مودی نے نہرو کا ریکارڈ توڑ دیا، طویل ترین منتخب وزیر اعظم : آرٹیکل 370 سے رام مندر تک، 12 بڑے فیصلے

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 10-06-2026
مودی نے نہرو کا ریکارڈ توڑ دیا، تاریخ رقم
4399 دن مکمل، مودی طویل ترین منتخب وزیر اعظم
مودی نے نہرو کا ریکارڈ توڑ دیا، تاریخ رقم 4399 دن مکمل، مودی طویل ترین منتخب وزیر اعظم

 



نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کے اقتدار کے بارہ سال مکمل ہونے کے ساتھ ہی ملکی سیاست میں ایک اہم سنگ میل بھی عبور ہو گیا ہے۔ مودی نے مسلسل 4399 دن وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہ کر پنڈت جواہر لعل نہرو کا ریکارڈ پیچھے چھوڑ دیا ہے اور ملک کے طویل ترین مدت تک منتخب رہنے والے وزیر اعظم بن گئے ہیں۔ مئی 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد مودی حکومت نے متعدد ایسے فیصلے کیے جنہوں نے ملکی سیاست، معیشت، سماجی ڈھانچے اور عالمی سفارت کاری پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ڈیجیٹل انڈیا مہم سے لے کر یو پی آئی انقلاب، آرٹیکل 370 کی منسوخی، جی ایس ٹی کے نفاذ، رام مندر کی تعمیر، تین طلاق کے خلاف قانون سازی اور آتم نربھر بھارت مہم تک، گزشتہ بارہ برسوں میں کئی ایسے اقدامات سامنے آئے جو قومی مباحث کا مرکز بنے رہے۔ حکومت ان فیصلوں کو ترقی، خود کفالت اور نئے ہندوستان کی تعمیر کی بنیاد قرار دیتی ہے، جبکہ ناقدین ان کے مختلف سیاسی اور سماجی پہلوؤں پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مودی دور کے یہ فیصلے گزشتہ ایک دہائی کی ملکی سیاست اور حکمرانی کی سمت متعین کرنے والے اہم عوامل بن چکے ہیں۔

Main, Narendra Damodardas Modi…

وزیر اعظم مودی نے مسلسل منتخب ہونے والے سب سے طویل مدت تک خدمات انجام دینے والے وزیر اعظم کا ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیا ہے۔ انہوں نے 4399 دن مکمل کرکے پنڈت جواہر لعل نہرو کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ گزشتہ بارہ برسوں میں حکومت نے غریبوں کی فلاح، خواتین کو بااختیار بنانے، کسانوں کی بہبود، نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنے، جدید بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے متعدد اقدامات کیے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خواتین کے نام پر 32 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے گئے جبکہ 91 لاکھ سے زائد سیلف ہیلپ گروپس کے ذریعے دیہی خواتین کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی۔ ملک میں میٹرو ریل نیٹ ورک 1100 کلومیٹر سے تجاوز کر گیا ہے۔ 164 وندے بھارت ٹرینیں چل رہی ہیں۔ ہوائی اڈوں کی تعداد 74 سے بڑھ کر 164 ہو گئی ہے جبکہ دو لاکھ بیس ہزار سے زیادہ اسٹارٹ اپس قائم ہوئے ہیں۔

ذیل میں مودی حکومت کے بارہ اہم فیصلوں اور اقدامات کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔

ڈیجیٹل انڈیا انقلاب

ڈیجیٹل انڈیا مہم مودی حکومت کے سب سے نمایاں منصوبوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے سرکاری خدمات کو آن لائن بنایا گیا۔ ای گورننس کو فروغ دیا گیا اور انٹرنیٹ کی رسائی میں اضافہ کیا گیا۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور آن لائن خدمات نے عوام اور حکومت کے درمیان رابطے کو آسان بنایا۔ آج ملک دنیا کی بڑی ڈیجیٹل معیشتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

بنیادی ڈھانچے کی غیر معمولی توسیع

گزشتہ بارہ برسوں میں شاہراہوں۔ ایکسپریس ویز۔ ریلوے کے جدید نظام۔ میٹرو ریل اور دیہی سڑکوں کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی گئی۔ دور دراز علاقوں کو بہتر سڑکوں اور نقل و حمل کے ذرائع سے جوڑنے کی کوشش کی گئی جس سے تجارت اور سفری سہولتوں میں اضافہ ہوا۔

یو پی آئی اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کا انقلاب

یونیفائیڈ پیمنٹ انٹرفیس یعنی یو پی آئی نے مالی لین دین کا پورا نظام بدل دیا۔ موبائل فون کے ذریعے فوری ادائیگی ممکن ہوئی اور نقد رقم پر انحصار کم ہوا۔ دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں یو پی آئی نے ڈیجیٹل معیشت کو نئی رفتار دی۔

رام مندر کی تعمیر

ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر مودی دور کے سب سے اہم اور علامتی واقعات میں شمار کی جاتی ہے۔ کئی دہائیوں کے قانونی اور سیاسی تنازع کے بعد مندر کی تعمیر مکمل ہوئی جسے لاکھوں عقیدت مند ایک تاریخی کامیابی قرار دیتے ہیں۔

جی ایس ٹی کا نفاذ

اشیا اور خدمات ٹیکس یعنی جی ایس ٹی کے نفاذ کے ذریعے مختلف بالواسطہ ٹیکسوں کو ایک نظام کے تحت لایا گیا۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس سے ٹیکس کا نظام آسان ہوا اور پورے ملک میں ایک متحدہ منڈی کے قیام کو تقویت ملی۔

آرٹیکل 370 کی منسوخی

اگست 2019 میں حکومت نے جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی ریاست کی تنظیم نو کرکے اسے دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ مودی حکومت کے سب سے اہم سیاسی اقدامات میں شمار کیا جاتا ہے۔

تین طلاق پر پابندی

فوری تین طلاق کے رواج کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے حکومت نے قانون سازی کی۔ حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد مسلم خواتین کو انصاف۔ تحفظ اور وقار فراہم کرنا تھا۔ اس فیصلے پر ملک بھر میں وسیع بحث بھی ہوئی۔

سوچھ بھارت مشن

صفائی ستھرائی کے قومی مشن کے تحت لاکھوں بیت الخلا تعمیر کیے گئے اور عوام میں حفظان صحت کے بارے میں بیداری پیدا کی گئی۔ اس مہم کو حکومت کی نمایاں عوامی فلاحی اسکیموں میں شمار کیا جاتا ہے۔

آتم نربھر بھارت مہم

خود کفالت کے نظریے کے تحت مقامی صنعتوں۔ گھریلو پیداوار اور ملکی کاروبار کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی۔ اس مہم کا مقصد درآمدات پر انحصار کم کرنا اور مقامی پیداوار کو عالمی سطح پر مسابقتی بنانا تھا۔

فلاحی اسکیموں کا دائرہ وسیع

پردھان منتری آواس یوجنا۔ اجولا یوجنا۔ آیوشمان بھارت اور جل جیون مشن جیسی اسکیموں کے ذریعے کروڑوں افراد تک سرکاری سہولتیں پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ رہائش۔ صحت۔ پینے کے پانی اور صاف ایندھن کی فراہمی کو ترجیح دی گئی۔

عالمی سفارت کاری میں مضبوط موجودگی

مودی حکومت کے دور میں ملک نے عالمی سطح پر اپنی سفارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ کیا۔ جی ٹوئنٹی سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز میں فعال کردار ادا کیا گیا اور متعدد ممالک کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت دی گئی۔

اسٹارٹ اپ اور مینوفیکچرنگ شعبے کی ترقی

اسٹارٹ اپ انڈیا اور میک ان انڈیا جیسی مہمات کے ذریعے نوجوان کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ حکومت کے مطابق ان اقدامات سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا۔ اختراع کو فروغ ملا اور مینوفیکچرنگ شعبے کو نئی توانائی حاصل ہوئی۔

ایک بدلتے ہوئے ملک کی تصویر

حکومت کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ بارہ برسوں میں ملک نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی۔ بنیادی ڈھانچے۔ خواتین کو بااختیار بنانے۔ کسانوں کی بہبود اور عالمی اثر و رسوخ کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ مودی حکومت ان کامیابیوں کو ترقی یافتہ ملک کے خواب کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتی ہے جبکہ ناقدین ان اقدامات کے مختلف پہلوؤں پر بحث جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم اس میں شبہ نہیں کہ گزشتہ بارہ سال ملکی سیاست اور حکمرانی کے ایک اہم دور کے طور پر یاد کیے جائیں گے۔