حیدرآباد: مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کے وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن کی مدتِ کار میں باضابطہ توسیع کر دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر اشتیاق احمد نے جمعرات کو باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا۔ وزارتِ تعلیم کے محکمۂ اعلیٰ تعلیم کی جانب سے 22 جولائی 2026 کو جاری ہونے والے سرکاری مکتوب کے مطابق، ہندوستان کی صدر جمہوریہ نے یونیورسٹی کی وزیٹر کی حیثیت سے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے پروفیسر سید عین الحسن کی بطور وائس چانسلر مدتِ کار میں توسیع کی منظوری دی ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے اس فیصلے کو پروفیسر سید عین الحسن کی نمایاں علمی خدمات اور یونیورسٹی میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ یونیورسٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، گزشتہ پانچ برسوں میں پروفیسر سید عین الحسن کی قیادت میں مانو نے تعلیم، تحقیق، معیار اور ادارہ جاتی ترقی کے میدان میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہی خدمات کے اعتراف میں ان کی مدتِ کار میں توسیع کی گئی ہے تاکہ یونیورسٹی کی ترقی کا سفر بلا رکاوٹ جاری رہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کی قیادت میں شروع کیے گئے مختلف تعلیمی اور انتظامی اقدامات آئندہ برسوں میں بھی یونیورسٹی کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوں گے۔
واضح رہے کہ پروفیسر سید عین الحسن کو 23 جولائی 2021 کو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کا پانچواں وائس چانسلر مقرر کیا گیا تھا، جبکہ انہوں نے 28 جولائی 2021 کو باقاعدہ طور پر عہدے کا چارج سنبھالا تھا۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو مضبوط بنانے، نئی قومی تعلیمی پالیسی کے مطابق نئے کورسز شروع کرنے اور قومی و بین الاقوامی سطح پر یونیورسٹی کی شناخت کو مستحکم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔ پروفیسر سید عین الحسن کے دورِ قیادت میں یونیورسٹی نے کئی نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
ان کی قیادت میں مانو کو نیشنل اسیسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل (NAAC) کی جانب سے A+ گریڈ حاصل ہوا، جسے ادارے کے اعلیٰ تعلیمی معیار کا اہم اعتراف سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی نے پہلی مرتبہ کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز: ایشیا 2026 میں جگہ بنائی، جبکہ وزارتِ تعلیم کی نیشنل انسٹی ٹیوشنل رینکنگ فریم ورک (NIRF) میں بھی اپنی موجودگی درج کرائی، جس سے قومی سطح پر اس کی ساکھ مزید مضبوط ہوئی۔ قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) کے مطابق ان کی قیادت میں یونیورسٹی میں کئی نئے تعلیمی پروگرام شروع کیے گئے۔
اسی سلسلے میں اسکول آف لا قائم کیا گیا، جہاں ایل ایل بی سمیت مختلف قانونی کورسز کرائے جا رہے ہیں۔ وقت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی جدید اور اختراعی کورسز بھی متعارف کرائے گئے تاکہ طلبہ کو روزگار سے ہم آہنگ اور جدید تعلیم فراہم کی جا سکے۔ ان کی مدتِ کار کی ایک اہم کامیابی مانو کے وارانسی کیمپس کا قیام بھی ہے، جہاں بی ایڈ کالج کے ساتھ فاصلاتی تعلیم کے طلبہ کے لیے ایک علاقائی مرکز بھی قائم کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی کے مطابق اس اقدام سے مشرقی اتر پردیش اور اطراف کے علاقوں کے طلبہ کو معیاری اردو ذریعۂ تعلیم تک بہتر رسائی حاصل ہوئی ہے۔
پروفیسر سید عین الحسن کی علمی، ادبی اور ثقافتی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند نے جنوری 2025 میں انہیں ملک کے ممتاز شہری اعزاز پدم شری سے نوازا تھا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اعزاز نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی بلکہ پوری یونیورسٹی کے لیے باعثِ فخر ہے۔ مدتِ کار میں توسیع کے اعلان کے بعد رجسٹرار پروفیسر اشتیاق احمد، اساتذہ، غیر تدریسی عملے اور طلبہ نے پروفیسر سید عین الحسن کو مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں یونیورسٹی آئندہ بھی تعلیم، تحقیق، اختراع اور ادارہ جاتی ترقی کے میدان میں نئی کامیابیاں حاصل کرے گی۔
پروفیسر سید عین الحسن نے اس موقع پر صدر جمہوریہ، وزارتِ تعلیم اور یونیورسٹی برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے لیے اعزاز کے ساتھ ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ توسیع شدہ مدتِ کار کے دوران بھی وہ تعلیمی معیار، معیاری تعلیم، تحقیق، اختراع اور ہمہ گیر ترقی کے فروغ کے لیے پوری سنجیدگی اور عزم کے ساتھ کام کرتے رہیں گے، تاکہ مانو کو قومی تعلیمی پالیسی کے مطابق ایک جدید، تحقیقی اور عالمی شناخت رکھنے والی یونیورسٹی بنایا جا سکے۔