نئی دہلی : آواز دی وائس
محرم صرف اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ نہیں بلکہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ثقافتی ورثے کی ایک زندہ علامت بھی ہے۔ ہر سال محرم کے موقع پر ملک کے مختلف علاقوں میں غیر مسلم برادریوں کی عقیدت اور شرکت قابلِ دید ہوتی ہے۔ کہیں وہ تعزیوں کے جلوس میں شریک نظر آتے ہیں تو کہیں اکھاڑوں کی روایات کو زندہ رکھتے ہیں۔ بعض مقامات پر مرثیہ خوانی میں حصہ لیتے ہیں اور کہیں امام حسینؑ کی عظیم قربانی کے احترام میں ماتمی رسوم سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ کربلا کا پیغام مذہبی حدود سے بالاتر ہو کر انسانیت اور انصاف کا مشترکہ سرمایہ ہے۔
اس بار بھی محرم کے دوران عقیدت اور بھائی چارے کے ایسے دل نشین مناظر دیکھنے کو ملے جنہوں نے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی خوبصورت روایت کو ایک بار پھر تازہ کر دیا۔ کہیں برادرانِ وطن احترام و عقیدت کے ساتھ علم کو بوسہ دیتے نظر آئے تو کہیں نوحہ خوانی اور مرثیہ خوانی میں شریک ہو کر اہلِ بیتؑ سے اپنی محبت کا اظہار کرتے دکھائی دیے۔ متعدد مقامات پر غیر مسلم برادریوں نے جلوسوں اور مجالس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور امام حسینؑ کی عظیم قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ یہ مناظر اس بات کا ثبوت ہیں کہ کربلا کا پیغام مذہبی سرحدوں سے ماورا ہو کر انسانیت کے دلوں میں جگہ رکھتا ہے۔ سرینگر میں محرم کی تقریبات کے دوران کشمیری پنڈت برادری کے افراد نے بھی شرکت کی اور امام حسینؑ کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
کشمیر سے اتر پردیش اور بہار سے کرناٹک تک ایسے منا ظر دیکھنے کو ملے ہیں جن میں ہندو اور مسلمان متحد نظر آئے ۔ دوست پور سے گونڈہ میں ساتویں محرم کے جلوس کے دوران مختلف مقامات پر لوگوں نے علم اور ذوالفقار کے جلوس کا عقیدت کے ساتھ استقبال کیا۔ راجندر نگر سمیت کئی علاقوں میں سبیلیں لگائی گئیں اور جلوس کے شرکا کی خدمت کی گئی۔
اسی طرح اتر پردیش کے دوست پور سے بھی ایک دل کو چھو لینے والا منظر سامنے آیا جہاں محرم کے جلوس میں دو برادرانِ وطن نوحہ خوانی کرتے نظر آئے۔ ان کے گرد سینکڑوں افراد پر مشتمل مجمع موجود تھا جو عقیدت اور احترام کے ساتھ اس نوحے کو سن رہا تھا۔ یہ منظر محض ایک مذہبی تقریب کا حصہ نہیں تھا بلکہ اس سرزمین کی اس مشترکہ تہذیب کا عکاس تھا جس میں امام حسینؑ کی یاد اور کربلا کا پیغام مذہبی شناختوں سے بالاتر ہو کر دلوں کو جوڑتا ہے۔ ایسے مناظر اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ ہندوستان کی اصل روح باہمی احترام مشترکہ ورثے اور ایک دوسرے کے جذبات میں شرکت سے عبارت ہے۔
اس بار بھی محرم نے ہندوستان کی مشترکہ تہذیب اور باہمی احترام کی خوبصورت تصویریں پیش کیں۔ راجندر نگر میں جب علم کا جلوس گزر رہا تھا تو متعدد ہندو خاندان اپنے گھروں کی بالکنیوں اور چھتوں پر جمع ہو گئے۔ انہوں نے احترام کے ساتھ علم کو بوسہ دیا اور اس پر پھول نچھاور کیے۔ اس موقع پر جذباتی وابستگی اور عقیدت کا ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس نے محرم کی تقریبات کو مذہبی حدود سے بلند ہو کر مشترکہ تہذیبی ورثے کی علامت بنا دیا۔ یہ منظر اس حقیقت کا آئینہ دار تھا کہ امام حسینؑ کی یاد اور کربلا کا پیغام آج بھی مختلف مذاہب کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا ذریعہ بنتا ہے۔
راجندر نگر میں محرم کے جلوس کے دوران ایک دل کو چھو لینے والا منظر دیکھنے کو ملا۔ جب علم گزر رہا تھا تو اپنے گھروں کی بالکنیوں اور چھتوں پر کھڑے ہندو بھائی عقیدت و احترام کے ساتھ اسے بوسہ دے رہے تھے اور اس پر پھول نچھاور کر رہے تھے۔ فضا میں محبت احترام اور عقیدت کی ایک خاص کیفیت محسوس کی جا سکتی تھی۔ یہ منظر اس ہندوستان کی نمائندگی کرتا ہے جہاں مذہبی تنوع کے باوجود دل ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرنا جانتے ہیں اور جہاں کربلا کی یاد انسانوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنتی ہے نہ کہ تقسیم کرنے کا۔