نئی دہلی: اردو اکادمی دہلی کے زیرِ اہتمام انڈیا انٹرنیشنل سینٹر، نئی دہلی کے ملٹی پرپز ہال میں ’’میر تقی میر کی یاد میں‘‘ کے عنوان سے ایک باوقار ادبی و ثقافتی پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر جناب وپن گرگ کی مرتب کردہ ’’دیوانِ میر‘‘ کے ہندی ایڈیشن کی اشاعت کا جشن بھی منایا گیا۔ پروگرام کے پہلے حصے میں میر تقی میر کی شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات پر علمی مذاکرہ منعقد ہوا، جبکہ دوسرے حصے میں میر کی منتخب غزلوں پر مشتمل محفلِ غزل پیش کی گئی۔
یہ تقریب حکومتِ دہلی کے وزیر برائے فن، ثقافت و السنہ اور اردو اکادمی دہلی کے چیئرمین جناب کپل مشرا کی سرپرستی اور تعاون سے منعقد ہوئی۔ حکومتِ دہلی کے مسلسل تعاون کے باعث اردو اکادمی کی ادبی و ثقافتی سرگرمیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔
تقریب کا آغاز محکمۂ فن، ثقافت و السنہ، حکومتِ دہلی کے ایڈیشنل سیکریٹری اور اردو اکادمی دہلی کے سیکریٹری جناب لیکھ راج کے خیرمقدمی خطاب سے ہوا۔ انہوں نے مہمانانِ خصوصی جناب امت یادو، جناب پی کے ترپاٹھی، جناب اشوک مہیشوری اور ممتاز غزل گلوکارہ محترمہ ودیا شاہ کا گلدستے پیش کرکے استقبال کیا۔
اپنے خطاب میں لیکھ راج نے کہا کہ جناب وپن گرگ نے دیوانِ میر کو ہندی میں مرتب کرکے ایک اہم ادبی خدمت انجام دی ہے۔ اس اشاعت کے ذریعے میر تقی میر کی شاعری ہندی قارئین کے ایک وسیع حلقے تک پہنچ سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ میر کا کلام ہر دور میں اپنی تازگی، گہرائی اور اثر آفرینی برقرار رکھتا ہے اور تین صدیوں بعد بھی اسی طرح دلوں کو متاثر کرتا ہے۔
پروگرام کے پہلے سیشن میں ’’میر تقی میر: شاعر، شاعری اور ادبی وراثت‘‘ کے موضوع پر علمی مذاکرہ ہوا، جس میں معروف صحافی اور داستان گو جناب دارین شاہدی نے دیوانِ میر کے ہندی ایڈیشن کے مرتب و مدیر جناب وپن گرگ سے تفصیلی گفتگو کی۔
وپن گرگ نے بتایا کہ انہیں بچپن ہی سے شاعری سے گہری دلچسپی تھی، لیکن جب انہوں نے میر کو پڑھنے کی خواہش کی تو معلوم ہوا کہ میر کا مکمل کلام ہندی میں دستیاب نہیں۔ اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے انہوں نے اردو اکادمی دہلی کے اردو سرٹیفکیٹ کورس میں داخلہ لیا، اردو سیکھی اور پھر اصل متن سے میر کا مطالعہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے پر کام کا آغاز 2007 میں کیا گیا تھا اور یہ کتاب تقریباً بیس برس کی مسلسل محنت، تحقیق اور جستجو کا ثمر ہے۔
انہوں نے کہا کہ میر کی شاعری کی سب سے نمایاں خصوصیت عام بول چال کی زبان، روزمرہ محاوروں کا خوبصورت استعمال اور بے ساختگی ہے، جس نے انہیں دیگر شعرا سے ممتاز بنایا۔ مذاکرے کے دوران دارین شاہدی نے بھی میر تقی میر کی زندگی سے متعلق متعدد دلچسپ واقعات بیان کیے، جنہیں حاضرین نے بے حد پسند کیا۔ اختتام پر لیکھ راج نے دونوں مقررین کو گلدستے پیش کرکے ان کا شکریہ ادا کیا۔
پروگرام کے دوسرے حصے میں ممتاز غزل گلوکارہ ودیا شاہ نے اپنی مترنم آواز میں میر تقی میر کی منتخب غزلیں پیش کیں، جنہیں حاضرین نے بے حد سراہا۔ اس موقع پر نوجوان شاعر ڈاکٹر عبداللہ مراش نے موسیقی، شاعری اور میر کی غزلوں کی غنائیت پر اپنے مختصر مگر فکرانگیز تاثرات پیش کیے۔
قریب کی نظامت جناب اطہر سعید نے نہایت عمدگی سے انجام دی اور اپنے شستہ اندازِ گفتگو سے سامعین کو پوری محفل سے وابستہ رکھا۔آخر میں محکمۂ فن، ثقافت و السنہ کے ایڈیشنل سیکریٹری اور اردو اکادمی دہلی کے سیکریٹری جناب لیکھ راج نے تمام مہمانوں، مقررین، فنکاروں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر ایم آر قاسمی، جناب حبیب سیفی، ڈاکٹر شبانہ نذیر، جناب ساحر داؤد نگری، ڈاکٹر ذکی طارق، جناب علیم الدین اسعدی، جناب حامد علی اختر، جناب شمیم اختر، ڈاکٹر امیر حمزہ، جناب ابوذر فاطمی، جناب امتیاز احمد سمیت میر کے متعدد شائقین، اہلِ قلم اور ادب دوست افراد بڑی تعداد میں موجود تھے۔