عدلیہ میں مسلمان ۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی قانونی تعلیم کے لیےمہم

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 13-01-2026
عدلیہ میں مسلمان ۔  مسلم پرسنل لاء بورڈ کی قانونی تعلیم کے لیےمہم
عدلیہ میں مسلمان ۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی قانونی تعلیم کے لیےمہم

 



نئی دہلی:آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ملک میں مسلم کمیونٹی کی قانونی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ بورڈ کا خیال ہے کہ عدالتوں میں مسلم مقدمات کی مؤثر نمائندگی نہیں ہو پا رہی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ اہل اور ماہر مسلم وکلاء کی کمی ہے۔اسی پس منظر میں بورڈ نے مسلم بچوں اور نوجوانوں کو قانون کی تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دینے کے لیے ایک مہم شروع کی ہے۔ اس مہم کا مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں قابل اور تربیت یافتہ مسلم وکلاء کی ایک بڑی تعداد تیار کی جا سکے تاکہ مسلم کمیونٹی کو قانونی میدان میں مضبوط بنایا جا سکے۔

پرسنل لا بورڈ کے مطابق اس مہم کا مقصد مسلمان نوجوانوں کو قانون کی تعلیم حاصل کرنے پر متوجہ کرنا، اس میں اعلی مہارت کے حصول کے لئے ان کا تعاون کرنا اور عدالتوں میں ماہر مسلمان وکلا ء کو پہنچانا،یہ قانونی تحفظ کے لئے بے حد ضروری ہے۔اب تو صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ بعض دفعہ وکلاء مسلمانوں کا کیس لینے کو آمادہ نہیں ہوتے، ان حالات میں بے حد ضروری ہے کہ ہمارے پاس اچھے وکیل ہوں،اور اچھے وکیل ہی جج کی کرسی پر پہنچتے ہیں۔ پرسنل لا بورڈ ک مطابق افسوس کہ ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں مسلمان ججز کی تعداد کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ادھر مسلمانوں میں جدید تعلیم کا رجحان بڑھا ہےمگر ان کی ساری توجہ میڈیکل اور انجینیرنگ پر ہے، یہ کافی نہیں ہے۔ مسلمان نوجوانوں کو قانون کی تعلیم حاصل کرنے پر متوجہ کرنا، اس میں اعلی مہارت کے حصول کے لئے ان کا تعاون کرنا اور عدالتوں میں ماہر مسلمان وکلا ء کو پہنچانا،یہ قانونی تحفظ کے لئے بے حد ضروری ہے، بیان کے مطابق اب تو صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ بعض دفعہ وکلاء مسلمانوں کا کیس لینے کو آمادہ نہیں ہوتے، ان حالات میں بے حد ضروری ہے کہ ہمارے پاس اچھے وکیل ہوں،اچھے وکیل ہی جج کی کرسی پر پہنچتے ہیں۔افسوس کہ ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں مسلمان ججز کی تعداد کم سے کم ہوتی جا رہی ہے، ادھر مسلمانوں میں جدید تعلیم کا رجحان بڑھا ہے، مگر ان کی ساری توجہ میڈیکل اور انجینیرنگ پر ہے، یہ کافی نہیں ہے۔

 مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے ایک  خطاب میں کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے۔ جمہوری ملک میں سب برابر ہوتے ہیں۔ جس کی جتنی آبادی ہوتی ہے اس کی اتنی ہی حصہ داری ہونی چاہیے۔ یعنی آبادی کے تناسب سے سہولتیں حاصل کرنے کا حق ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب آپ یہ دیکھیں کہ اگر آج ہماری آبادی 18 سے 20 فیصد ہے تو سول سروسز اور عدلیہ میں ہماری نمائندگی کیا ہے۔ یہ صرف 2 سے 3 فیصد ہے۔ اس وقت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں تو یہ 1 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔ جبکہ عیسائیوں کی آبادی 4 فیصد ہے لیکن سول سروسز میں ان کی شرکت ان کی آبادی سے زیادہ ہے۔ اسی طرح سکھوں کی آبادی 2 فیصد ہے۔ کچھ دوسری برادریاں 6 سے 7 فیصد ہیں لیکن سول سروسز میں ان کی شرکت تقریباً 38 سے 40 فیصد ہے۔

  مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب اس ملک میں پالیسی بنائی جاتی ہے۔ چاہے وہ تعلیم کی پالیسی ہو۔ سیکورٹی کی پالیسی ہو۔ دفاع کی پالیسی ہو۔ مالیاتی پالیسی ہو۔ یا خارجہ پالیسی ہو۔ ان سب میں ہمارا کوئی مؤثر کردار نہیں ہوتا۔وہ مزید کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے گزشتہ 60 سے 70 برسوں میں اس کو اپنی ترجیح ہی نہیں بنایا۔ اگر کسی میز پر 20 لوگ بیٹھے ہوں اور ملک کے بڑے فیصلے ہو رہے ہوں۔ اور اس میز پر مسلمان موجود نہ ہو۔ تو وہ اپنے مفاد کی حفاظت نہیں کر سکتا۔

 مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ لہذا ضروری ہے کہ سول سروسز میں آنے کو اپنی ذہنی ترجیح بنایا جائے۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ صرف ایک سرکاری ملازمت ہے۔ بلکہ یہ سمجھا جائے کہ یہ ملک کی خدمت ہے۔ اگر ہم ایمانداری سے سول سروسز میں شامل ہوں گے تو یہ ملک کی بھی خدمت ہوگی اور مسلمانوں کی بھی خدمت ہوگی۔