گرینڈ مفتی کے ’خواتین گھروں میں رہیں‘ بیان پر مسلم راشٹریہ منچ کا ردعمل

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 31-08-2026
گرینڈ مفتی کے ’خواتین گھروں میں رہیں‘ بیان پر مسلم راشٹریہ منچ کا ردعمل
گرینڈ مفتی کے ’خواتین گھروں میں رہیں‘ بیان پر مسلم راشٹریہ منچ کا ردعمل

 



 نئی دہلی 

کیرالا کے گرینڈ مفتی شیخ ابوبکر احمد کی جانب سے خواتین کو گھروں کی چار دیواری تک محدود رکھنے کی وکالت پر ملک میں بحث چھڑ گئی ہے۔ کوچی میں ایک مذہبی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گرینڈ مفتی نے خواتین کے عوامی زندگی میں آنے کی مخالفت کرتے ہوئے ان کا موازنہ سونے کے زیورات سے کیا اور کہا کہ خواتین کو گھروں میں رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق پردے کا نظام خواتین کی عزت اور تحفظ کے لیے ہے اور انہیں عوامی زندگی میں لانے سے ’’بڑی تباہی‘‘ پیدا ہوسکتی ہے۔

گرینڈ مفتی کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مسلم راشٹریہ منچ کی قومی کنوینر اور خواتین ونگ کی سربراہ ڈاکٹر شالینی علی نے کہا کہ ’’بھارت کی بیٹیوں کو قید نہیں، کھلا آسمان چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ عزت کے نام پر خواتین کو گھروں میں محدود کرنا احترام نہیں بلکہ ان کی آزادی، خودمختاری اور صلاحیتوں پر پہرہ بٹھانے کے مترادف ہے۔

ڈاکٹر شالینی علی نے کہا کہ ایک ایسے ملک میں جہاں خواتین مسلح افواج کی تینوں شاخوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں اور سائنس، طب، انجینئرنگ، تعلیم، صحافت، معیشت، ہوابازی اور کھیل سمیت مختلف شعبوں میں ملک کا نام روشن کر رہی ہیں، انہیں گھروں تک محدود رہنے کا مشورہ دینا جدید بھارت کی حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔

انہوں نے گرینڈ مفتی کے سونے کے ہار سے متعلق موازنے کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ عورت کوئی بے جان زیور یا کسی کی ملکیت نہیں بلکہ ایک آزاد انسان اور حقوق رکھنے والی شہری ہے۔ اس کے اپنے خواب، صلاحیتیں اور اپنی زندگی کے بارے میں فیصلے کرنے کا حق ہے۔

ڈاکٹر شالینی علی نے کہا کہ خواتین کو تعلیم یافتہ اور خود کفیل بنانے کے بجائے انہیں چار دیواری تک محدود رکھنے کی سوچ معاشرے کو آگے لے جانے کے بجائے پیچھے دھکیلتی ہے۔ ان کے مطابق عورت کی عزت اس بات میں نہیں کہ اسے معاشرے سے کتنا دور رکھا جائے، بلکہ اس میں ہے کہ اسے اس کے حقوق، آزادی اور انتخاب کا احترام دیا جائے۔

گرینڈ مفتی نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ خواتین کو گھروں میں رہنا چاہیے اور انہیں عوامی زندگی میں نہیں آنا چاہیے۔ انہوں نے اپنی بات کو مذہبی تشریح سے جوڑتے ہوئے کہا کہ قرآن میں اس حوالے سے ہدایات موجود ہیں اور پردہ خواتین کی عزت اور تحفظ کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد خواتین کو کمتر ثابت کرنا نہیں بلکہ ان کی عزت اور حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔

اپنی بات سمجھانے کے لیے گرینڈ مفتی نے سونے کے ہار کی مثال پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ قیمتی زیور کو محفوظ رکھنے کے لیے اسے ڈبے میں رکھا جاتا ہے اور اسی طرح خواتین کو بھی گھروں میں رہنا چاہیے۔ انہوں نے خواتین کے عوامی زندگی میں آنے کو ’’بڑی تباہی‘‘ سے جوڑا اور اسے پردے کے نظام کی ضرورت سے تعبیر کیا۔

یہ موازنہ بھی تنازعے کا اہم حصہ بن گیا ہے۔ ناقدین کا سوال ہے کہ ایک عورت کا موازنہ کسی بے جان زیور سے کیوں کیا جائے؟ ان کے مطابق سونے کا ہار کسی کی ملکیت ہوسکتا ہے، لیکن ایک عورت اپنی زندگی کی خود مالک ہے۔ تعلیم، ملازمت، کیریئر، عوامی زندگی میں شرکت اور اپنے مستقبل کے فیصلے کرنا اس کے بنیادی اختیارات میں شامل ہیں۔

ڈاکٹر شالینی علی نے کہا کہ جدید بھارت میں خواتین نے اپنی صلاحیتوں کو عملی طور پر ثابت کیا ہے۔ وہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہیں، سائنسی منصوبوں پر کام کر رہی ہیں، اسپتالوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں، تعلیمی اداروں کی قیادت کر رہی ہیں اور کھیل کے میدانوں میں ملک کی نمائندگی کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو خواتین ملک کی دفاعی ذمہ داریاں نبھا سکتی ہیں، سائنس اور طب کے پیچیدہ شعبوں میں خدمات انجام دے سکتی ہیں اور عالمی سطح پر بھارت کی نمائندگی کرسکتی ہیں، انہیں اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کی صلاحیت سے محروم سمجھنا درست نہیں۔

گرینڈ مفتی نے اپنی تقریر میں مذہبی علماء کے کردار کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ علماء نے دین کا مطالعہ کیا ہے اور مذہبی معاملات پر بات کرنا ان کا حق اور فرض ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس مسئلے پر بات کرتے رہیں گے اور انہیں کوئی روک نہیں سکتا۔

انہوں نے اسلامی تاریخ میں خواتین کے مقام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے بیٹیوں کو قتل کرنے جیسی روایات کی مخالفت کی اور خواتین کو جائیداد اور وراثت کے حقوق دیے۔ ان کی دلیل تھی کہ خواتین کو عوامی زندگی سے دور رکھنے والے نظام کو بھی عزت اور تحفظ کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

تاہم مسلم راشٹریہ منچ کا کہنا ہے کہ عورت کی عزت اس کی قید میں نہیں بلکہ اس کے حقوق، خودمختاری اور انتخاب کے احترام میں ہے۔ تنظیم کے مطابق اگر کوئی خاتون گھر اور خاندان کی دیکھ بھال کو ترجیح دیتی ہے تو یہ اس کا حق ہے، لیکن اگر وہ فوج، طب، تعلیم، صحافت، کاروبار یا کسی دوسرے شعبے میں اپنا مستقبل بنانا چاہتی ہے تو اسے بھی اتنا ہی حق حاصل ہے۔

تنظیم نے یہ بھی واضح کیا کہ گرینڈ مفتی کے بیان کو پورے مسلم معاشرے یا تمام مسلم علماء کی متفقہ رائے قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ ایک مذہبی رہنما کا نقطۂ نظر ہے اور اس پر اختلاف یا تنقید کو کسی مذہب یا پوری برادری کے خلاف مہم نہیں بنانا چاہیے۔ اصل بحث خواتین کی آزادی، مساوات اور اپنے مستقبل کے انتخاب کے حق سے متعلق ہے۔

اس تنازعے نے بنیادی سوال ایک بار پھر سامنے لا دیا ہے کہ کیا عورت کو احترام چاہیے یا کنٹرول؟ تحفظ چاہیے یا قید؟ مواقع چاہیے یا چار دیواری؟

جدید بھارت کی خواتین اپنے عملی کردار سے ان سوالات کا جواب دے چکی ہیں۔ مسلح افواج سے لے کر سائنس کی دنیا تک، اسپتالوں سے کھیل کے میدانوں تک اور تعلیمی اداروں سے پارلیمنٹ تک خواتین نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔

مسلم راشٹریہ منچ کا پیغام واضح ہے کہ بھارت کی بیٹی کوئی سونے کا ہار نہیں جسے اس کی قیمت محفوظ رکھنے کے لیے ڈبے میں بند کردیا جائے۔ وہ اپنے مستقبل کی خود معمار ہے۔ خواتین کو قید کرنے کے بجائے انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تو خاندان، معاشرہ اور ملک—تینوں مضبوط ہوں گے۔