عدالت کو بم سے اڑانے کی جھوٹی دھمکی دینے والا گرفتار

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 23-07-2026
عدالت کو بم سے اڑانے کی جھوٹی دھمکی دینے والا گرفتار
عدالت کو بم سے اڑانے کی جھوٹی دھمکی دینے والا گرفتار

 



اجمیر:راجستھان پولیس نے اجمیر ضلع و سیشن عدالت کو بم سے اڑانے کی جھوٹی دھمکی دے کر خوف و ہراس پھیلانے کے الزام میں ایک شخص کو گجرات سے گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم نے جعلی ای میل آئی ڈی بنا کر عدالت کی سرکاری ای میل پر دھمکی آمیز پیغام بھیجا تھا۔

پولیس کے مطابق 17 جولائی 2026 کو اجمیر ضلع و سیشن عدالت کی سرکاری ای میل پر ایک پیغام موصول ہوا، جس میں عدالت کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی تھی۔ اطلاع ملتے ہی سکیورٹی ایجنسیاں حرکت میں آئیں اور احتیاطاً عدالت کی سکیورٹی سخت کر دی گئی۔ عدالتی انتظامیہ کی شکایت پر سول لائنز تھانے میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 353(1)(بی) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی گئی۔

اجمیر کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ہرش وردھن اگروالا نے بتایا کہ سائبر سیل کی خصوصی ٹیم نے جعلی ای میل آئی ڈی، ڈیجیٹل شواہد اور الیکٹرانک ریکارڈ کا تکنیکی تجزیہ کیا، جس کے بعد ملزم کی شناخت ممکن ہوئی۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ملزم 40 سالہ فلدو ہاردک، ولد رمیش چندر پٹیل ہے، جو گجرات کے ضلع گر سومناتھ کے پربھاس پاٹن کا رہائشی ہے۔

راجستھان پولیس نے مقامی پولیس کی مدد سے اسے گرفتار کر لیا۔ ابتدائی پوچھ گچھ میں ملزم نے جعلی ای میل آئی ڈی استعمال کر کے دھمکی بھیجنے کا اعتراف کیا، تاہم اس کے محرکات ابھی واضح نہیں ہو سکے۔ پولیس یہ بھی جانچ کر رہی ہے کہ آیا وہ کسی منظم گروہ سے وابستہ تھا یا اس نے صرف خوف و ہراس پھیلانے کے لیے یہ اقدام کیا۔

پولیس نے ملزم کے قبضے سے ملنے والے الیکٹرانک آلات بھی ضبط کر لیے ہیں، جن کا فرانزک تجزیہ جاری ہے تاکہ دھمکی بھیجنے کے لیے استعمال ہونے والے ذرائع کی مکمل معلومات حاصل کی جا سکیں۔ حکام نے کہا ہے کہ عدالتوں، سرکاری اداروں یا عوامی مقامات کو جھوٹی بم دھمکیاں دینا سنگین جرم ہے، کیونکہ اس سے عوام میں خوف پھیلتا ہے اور سکیورٹی اداروں کے وسائل پر غیر ضروری دباؤ پڑتا ہے۔ ملزم اس وقت پولیس ریمانڈ میں ہے اور اس سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اسے عدالت میں پیش کیا جائے گا، جبکہ کسی اور شخص کے ملوث ہونے کی صورت میں اس کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔