ممبئی :حاجی علی درگاہ پر سحری میں بھائی چارے کا دلکش منظر

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 11-03-2026
ممبئی :حاجی علی درگاہ پر سحری میں بھائی چارے کا دلکش منظر
ممبئی :حاجی علی درگاہ پر سحری میں بھائی چارے کا دلکش منظر

 



ممبئی:ممبئی میں اس سال بڑی افطار تقریبات کا آغاز حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے منعقد کی گئی دعوت افطار سے ہوا جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس کے بعد شہر کے کئی علاقوں میں سماجی اور مذہبی تنظیموں کی جانب سے افطار اور سحری کے اجتماعات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے باعث بعض روایتی تقریبات میں تبدیلی بھی دیکھنے میں آئی۔ معروف کاروباری شخصیت اور سعودی ایئرلائنز کے ایجنٹ ذکاء اللہ صدیقی نے 5 مارچ کو ہونے والی اپنی سالانہ افطار تقریب منسوخ کر دی۔ تاہم رمضان کے آخری عشرے میں مزید افطار تقاریب کے انعقاد کی توقع کی جا رہی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے مہاراشٹر صدر ابو عاصم اعظمی کی جانب سے صحافیوں اور پارٹی کارکنوں کے لیے افطار کا اہتمام کیا جا رہا ہے جبکہ دیگر سماجی ادارے بھی ایسے پروگرام منعقد کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں جماعت اسلامی ممبئی میٹرو نے بھی صحافیوں کے اعزاز میں افطار اور عشائیہ کا اہتمام کیا جس میں شہر کے متعدد صحافیوں اور دانشوروں نے شرکت کی۔

اس سال ایک اور نمایاں رجحان یہ سامنے آیا ہے کہ بعض مقامات پر افطار کے بجائے اجتماعی سحری کی محفلیں زیادہ مقبول ہو رہی ہیں۔ رات کے آخری پہر منعقد ہونے والی یہ محفلیں عبادت اور دعا کے لیے ایک روحانی ماحول فراہم کرتی ہیں اور ان میں سادگی اور اخلاص کا رنگ نمایاں ہوتا ہے۔

اسی روایت کی ایک خوبصورت مثال ممبئی کے ساحل ورلی کے قریب بحیرہ عرب میں واقع تاریخی حاجی علی درگاہ میں دیکھنے کو ملی جہاں اس سال ایک خصوصی بین المذاہب سحری کا اہتمام کیا گیا۔ اس اجتماع میں مختلف مذاہب اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور بھائی چارے اور باہمی احترام کی ایک دلکش تصویر پیش کی۔

درگاہ کے چیئرمین سہیل کھنڈوانی نے اس موقع پر اعلان کیا کہ درگاہ کے قریب واقع جزیرے پر ملک کا سب سے بلند قومی پرچم نصب کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ حب الوطنی اور قومی یکجہتی کی علامت ہوگا۔ چونکہ یہ مقام سمندر کے درمیان واقع ہے اس لیے پرچم کے لیے خصوصی دھاتی ڈھانچہ اور مضبوط بنیاد تیار کی جائے گی تاکہ موسمی اثرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

پندرہویں صدی میں تعمیر ہونے والی تاریخی حاجی علی درگاہ ممبئی کی روحانی اور ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ یہ مزار عظیم صوفی بزرگ حضرت پیر حاجی علی شاہ بخاری سے منسوب ہے جن کا تعلق قدیم فارسی شہر بخارا سے بتایا جاتا ہے جو آج کل ازبکستان کا حصہ ہے۔ روایت کے مطابق انہوں نے دنیاوی آسائشوں کو ترک کر کے روحانیت کی راہ اختیار کی اور بعد میں ممبئی میں قیام کیا۔

بحیرہ عرب کے درمیان واقع سفید گنبد والی یہ درگاہ ہند اسلامی طرز تعمیر کی ایک خوبصورت مثال پیش کرتی ہے۔ مدوجزر کے دوران کبھی یہ مقام خشکی سے جڑا ہوا نظر آتا ہے اور کبھی ایک الگ جزیرے کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس کی قدرتی خوبصورتی زائرین کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔

ہر سال لاکھوں عقیدت مند ہندوستان کے مختلف علاقوں کے علاوہ بیرون ملک سے بھی اس درگاہ کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ جمعرات اور جمعہ کے دن یہاں زائرین کی خاصی بھیڑ دیکھنے کو ملتی ہے۔ لوگ یہاں دعا کرتے ہیں اور صوفی تعلیمات سے روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔

رمضان المبارک کے دوران اس درگاہ کی رونقیں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ افطار اور سحری کے اوقات میں یہاں عبادت، دعا اور انسانی ہمدردی کا ایک دلنشیں منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ مختلف مذاہب کے افراد کی مشترکہ شرکت ممبئی کی اس روایت کو مضبوط بناتی ہے جس میں تنوع کے باوجود احترام اور ہم آہنگی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

یوں حاجی علی درگاہ میں منعقد ہونے والی سحری کی یہ محفل نہ صرف رمضان کی روحانیت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ یہ مقدس مہینہ محبت، رواداری اور انسانیت کو فروغ دینے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ ممبئی جیسے کثیر الثقافتی شہر میں ایسے اجتماعات مذہبی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بناتے ہیں اور ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ رمضان کا اصل پیغام اتحاد، ہمدردی اور بھائی چارہ ہے۔