ایودھیا کے پرامن حل کے لیے مولانا سلمان ندوی کی کوششوں کو یاد رکھا جائے گا ۔ روی شنکر

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 30-06-2026
ایودھیا تنازع کے پرامن حل کے لیے مولانا سلمان ندوی کی کوششوں کو یاد رکھا جائے گا ۔ گرو دیو سری سری روی شنکر
ایودھیا تنازع کے پرامن حل کے لیے مولانا سلمان ندوی کی کوششوں کو یاد رکھا جائے گا ۔ گرو دیو سری سری روی شنکر

 



بنگلور، 29 جون۔ آرٹ آف لیونگ کے بانی اور روحانی رہنما گرو دیو سری سری روی شنکر نے ممتاز اسلامی عالم مولانا سلمان حسینی ندوی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا سلمان حسینی ندوی نے اپنی زمینی زندگی کا سفر مکمل کرکے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔

 یاد رہے کہ سید سلمان حسینی ندوی ہندوستان کے ممتاز اسلامی اسکالر۔ معروف خطیب۔ نامور مصنف اور عربی و اردو کے جید ادیب تھے۔ ان کا تعلق ایک ممتاز علمی و دینی خانوادے سے تھا اور وہ ندوۃ العلماء کے نمایاں اور مؤقر علماء میں شمار کیے جاتے تھے۔

گرو دیو سری سری روی شنکر نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ انہیں مولانا سلمان حسینی ندوی کے ساتھ گزرے وہ خوشگوار لمحات آج بھی یاد ہیں جب دونوں شخصیات نے ایودھیا تنازع کے خوش اسلوبی اور باہمی مذاکرات کے ذریعے پرامن حل کی کوششوں میں ایک ساتھ کام کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا سلمان ندوی ہمیشہ افہام و تفہیم اور مکالمے کے ذریعے مسائل کے حل کے حامی رہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا سلمان حسینی ندوی کا ملک کے بارے میں وژن نہایت وسیع اور دور اندیش تھا۔ بالخصوص مسلم برادری کے حوالے سے ان کی سوچ ترقی پسند تھی اور وہ معاشرے کے تمام طبقات کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے مخلصانہ جذبہ رکھتے تھے۔

گرو دیو نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ مولانا سلمان ندوی کی خدمات اور ان کی مثبت فکر ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی رحمتوں میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور حوصلہ عطا کرے۔انہوں نے اپنے تعزیتی پیغام کا اختتام اہل خانہ کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کے ساتھ کیا اور کہا کہ اس دکھ کی گھڑی میں ان کی تمام تر ہمدردیاں مرحوم کے خاندان کے ساتھ ہیں۔

 مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کے انتقال پر جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی کا اظہار تعزیت

 جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے ممتاز اسلامی عالم، مصنف، ماہر تعلیم اور دانشور مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے امت مسلمہ اور عالم اسلام کے علمی حلقوں کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔اپنے تعزیتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کے اچانک انتقال کی خبر سے انہیں شدید صدمہ پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم دور حاضر کے ممتاز عالم دین، معروف مصنف، ماہر تعلیم اور بلند پایہ دانشور تھے۔ ان کا انتقال نہ صرف ان کے اہل خانہ اور شاگردوں بلکہ پوری امت مسلمہ اور عالم اسلام کے علمی و دینی حلقوں کے لیے ایک بڑا خسارہ ہے۔

سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ مولانا سلمان ندویؒ نے اپنی پوری زندگی تعلیم، تحقیق، دعوت دین، فکری رہنمائی اور علمی و تعلیمی اداروں کی تعمیر و ترقی کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ قرآن، حدیث، سیرت اور اسلامی فقہ کے ایک ممتاز استاد کی حیثیت سے انہوں نے ہندوستان اور بیرون ملک ہزاروں طلبہ کی تعلیم و تربیت کی۔ ان کی تصانیف، مقالات، خطبات اور دیگر علمی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے ایک گراں قدر علمی سرمایہ ہیں جن سے امت مسلمہ طویل عرصے تک استفادہ کرتی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء اور جامعہ سید احمد شہید سے ان کی طویل وابستگی، جمعیت شباب الاسلام کی قیادت، متعدد تعلیمی اور طبی اداروں کے قیام میں ان کا کلیدی کردار، علم دین کی اشاعت، کردار سازی اور سماجی خدمت کے میدان میں ان کی گرانقدر خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے دینی علوم کی گہری بصیرت کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ہندوستان اور عالمی سطح پر اسلامی فکر کو نئی جہت عطا کی۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی بڑا مفکر انسانی کمزوریوں اور لغزشوں سے مکمل طور پر مبرا نہیں ہوتا۔ مولانا سلمان ندویؒ کے بعض خیالات، مواقف اور بیانات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن اس بنیاد پر ان کی ہمہ جہت اور عظیم خدمات کی اہمیت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے جماعت اسلامی ہند کی جانب سے مولانا مرحوم کے اہل خانہ، شاگردوں، رفقائے کار، عقیدت مندوں اور پوری ملت اسلامیہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اس غم کی گھڑی میں برابر کی شریک ہے۔اپنے پیغام کے اختتام پر سید سعادت اللہ حسینی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کی لغزشوں کو معاف فرمائے، اسلام کے لیے ان کی تمام عمر کی خدمات کو صدقہ جاریہ بنائے، انہیں صالحین کے اعلیٰ درجات میں جگہ عطا فرمائے، جنت الفردوس میں بلند مقام نصیب کرے اور امت مسلمہ کو ایسے باکردار، باصلاحیت اور مخلص علماء عطا فرمائے جو دین کی خدمت کے اس عظیم مشن کو آگے بڑھاتے رہیں۔

 یاد رہے کہ مولانا سید سلمان حسینی ندوی کی زندگی کا آخری دور ان کی علمی خدمات کے ساتھ ساتھ ان متنازع بیانات کی وجہ سے بھی یاد کیا جاتا ہے، جنہوں نے علمی حلقوں میں ایک وسیع بحث کو جنم دیا۔ انتقال 29 جون 2026 کو مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال ہو گیا، اس کے باوجود، ان کی علمی خدمات، تدریسی سرگرمیاں اور تصنیفی کام اسلامی علمی دنیا کا ایک حصہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ اپنی مشیت کے مطابق معاملہ فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، اور امتِ مسلمہ کو حق پر قائم رہنے اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت و تعظیم پر ثابت قدم رکھے۔