متھرا: اتر پردیش کے متھرا میں شری کرشن جنم بھومی-شاہی عیدگاہ تنازع کو حل کرنے کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایت پر دونوں فریقوں کے درمیان جمعہ کو ہونے والی بات چیت بے نتیجہ رہی۔ وکلا نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔ وکلا کے مطابق دونوں فریقوں نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (چہارم) کی عدالت میں اپنے اپنے دلائل پیش کیے، تاہم کسی اتفاق رائے تک نہیں پہنچا جا سکا۔ اب دونوں فریقوں کے درمیان 18 اگست کو دوبارہ بات چیت ہوگی۔
وکلا نے کہا کہ اگر اس مرتبہ بھی کوئی مثبت حل نہیں نکلتا تو معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی امید کی جائے گی۔ متھرا میں بھگوان شری کرشن کی جائے پیدائش اور مندر احاطے میں واقع شاہی عیدگاہ کو لے کر گزشتہ کئی برسوں سے تنازع جاری ہے۔ تقریباً ڈیڑھ درجن درخواست گزاروں نے خود کو بھگوان شری کرشن کا خصوصی عقیدت مند قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ شاہی عیدگاہ شری کرشن جنم بھومی ٹرسٹ کی ملکیت والی 13.37 ایکڑ زمین پر واقع ہے۔
انہوں نے اس زمین کو ہندو فریق کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان دعوؤں سے متعلق کئی مقدمات الہ آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں۔ وکلا نے بتایا کہ ان مقدمات کو باہمی مصالحت کے ذریعے حل کرنے کے لیے سپریم کورٹ نے دونوں فریقوں کو ضلع قانونی خدمات اتھارٹی کے ذریعے بات چیت کرکے حل تلاش کرنے کی ہدایت دی تھی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (چہارم) کی عدالت میں 4 جولائی کو ہندو فریق نے مسلم فریق کو تجویز دی تھی کہ عیدگاہ کو متنازع زمین سے ہٹا کر کسی دوسری جگہ تعمیر کے لیے زمین فراہم کی جائے۔ تاہم اس وقت مسلم فریق کا کوئی نمائندہ عدالت میں موجود نہیں تھا۔ اس کے بعد جمعہ کو دوبارہ بات چیت کی تاریخ مقرر کی گئی۔
ہندو فریق کے وکیل مہندر پرتاپ سنگھ نے بتایا کہ اس مرتبہ بھی ان کی جانب سے مسلم فریق کو دوسری جگہ زمین فراہم کرنے اور متنازع زمین مندر ٹرسٹ کے حوالے کرنے کی تجویز دی گئی۔ دوسری جانب مسلم فریق کے نمائندے اور شاہی عیدگاہ انتظامیہ کمیٹی کے سکریٹری وکیل تنویر احمد نے ہندو فریق کی تجویز مسترد کر دی۔
انہوں نے 1968 میں شری کرشن جنم استھان سیوا سنگھ اور انتظامیہ کمیٹی کے درمیان ہوئے معاہدے پر قائم رہنے کی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ جب معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے تو عدالت ہی تمام حقائق پر غور کرکے یہ فیصلہ کرے کہ کس فریق کا دعویٰ درست ہے۔ ان کے مطابق ایسی صورت میں مصالحتی مذاکرات کی ضرورت نہیں ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (چہارم) اروند کمار نے آخری کوشش کے طور پر ایک اور خصوصی لوک عدالت منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت دونوں فریقوں کو 18 اگست کو حاضر ہوکر تنازع کا حل تلاش کرنے کا ایک اور موقع دیا جائے گا۔