دیواس/اندور: مدھیہ پردیش کے دیواس میں یتیم خانے کی لڑکیوں سے شادی کرانے کا جھانسہ دے کر 42 دولہوں اور ان کے اہلِ خانہ سے دھوکہ دہی کرنے کے الزام میں پولیس نے ایک میاں بیوی کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے ایک افسر نے پیر کے روز یہ اطلاع دی۔
دیواس کے بینک نوٹ پریس تھانے کے سب انسپکٹر راہل پرمار نے ‘پی ٹی آئی-بھاشا’ کو بتایا کہ شادی کے نام پر دھوکہ دہی کے اس معاملے میں چار افراد کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کے تحت فراڈ کا مقدمہ اتوار دیر رات درج کیا گیا۔ پرمار نے بتایا کہ پولیس نے اس معاملے میں سنیتا داس بیراگی اور اس کے شوہر مکیش داس بیراگی کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ دو مفرور ملزمان — نرسنگھ داس بیراگی اور دنیش داس بیراگی — کی تلاش جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملزمان نے دولہوں اور ان کے خاندان والوں سے کہا تھا کہ وہ دیواس کے ایک مذہبی مقام پر اجتماعی تقریب کے دوران ان کی شادی کروائیں گے، اور اس کے بدلے ان سے 10 ہزار سے 25 ہزار روپے تک وصول کیے گئے۔ پرمار کے مطابق، ملزمان نے دولہوں کو یہ جھانسہ دیا کہ ان کی دلہنیں اندور کے ایک یتیم خانے میں رہتی ہیں۔
سب انسپکٹر نے بتایا، ’’ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا ہے کہ ٹھگوں نے سوشل میڈیا سے خوبصورت لڑکیوں کی تصاویر حاصل کیں اور انہیں متاثرہ خاندانوں کے سامنے دلہنوں کے طور پر پیش کیا۔‘‘ متاثرہ خاندانوں کے افراد نے بتایا کہ ریاست کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے دولہے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اتوار کی صبح دیواس کے طے شدہ مقام پر پہنچے اور رات 10 بجے تک دلہنوں کا انتظار کرتے رہے۔
جب انہیں دھوکہ دہی کا احساس ہوا تو وہ پولیس تھانے پہنچے اور مقدمہ درج کروایا۔ موقع پر موجود لوگوں کے مطابق، 42 دولہوں اور ان کے خاندان والوں کو شادی کے نام پر دھوکہ دیا گیا۔ تاہم، ایک افسر نے بتایا کہ اب تک صرف 10 متاثرہ خاندانوں نے پولیس سے رابطہ کیا ہے، جبکہ کئی خاندانوں نے سماجی شرمندگی کے خوف سے شکایت درج نہیں کرائی۔ افسر نے مزید بتایا کہ شادی کے نام پر دھوکہ دہی کے اس معاملے کی تفصیلی تحقیقات جاری ہیں۔