آواز دی وائس، دیوبند
معروف عالمِ دین ، دارالعلوم وقف دیوبند کے مایہ ناز قدیم استاذ ، ادیب باکمال ، بیسیوں کتابوں کے مصنف ، سید ازہر شاہ قیصرؒ کے صاحبزادے اور علامہ سید انور شاہ کشمیری کے پوتے مولانا سید نسیم اختر شاہ قیصر کا دیوبند میں انتقال ہوگیا۔
مولانا سید نسیم اختر شاہ قیصر کا اصل نام نسیم شاہ اور قلمی نام نسیم اختر شاہ قیصر تھا، پیدائش دیوبند میں 25 اگست 1960ء میں ہوئی، تعلیم از اول تا آخر دارالعلوم دیوبند سے حاصل کی۔ ادیب، ادیب ماہر، ادیب کامل اور معلم اردو جامعہ اردو علی گڑھ سے کیا۔
عالم دینیات، ماہر دینیات، فاضل دینیات جامعہ دینیات دیوبند سے کیا۔ اسلامیہ انٹر کالج دیوبند سے عصری تعلیم حاصل کی، ایم، اے، اردو آگرہ یونیورسٹی آگرہ سے کیا۔
جنوری 1973ء میں مضمون نگاری کا آغاز کیا اور حین حیات 1300 سے زائد دینی، علمی، فکری، ادبی، تحقیقی، شخصی، سماجی اور سیاسی مضامین، پچاس سے زائد کتابوں پر آرا، تقاریظ اور تاثرات قلم بند فرمائے۔
ماہنامہ ”طیب“ دیوبند، پندرہ روزہ ”اشاعت حق“ دیوبند، پندرہ روزہ ”ندائے دارالعلوم“ دیوبند، پندرہ روزہ ”دیوبند ٹائمز“ دیوبند جیسے ادبی اور مقبول رسالوں کے مدیر رہے۔
روزنامہ ”ہندوستان ایکسپریس“ دہلی، روزنامہ ”ہمارا سماج“ دہلی، روزنامہ ”خبریں“ دہلی جیسے مشہور اخبارات میں کئی سالوں تک مستقل کئی سالوں تک کالم لکھا۔ آل انڈیا ریڈیو دہلی کی اردو مجلس اور سروس سے بھی آپ کی نشریات مقبول خاص و عام رہی۔ ملک کے طول و عرض میں منعقد ہونے والے مختلف علمی، دینی، ادبی اور تعلیمی سمیناروں میں شرکت فرمائی۔
آپ کی تصانیف کی تعداد تقریبا بائیس ہے جس نے علمی و ادبی حلقوں میں خوب داد و تحسین حاصل کی ہے جن میں اہم کتابیں: „حرفِ تابندہ، سیرت رسول ﷺ واقعات کے آئینے میں، میرے عہد کے لوگ، جانے پہچانے لوگ، خوشبو جیسے لوگ، اپنے لوگ، کیا ہوئے یہ لوگ، میرے عہد کا دارالعلوم، اکابر کا اختصاصی پہلو، وہ قومیں جن پر عذاب آیا، اسلام اور ہمارے اعمال، خطباتِ شاہی، مقبول تقریریں، جانشین امام العصر، شیخ انظر، اوراق شناسی، دو گوہر آبدار، اعمال صالحہ، سید محمد ازہر شاہ قیصر، ایک ادیب، ایک صحافی“ ہیں۔ آپ کے تین فرزند عبید انور شاہ، عزیر انور شاہ، خبیب انور شاہ کے علاوہ صاحبزادیاں بھی ہیں۔
گونا گوں خصوصیات کے حامل خاندانی روایتوں کے امین و پاسدار، قابل پسر کے قابل فخر فرزند مولانا نسیم اختر شاہ قیصر صاحب اپنی اولاد سمیت سیکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں موجود آپ سے فیض یافتہ طلبہ کرام، متعلقین اور محبین کو چھوڑ کر ہمیشہ ہمیش کے لیے رخصت ہوگئے۔