر انداز میں کر سکتے ہیں۔طلبہ سے طویل مکالمہ کرتے ہوئے امتیاز علی نے فلم سازی، کشمیر، روحانیت، تخلیقی عمل، نوجوان نسل، علاقائی زبانوں، فن اور زندگی کے مختلف پہلوؤں پر کھل کر اظہار خیال کیا۔ ان کی گفتگو کے دوران طلبہ نے بھی مختلف سوالات کیے جن کے انہوں نے تفصیل سے جواب دیے۔
کشمیر سے میرا رشتہ صرف فلموں تک محدود نہیں
امتیاز علی نے کہا کہ کشمیر ان کے لیے صرف شوٹنگ کی ایک خوبصورت جگہ نہیں بلکہ ایک ایسا خطہ ہے جہاں کی ثقافت، لوگ اور روحانیت نے ان کی شخصیت اور فن دونوں کو متاثر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے "راک اسٹار" کی شوٹنگ کشمیر میں کی تو انہیں کشمیری سماج کو قریب سے جاننے کا موقع ملا۔ اس دوران انہوں نے کشمیری مسلمانوں، کشمیری پنڈتوں، سرینگر کی شہری زندگی اور دیہی علاقوں کی مختلف تہذیبوں کو سمجھا۔ان کے مطابق ہر علاقے کی اپنی الگ شناخت ہوتی ہے اور فلم سازی کے دوران ان ثقافتوں کو دریافت کرنا ان کے لیے ایک نئی دنیا سے آشنائی کے مترادف ہوتا ہے۔
امتیاز علی
روحانیت میری پرورش کا حصہ رہی ہے
اپنی فلموں میں روحانی رنگ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے امتیاز علی نے کہا کہ ان کے گھر کا ماحول ہمیشہ روحانی رہا۔انہوں نے بتایا کہ بچپن میں ان کے گھر میں قوالیاں، بھجن، صوفیانہ کلام اور بزرگوں کی تعلیمات سننے کا رواج تھا۔ یہی وجہ ہے کہ روحانیت ان کی شخصیت میں فطری طور پر شامل ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ اسکول کی دعاؤں میں بھی گہرے روحانی پیغامات پوشیدہ ہوتے ہیں، جنہیں انسان عمر بڑھنے کے بعد زیادہ اچھی طرح سمجھ پاتا ہے۔ان کے مطابق ہندوستان کی تہذیب مختلف مذاہب اور روحانی روایات سے عبارت ہے، اسی ماحول نے ان کی سوچ اور ان کی فلموں کو بھی متاثر کیا۔
ٹرین کے سفر نے زندگی اور سوچ دونوں بدل دیے
امتیاز علی نے اپنے بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد انہیں کم عمری میں ہی اکیلے ٹرین میں سفر کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔انہوں نے کہا کہ ان کے والد کا ماننا تھا کہ ہندوستان کی ٹرین ایک چلتا پھرتا خاندان ہوتی ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔امتیاز علی نے کہا کہ انہی سفروں کے دوران ان کی ملاقات مختلف لوگوں، مختلف تہذیبوں اور مختلف خیالات سے ہوئی، جس نے ان کے اندر مشاہدے اور کہانی سنانے کی صلاحیت پیدا کی۔انہوں نے بتایا کہ ایک ریلوے اسٹیشن پر محدود رقم ہونے کے باوجود انہوں نے بھگوت گیتا خریدی کیونکہ اس کا سرورق انہیں بے حد متاثر کر گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو محسوس ہوا کہ اس میں بیان کیے گئے بہت سے خیالات وہ پہلے بھی مختلف صوفیانہ کلام اور روحانی روایتوں میں سن چکے تھے۔ان کے مطابق یہی مطالعہ ان کے فکری سفر کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔
کن فیکون" کی کامیابی منصوبہ بندی سے نہیں


نوجوان نسل صرف روزگار نہیں بلکہ مقصد بھی تلاش کر رہی ہے
امتیاز علی نے کہا کہ آج کی نوجوان نسل پچھلی نسلوں کے مقابلے میں زیادہ باشعور، زیادہ حساس اور زیادہ بامقصد زندگی گزارنے کی خواہش رکھتی ہے۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی معاشرے کے لیے نہایت خوش آئند ہے کیونکہ نئی نسل صرف اچھی ملازمت یا زیادہ تنخواہ کو کامیابی نہیں سمجھتی بلکہ وہ ایسا کام کرنا چاہتی ہے جس سے معاشرے اور انسانیت کو بھی فائدہ پہنچے۔انہوں نے کہا کہ جب وہ نوجوان تھے تو اس وقت زیادہ تر لوگوں کی پہلی ترجیح روزگار حاصل کرنا اور اپنی معاشی ضروریات پوری کرنا ہوتی تھی۔ اس دور میں زیادہ تر لوگ بقا کی جدوجہد میں مصروف رہتے تھے، لیکن آج کے نوجوان اس مرحلے سے آگے بڑھ کر زندگی میں کسی بڑے مقصد کی تلاش میں ہیں۔
ان کے مطابق آج کا نوجوان یہ چاہتا ہے کہ اس کا کام صرف اس کی ذاتی ترقی کا ذریعہ نہ بنے بلکہ اس سے معاشرے میں بھی مثبت تبدیلی آئے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل میں ماحولیات کے تحفظ، سماجی ذمہ داری اور انسانی اقدار کے حوالے سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ شعور پیدا ہوا ہے۔امتیاز علی نے کہا کہ نئی نسل بڑی حد تک ماحول دوست طرز زندگی اختیار کر رہی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ آج کے نوجوان سڑکوں پر کچرا پھینکنے سے گریز کرتے ہیں، پلاسٹک کے بے جا استعمال سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور قدرتی ماحول کے تحفظ کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ نوجوان ہی ہیں جو بڑی نسل کو بھی ماحول کے بارے میں زیادہ ذمہ دار بننے کی ترغیب دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ معاشرے میں خواتین کی بڑھتی ہوئی خودمختاری اور تخلیقی میدانوں میں ان کی مؤثر موجودگی بھی ایک مثبت تبدیلی ہے۔ اگرچہ ابھی مکمل مساوات حاصل نہیں ہوئی، لیکن حالات بتدریج بہتر ہو رہے ہیں اور نوجوان نسل اس تبدیلی کو مزید آگے لے جا رہی ہے۔
تخلیقی شعبہ صرف شوق نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد کا نام ہے
فلم سازی، کہانی نویسی اور دیگر تخلیقی شعبوں میں آنے کے خواہش مند نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے امتیاز علی نے کہا کہ اس میدان میں قدم رکھنے سے پہلے ہر شخص کو اپنے فیصلے پر مکمل یقین ہونا چاہیے کیونکہ تخلیقی زندگی آسان نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ فلمی دنیا میں کوئی مستقل راستہ یا محفوظ مستقبل نہیں ہوتا۔ یہاں ہر نئے منصوبے کے لیے دوبارہ ابتدا کرنی پڑتی ہے اور ہر کامیابی کے بعد خود کو دوبارہ ثابت کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس شعبے میں نہ ہر مہینے تنخواہ کی ضمانت ہوتی ہے، نہ ترقی کا کوئی طے شدہ نظام۔ ایک فنکار کو اپنی محنت، صلاحیت اور نئے کام کے ذریعے خود اپنی شناخت بنانی پڑتی ہے۔امتیاز علی نے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ اگر وہ اپنی مرضی سے اس میدان میں آئیں تو پھر مشکلات آنے پر دوسروں کو قصوروار نہ ٹھہرائیں بلکہ اپنی محنت اور صلاحیت پر اعتماد رکھیں۔ ان کے مطابق تخلیقی شعبے میں کامیابی انہی لوگوں کو ملتی ہے جو مسلسل سیکھتے رہتے ہیں اور ناکامی سے گھبراتے نہیں۔
کہانی سنانے کا آغاز خواب دیکھنے سے ہوا
ایک طالبہ کے سوال پر امتیاز علی نے اپنی تخلیقی زندگی کے آغاز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بچپن میں کلاس روم میں بیٹھے اکثر خوابوں اور خیالات کی دنیا میں کھو جاتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ جب استاد سبق پڑھا رہے ہوتے تھے تو ان کے ذہن میں مختلف کردار، مناظر اور کہانیاں جنم لینے لگتی تھیں۔ وہ انہی خیالات کو اپنی تفریح سمجھتے تھے اور آہستہ آہستہ یہی خیالات کہانیوں کی شکل اختیار کرتے گئے۔انہوں نے کہا کہ ایک فلم ساز یا کہانی نویس کے لیے سب سے اہم چیز مسلسل تجسس اور تخیل ہے۔ اگر انسان کے اندر نئی چیزیں دریافت کرنے کی خواہش زندہ رہے تو کہانیاں خود بخود جنم لیتی رہتی ہیں۔

ہر انسان کو اظہار کا اپنا راستہ تلاش کرنا چاہیے
ایک طالبہ نے بتایا کہ اس کے ذہن میں بہت سی کہانیاں آتی ہیں لیکن وہ انہیں لکھ نہیں پاتی۔ اس پر امتیاز علی نے کہا کہ ضروری نہیں ہر شخص اپنی تخلیقی صلاحیت کا اظہار صرف لکھنے کے ذریعے کرے۔انہوں نے کہا کہ بعض لوگ مصوری کے ذریعے اپنی کہانی سناتے ہیں، کچھ موسیقی، رقص یا اداکاری کے ذریعے اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ کچھ زبانی انداز میں بہترین کہانی گو ثابت ہوتے ہیں۔انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ خود پر کسی مخصوص راستے کو اختیار کرنے کا دباؤ نہ ڈالیں بلکہ جس فن میں ان کی دلچسپی اور صلاحیت ہو، اسی کو اپنا ذریعہ اظہار بنائیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر فن، ادب اور روحانیت کی سرزمین ہے اور یہاں کے نوجوانوں کے اندر بے پناہ تخلیقی صلاحیت موجود ہے، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کریں اور انہیں عملی شکل دیں۔
عظیم فن کی بنیاد صرف درد نہیں بلکہ سچائی ہوتی ہے
پروگرام کے اختتام پر ایک طالب علم نے سوال کیا کہ کیا عظیم فن صرف دکھ اور تکلیف سے جنم لیتا ہے۔ اس کے جواب میں امتیاز علی نے کہا کہ وہ اس خیال سے مکمل اتفاق نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ اگر صرف درد ہی عظیم فن پیدا کرتا تو دنیا کا ہر دکھی انسان بڑا فنکار بن جاتا، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان کے مطابق فنکار کو بڑا بنانے والی چیز اس کی حساسیت، سچائی، لگن اور اپنے جذبات کا دیانت دارانہ اظہار ہے۔انہوں نے کہا کہ انسان کو جان بوجھ کر تکلیف تلاش کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ زندگی میں خوشی، غم، جدائی، محبت، یادیں اور ناکامیاں سب خود بخود آتی رہتی ہیں۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ فنکار اپنی حقیقی کیفیت کو ایمانداری کے ساتھ اپنی تخلیق میں منتقل کرے۔
"اپنی کہانی خود لکھیں، دوسروں کا انتظار نہ کریں"
اپنی گفتگو کے اختتام پر امتیاز علی نے ایک مرتبہ پھر نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی شناخت، اپنی ثقافت اور اپنے تجربات کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے دوسروں کے منتظر نہ رہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کشمیر کی نئی نسل خود فلمیں بنائے، کتابیں لکھے، موسیقی تخلیق کرے اور اپنی سرزمین کی کہانیاں خود سنائے تو دنیا کشمیر کو زیادہ بہتر اور زیادہ حقیقی انداز میں جان سکے گی۔انہوں نے کہا کہ خود اعتمادی، مسلسل محنت اور خود انحصاری ہی کامیابی کا راستہ ہے، اور انہیں یقین ہے کہ کشمیر کے نوجوان مستقبل میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی الگ شناخت قائم کریں گے۔