نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز منی پور میں 2023 میں ہونے والے نسلی تشدد کے معاملات پر سماعت کی۔ عدالت نے سی بی آئی کو ہدایت دی کہ وہ نسلی تشدد سے متعلق درج 11 ایف آئی آر کی جانچ پر دو ہفتوں کے اندر اسٹیٹس رپورٹ پیش کرے۔
چیف جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی کی بنچ نے ایک اہم تجویز بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے بجائے منی پور ہائی کورٹ یا گوہاٹی ہائی کورٹ کو ان معاملات کی ٹرائل اور تحقیقات کی نگرانی کرنی چاہیے۔ بنچ کے مطابق، منی پور ہائی کورٹ میں اب نئے چیف جسٹس تعینات ہو چکے ہیں، اس لیے وہ مقامی حالات کو بہتر طور پر سنبھال سکتے ہیں۔ عدالت نے مرکز اور منی پور حکومت کو ہدایت دی کہ وہ جسٹس گیتا مِتل کمیٹی کی سفارشات کو ہر صورت نافذ کریں۔ یہ کمیٹی متاثرین کی بازآبادکاری اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے تشکیل دی گئی تھی۔
اس کمیٹی میں تین سابق خاتون جج شامل ہیں، جو اب تک متاثرین کی مدد کے لیے متعدد رپورٹیں پیش کر چکی ہیں۔ منی پور میں مئی 2023 سے شروع ہونے والے تشدد میں اب تک 200 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ہزاروں افراد بے گھر ہوئے ہیں اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔ یہ تشدد اُس وقت بھڑکا تھا جب میتیئی برادری کو درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کا درجہ دینے کے مطالبے کے خلاف مظاہرے کیے گئے تھے۔
سماعت کے دوران وکلا نے کیا کہا؟ سماعت کے دوران متاثرہ فریق کی جانب سے پیش ہونے والی وکیل وِرندا گروور نے ایک متاثرہ خاتون کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے بتایا کہ اجتماعی زیادتی کا شکار ایک کوکی خاتون گزشتہ ماہ صدمے اور بیماری کے باعث انتقال کر گئی۔ وکیل نے الزام عائد کیا کہ سی بی آئی نے چارج شیٹ کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کیں اور مرکزی ملزم بھی عدالت میں پیش نہیں ہو رہا ہے۔ انہوں نے تحقیقات میں لاپروائی کا الزام لگایا۔
اس پر حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ متاثرین کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ منی پور میں حالات اب پہلے کے مقابلے میں بہتر اور پرامن ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ متاثرین کو مفت قانونی مدد فراہم کی جانی چاہیے۔ اگر مقامی سطح پر وکیل دستیاب نہیں ہیں تو گوہاٹی بار سے وکلا بھیجے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب، وکیل کولن گونزالویس نے شکایت کی کہ انہیں کمیٹی کی رپورٹ موصول نہیں ہو رہی، جس کی وجہ سے بازآبادکاری کا عمل سست پڑ گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ رپورٹ میں کچھ حساس معلومات شامل ہو سکتی ہیں، اس لیے اسے احتیاط کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ اب اس معاملے پر 26 فروری کو آئندہ سماعت کرے گا۔ عدالت نے جسٹس گیتا مِتل کمیٹی کی مدتِ کار بھی 31 جولائی تک بڑھا دی ہے تاکہ امدادی کام جاری رہ سکے۔