امپھال: منی پور کے اُکھرول ضلع میں تانگ کھول ناگا برادری کے ایک رکن پر مبینہ حملے کے بعد بھڑکے تشدد کے دوران منگل کی صبح کچھ خالی مکانات کو آگ لگا دی گئی اور فائرنگ کی گئی۔ حالات کے پیش نظر ریاستی حکومت نے ضلع میں پانچ دن کے لیے انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی ہیں۔
پولیس کے مطابق، لِتان سارےئکھونگ علاقے میں فائرنگ اور آتش زنی کا یہ واقعہ ایک دن قبل تانگکھول ناگا کی دو تنظیموں کی جانب سے اُکھرول اور کامجونگ اضلاع میں کوکی برادری کی نقل و حرکت پر پابندی لگانے کے بعد پیش آیا۔ ایک پولیس افسر نے کہا، “مسلح افراد نے لِتان سارےئکھونگ میں کچھ خالی مکانات کو آگ لگا دی اور فائرنگ کی۔ صورتحال کشیدہ ہے اور سیکورٹی فورسز حالات پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
” انہوں نے بتایا کہ منی پور حکومت نے احتیاطی اور تدارکی اقدام کے طور پر اُکھرول ضلع کے ریونیو علاقے میں براڈ بینڈ، وی پی این اور وی سیٹ کے ذریعے چلنے والی انٹرنیٹ خدمات کو پانچ دن کے لیے معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اپنے گھروں سے فرار ہونے والے مقامی لوگوں نے علاقے میں فائرنگ روکنے میں مبینہ ناکامی پر سیکورٹی فورسز کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو کلپ میں پہاڑی علاقے میں گھنا دھواں پھیلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک اور افسر نے بتایا کہ گزشتہ دو دنوں سے لِتان سارےئکھونگ اور آس پاس کے کوکی اکثریتی دیہات سے خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت سیکڑوں کوکی اور تانگکھول ناگا دیہاتی محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، “کئی دیہاتیوں نے کوکی اکثریتی کانگپوکھپی ضلع کے موٹبونگ اور ساکُل کے کچھ حصوں میں پناہ لی ہے۔” منی پور کے وزیر گوونداس کونتھوجام نے پیر کو کہا تھا کہ کم از کم 21 مکانات جلائے جا چکے ہیں اور صورتحال اب بھی کشیدہ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حالات پر قابو پانے کے لیے اضافی سیکورٹی فورسز تعینات کی گئی ہیں۔
اسی دوران، لِتان تھانہ علاقے کے تحت لاملائی چِنگفئی کوکی گاؤں میں ٹرک خراب ہو جانے کے باعث پھنسے دو ڈرائیوروں کو پیر کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ تانگ کھول ناگا تنظیموں کاتھو لونگ اور کاتھو کاتمناؤ لونگ نے اُکھرول اور اس سے متصل کامجونگ ضلع میں کوکی برادری کی نقل و حرکت پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔