کولکاتا: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے منگل کو الیکشن کمیشن کو ایک سیاسی جماعت کے زیرِ اثر کام کرنے والا "تغلقی کمیشن" قرار دیتے ہوئے ریاست کی ووٹر فہرستوں میں بڑے پیمانے پر ہیر پھیر کا الزام عائد کیا۔ ریاستی سیکریٹریٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، بی جے پی کے آئی ٹی سیل کی ایک خاتون عہدیدار نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کرکے بنگال میں 58 لاکھ ووٹروں کے نام حذف کرا دیے۔
الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہا ہے، ووٹروں کو نشانہ بنا رہا ہے اور جمہوریت کو کمزور کر رہا ہے۔ ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے معاملے پر انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ہدایت پر الیکشن کمیشن خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران مغربی بنگال کے ووٹروں کے نام کاٹ رہا ہے۔
ترنمول کانگریس کی سربراہ نے کہا، منطقی تضادات کا حوالہ دے کر عوام کے جمہوری حقوق سلب کیے جا رہے ہیں اور عام لوگوں کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی کو خوش کرنے کے لیے بنگال کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے معطل کیے گئے سات اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز (اے ای آر او) کا دفاع کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا،اگر بنگال حکومت کے افسران کو نشانہ بنایا گیا تو ہم ان کا سو فیصد دفاع کریں گے، اور جنہیں عہدے سے ہٹایا گیا ہے انہیں ترقی دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ریاست میں ایس آئی آر کے حوالے سے تشویش اور کام کے دباؤ کے باعث 160 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔