نئی دہلی: راجستھان اسمبلی کا مانسون اجلاس جمعرات کو شروع ہوا، لیکن اہم اپوزیشن جماعت کانگریس کے ارکان نے کارروائی میں شرکت نہیں کی۔ کانگریس ارکان نے سرکاری اسکولوں میں بیرونی افراد کے داخلے پر مبینہ پابندی کے خلاف اسمبلی احاطے کے باہر دھرنا دیا۔ اجلاس کی کارروائی شروع ہوتے ہی اسمبلی اسپیکر واسودیو دیونانی نے اپوزیشن ارکان کی غیر موجودگی پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی نشستیں خالی دیکھ کر انہیں تکلیف ہو رہی ہے۔
انہوں نے اپوزیشن ارکان سے کارروائی میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال مناسب نہیں ہے۔ حکومت کے چیف وہپ جوگیشور گرگ اور پارلیمانی امور کے وزیر جوگارام پٹیل نے بھی ایوان سے غیر حاضر رہنے پر کانگریس ارکان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اسمبلی میں کچھ قانونی امور نمٹائے گئے اور مرحومین کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد کارروائی جمعہ تک ملتوی کر دی گئی۔
اس سے قبل کانگریس کے ارکان جمعرات کی صبح پودار گونگے اور بہرے بچوں کے اسکول پہنچے تھے۔ قائد حزب اختلاف ٹیکارام جولی نے اسکولوں میں بیرونی افراد کے داخلے اور میڈیا کوریج پر مبینہ پابندی کا معاملہ اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ یہ حکم واپس لیا جائے۔
جولی نے الزام لگایا کہ حکومت بچوں کی تحریک کو دبانا چاہتی ہے۔ بعد میں جولی کی قیادت میں کانگریس ارکان اسکول سے پیدل مارچ کرتے ہوئے اسمبلی کے مرکزی دروازے تک پہنچے۔ جب ارکان نے اجتماعی طور پر اسمبلی میں داخل ہونے کی کوشش کی تو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر انہیں روک دیا۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان دھکم پیل بھی ہوئی اور کئی رہنما بیریکیڈز پر چڑھ گئے۔ بعد ازاں کانگریس ارکان اسمبلی کے باہر ہی دھرنے پر بیٹھ گئے۔