نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز سال 2021 کے گورکھپور کے تاجر منیش گپتا کی موت کے معاملے میں گرفتار اتر پردیش پولیس کے سابق انسپکٹر جگت نارائن سنگھ کی باقاعدہ ضمانت کی درخواست پر سی بی آئی کو نوٹس جاری کیا ہے۔
عدالت نے سی بی آئی سے اسٹیٹس رپورٹ طلب کرتے ہوئے مقدمے کی اگلی سماعت 13 اگست مقرر کی ہے۔ یہ معاملہ 27 ستمبر 2021 کو گورکھپور کے ایک ہوٹل میں پولیس اہلکاروں کی مبینہ مارپیٹ کے بعد تاجر منیش گپتا کی موت سے متعلق ہے۔ پولیس اہلکاروں پر الزام عائد ہونے کے باعث سپریم کورٹ کی ہدایت پر اس معاملے کی جانچ سی بی آئی کے سپرد کر دی گئی تھی اور مقدمے کی سماعت نئی دہلی منتقل کر دی گئی تھی۔
جسٹس منوج جین کی بنچ نے ملزم کی جانب سے وکیل کنہیا سنگھل کے ذریعے دائر ضمانت کی درخواست پر سی بی آئی سے جواب طلب کیا اور نامزد قیدی کی رپورٹ (نومینل رول) بھی طلب کی۔ سی بی آئی کی جانب سے وکیل رِپُودمن بھاردواج نے نوٹس قبول کرتے ہوئے اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کے لیے مہلت مانگی۔ اس مقدمے میں مجموعی طور پر چھ پولیس اہلکار ملزم ہیں۔
جنوری 2023 میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے الزامات طے کرنے کے حکم کو چیلنج کرنے والی درخواست کو دہلی ہائی کورٹ ستمبر 2023 میں پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔ اس وقت عدالت نے کہا تھا کہ دستیاب شواہد اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کی بنیاد پر ٹرائل کورٹ نے الزامات طے کرنے میں کوئی غلطی نہیں کی۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ سر انسانی جسم کا نہایت حساس حصہ ہے اور اس پر شدید چوٹ موت کا سبب بن سکتی ہے۔
منیش گپتا کی اہلیہ میناکشی گپتا کی شکایت پر 29 ستمبر 2021 کو اس وقت کے ایس ایچ او جگت نارائن سنگھ سمیت چھ پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ سی بی آئی کی چارج شیٹ کے مطابق، 27 اور 28 ستمبر 2021 کی درمیانی شب گورکھپور کے ہوٹل کرشنا پیلس میں تفتیش کے لیے پہنچے پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر منیش گپتا اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ مارپیٹ کی، جس کے دوران منیش گپتا شدید زخمی ہو گئے اور بعد میں اسپتال میں انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔ سی بی آئی نے جگت نارائن سنگھ کے خلاف تعزیراتِ ہند کی مختلف دفعات، جن میں دفعہ 302 (قتل) بھی شامل ہے، کے تحت چارج شیٹ داخل کی ہے۔ فی الحال ٹرائل کورٹ میں استغاثہ کے شواہد قلم بند کیے جا رہے ہیں۔