نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے پارلیمنٹ مارچ کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلی بار نیٹ پیپر لیک معاملے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے مستقبل سے کسی بھی قسم کا کھلواڑ برداشت نہیں کیا جائے گا اور قصورواروں کو سخت سے سخت سزا دلائی جائے گی۔
این ڈی اے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پیپر لیک سیاست کا موضوع نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے مستقبل کو نقصان سے بچانے کے لیے دوبارہ امتحان کرایا گیا، جو کامیابی سے مکمل ہوا۔ مودی نے کہا کہ پیپر لیک سامنے آتے ہی حکومت نے فوری کارروائی کی اور طلبہ کے مسائل کے حوالے سے حکومت پوری طرح حساس ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہوں، اس کے لیے مؤثر انتظامات کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق یہ صرف مرکزی حکومت کا مسئلہ نہیں بلکہ تمام متعلقہ اداروں کو مل کر پیپر لیک کے ذمہ داروں کو سزا دلانے کے لیے کام کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم کا یہ بیان کاکروچ جنتا پارٹی کے پارلیمنٹ مارچ کے بعد سامنے آیا، جس میں اپوزیشن کے متعدد ارکانِ پارلیمنٹ بھی شریک تھے۔
مارچ کے دوران بعض مقامات پر جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد دہلی پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) نے لاٹھی چارج کیا اور پارلیمنٹ کے قریب مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے بھی داغے۔ دریں اثنا، سی جے پی کے نمائندوں سورَو داس اور آشوتوش راکاں نے مرکزی وزیر جے پی نڈا سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق دونوں کے درمیان دو مرحلوں میں بات چیت ہوئی، تاہم حکومت کی جانب سے مظاہرین کے مطالبات پر کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔
جے پی نڈا نے مظاہرین سے دھرنا ختم کرنے اور حالات معمول پر لانے میں انتظامیہ سے تعاون کی اپیل کی۔ انہوں نے نمائندوں سے مطالبات تحریری طور پر پیش کرنے کو کہا، جس کے بعد سی جے پی کے وفد نے شام تقریباً چار بجے انہیں اپنا تحریری یادداشت نامہ (میمورنڈم) پیش کر دیا۔