پہلی شادی برقرار ہو تو اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت مسلمان مرد کی دوسری شادی باطل: کرناٹک ہائی کورٹ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 27-07-2026
پہلی شادی برقرار ہو تو اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت مسلمان مرد کی دوسری شادی باطل: کرناٹک ہائی کورٹ
پہلی شادی برقرار ہو تو اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت مسلمان مرد کی دوسری شادی باطل: کرناٹک ہائی کورٹ

 



 بنگلور:کرناٹک ہائی کورٹ نے کہا کہ اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی کرنے والے فریقین اسی قانون کی لازمی شرائط کے پابند ہوتے ہیں اور پہلی شادی برقرار ہونے کی صورت میں دوسری شادی کو پرسنل لا کی بنیاد پر درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

بنگلورو: کرناٹک ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کوئی مسلمان مرد اپنی پہلی شادی برقرار رہتے ہوئے اسپیشل میرج ایکٹ 1954 کے تحت دوسری شادی کرتا ہے تو یہ شادی ابتدا ہی سے باطل (Void ab initio) سمجھی جائے گی۔

جسٹس سچن شنکر مگدوم نے یہ فیصلہ ایک ایسی خاتون کی درخواست پر سنایا، جس نے ایک شخص کی دوسری بیوی ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اس کی موت کے بعد خود کو ایک زیرِ سماعت تقسیمِ جائیداد کے مقدمے میں اس کے قانونی نمائندے کے طور پر شامل کرنے کی درخواست کی تھی۔ عدالت نے خاتون کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا، تاہم اس رشتے سے پیدا ہونے والی بیٹی کو قانونی نمائندے کے طور پر مقدمے میں شامل کرنے کی اجازت دی۔

کیا تھا پورا معاملہ؟

یہ معاملہ ایک تقسیمِ جائیداد کے مقدمے سے متعلق تھا۔ مقدمے کی کارروائی کے دوران مدعا علیہ کی موت ہوگئی۔ اس کے بعد ایک خاتون نے دعویٰ کیا کہ اس کی شادی متوفی شخص کے ساتھ 24 اپریل 2008 کو اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت ہوئی تھی۔ خاتون نے خود کو اور اپنی بیٹی کو متوفی شخص کے قانونی نمائندوں کے طور پر مقدمے میں شامل کرنے کی درخواست کی۔

ہائی کورٹ کی جانب سے پہلے معاملے کو دوبارہ ٹرائل کورٹ بھیجے جانے کے بعد اس پر تفصیلی جانچ کی گئی۔ ٹرائل کورٹ نے پایا کہ جس وقت مذکورہ خاتون سے شادی کی گئی، اس وقت متوفی شخص کی پہلی شادی برقرار تھی۔ اس بنیاد پر عدالت نے دوسری شادی کو ابتدا ہی سے باطل قرار دیتے ہوئے خاتون کو قانونی نمائندے کے طور پر شامل کرنے سے انکار کر دیا، البتہ اس رشتے سے پیدا ہونے والی بیٹی کو مقدمے میں شامل کرنے کی اجازت دے دی۔

اسپیشل میرج ایکٹ کی شرط کیا ہے؟

ہائی کورٹ نے اسپیشل میرج ایکٹ کی دفعہ 4(a) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے تحت شادی کے وقت یہ ضروری ہے کہ شادی کرنے والے کسی بھی فریق کا پہلے سے کوئی شریکِ حیات زندہ نہ ہو۔

عدالت نے کہا کہ یہ شرط واضح اور لازمی ہے اور اس میں کسی استثنا کی گنجائش نہیں ہے۔ عدالت کے مطابق، اگر شادی کے وقت کسی فریق کا پہلے سے شریکِ حیات موجود ہو تو اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت ہونے والی شادی قانونی طور پر درست نہیں رہتی۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ درخواست گزار خاتون نے اپنے حلف نامے میں خود کو متوفی شخص کی دوسری بیوی بتایا تھا اور اس کی پہلی بیوی کی موجودگی کا بھی اعتراف کیا تھا۔ عدالت کے مطابق، ان اعترافات کے بعد اس شادی کی قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی ابہام باقی نہیں رہتا۔

مسلم پرسنل لا کی دلیل بھی مسترد

درخواست گزار کی جانب سے یہ دلیل دی گئی کہ چونکہ متوفی شخص مسلمان تھا، اس لیے مسلم پرسنل لا کے تحت اسے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت تھی۔ تاہم، ہائی کورٹ نے اس دلیل کو قبول نہیں کیا۔

عدالت نے کہا کہ مسلم پرسنل لا کے تحت مسلمان مرد کو مخصوص شرائط اور حدود کے ساتھ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت ہوسکتی ہے، لیکن یہ اجازت صرف ان شادیوں پر لاگو ہوتی ہے جو مسلم پرسنل لا کے تحت کی گئی ہوں۔

عدالت نے واضح کیا کہ جب کوئی شخص اپنی مرضی سے اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو پھر اس پر اسی قانون کی شرائط لاگو ہوتی ہیں۔

اسپیشل میرج ایکٹ اختیار کرنے کے بعد اسی قانون کی پابندی ضروری

ہائی کورٹ نے کہا کہ اسپیشل میرج ایکٹ ایک سیکولر اور مکمل قانونی نظام ہے، جو اس کے تحت ہونے والی شادی کی شرائط، طریقۂ کار اور اس کے قانونی نتائج کا تعین کرتا ہے۔عدالت کے مطابق، جب کوئی شخص اپنے پرسنل لا کے بجائے اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی کا انتخاب کرتا ہے تو وہ پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے اس قانون کی لازمی شرائط کو بھی قبول کرتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ ایسی شادی سے پیدا ہونے والے حقوق اور ذمہ داریوں کا تعین اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت ہوگا، نہ کہ بعد میں پرسنل لا کا سہارا لے کر اس شادی کو درست ثابت کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی کے لیے یک زوجگی یعنی شادی کے وقت کسی فریق کا پہلے سے شادی شدہ نہ ہونا، ایک بنیادی اور لازمی شرط ہے۔ اس شرط کی خلاف ورزی میں ہونے والی شادی ابتدا ہی سے باطل ہوگی۔

قانون کے فائدے بھی اور استثنا بھی، دونوں نہیں

عدالت نے اس دلیل کو بھی مسترد کیا کہ کوئی شخص اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی کے فوائد حاصل کرے اور پھر اپنی دوسری شادی کو درست ثابت کرنے کے لیے پرسنل لا کی رعایت کا سہارا لے۔

عدالت نے کہا کہ اگر ایسا ہونے دیا جائے تو لوگ اپنی سہولت کے مطابق ایک طرف خصوصی قانون کے فوائد حاصل کریں گے اور دوسری طرف اسی قانون کی لازمی شرائط سے بچنے کے لیے پرسنل لا کا حوالہ دیں گے، جو قانون کی روح اور مقصد کے خلاف ہوگا۔

دوسری بیوی کو قانونی نمائندہ بننے کا حق نہیں

ہائی کورٹ نے کہا کہ کسی شخص کی موت کے بعد اس کے قانونی نمائندے کے طور پر مقدمے میں شامل ہونے کے لیے درخواست دینے والے شخص کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ قانون کی نظر میں اس کا متوفی سے ایسا رشتہ موجود ہے جس کی بنیاد پر وہ اس کی جائیداد یا قانونی معاملات کی نمائندگی کر سکتا ہے۔

چونکہ عدالت نے دوسری شادی کو قانونی طور پر باطل قرار دیا، اس لیے درخواست گزار خاتون کو متوفی شخص کی قانونی بیوہ نہیں مانا جا سکتا۔ لہٰذا وہ محض اس شادی کی بنیاد پر خود کو متوفی کا قانونی نمائندہ قرار دے کر مقدمے میں شامل کیے جانے کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔

بچوں کے حقوق محفوظ

تاہم، عدالت نے اس رشتے سے پیدا ہونے والی بیٹی کو مقدمے میں شامل کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ باطل قرار دی گئی شادی سے پیدا ہونے والے بچوں کو قانون کے تحت تحفظ حاصل ہے اور وہ اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے متعلقہ عدالتی کارروائی میں اپنا حق پیش کر سکتے ہیں۔

آخر میں کرناٹک ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں کسی قانونی یا دائرۂ اختیار کی خامی نہ پاتے ہوئے خاتون کی درخواست خارج کر دی اور نچلی عدالت کے حکم کو برقرار رکھا۔

عدالت کے اس فیصلے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان شخص اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی کا انتخاب کرتا ہے تو پھر اس شادی پر اسی قانون کی تمام لازمی شرائط لاگو ہوں گی۔ پہلی شادی برقرار رہنے کی صورت میں اسی قانون کے تحت کی گئی دوسری شادی کو مسلم پرسنل لا کی بنیاد پر قانونی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔