کولکتہ: وہ پینٹنگ بھی کرتی ہیں ، وہ موسیقی بھی کمپوز کرتی ہیں اور نغموں کے بول بھی لکھتی ہیں۔
جنہیں ہم۔ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کے نام سے جانتے ہیں, ایک پوٹ کاسٹ میں ممتا بنرجی نے کہا کہ آٹھ سال سے اسی طرح چل رہی ہے زندگی،پنشن اب تقریباً پچھتر ہزار ہو گئی ہے پارلیمنٹ میں ہم نے سات سال تک ایک پیسہ بھی نہیں لیا اس طرح ہم نے حکومت کے کتنے لاکھ روپے بچائے۔ ہم پوری زندگی اکانومی کلاس میں ہی سفر کرتی رہی، جو یومیہ الاونس ملتا تھا وہ بھی ہم نے انیس سو اکانوے سے مکمل طور پر بچایا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ تیسری بات یہ ہے کہ چیف منسٹر ہوں مگر میں ایک پیسہ نہیں لیتی، نہ سرکاری گاڑی، اور نہ ہی سرکاری گیسٹ ہاؤس کا استعمال،اگر کہیں ٹھہرتی ہوں تو اپنے پیسوں سے رہتی ہوں۔اگر آپ پوچھیں کہ پیسہ کہاں سے آتا ہے، تو چیف منسٹر کی تنخواہ میں تقریباً ایک لاکھ ملتا ہے، پنشن بھی قریب ایک لاکھ ہے ، یعنی دو لاکھ کے قریب ہم کچھ نہیں لیتے یہاں تک کہ چائے بھی اپنے پیسوں سے پیتے ہیں۔اگر آپ پوچھیں یہ سب کیسے ممکن ہے تو بتا دوں کہ ہماری چھیاسی ستاسی کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں سے کئی بہترین فروخت ہونے والی کتابیں ہیں۔ ان سے ہمیں رائلٹی ملتی ہے اور موسیقی سے بھی رائلٹی آتی ہے۔ پینٹنگ سے ہم نے کبھی ایک پیسہ نہیں لیا بلکہ اسے عطیہ کر دیا۔لیکن نغمہ نگاری میں آمدنی ہوتی ہے اور جو کتابیں بیسٹ سیلر ہوتی ہیں ان سے بھی پیسہ آتا ہے جو ہمارے لیے کافی ہے بہت زیادہ نہیں ہوتا۔
موسیقی کے شعبے میں انودھر ہیں، بنگال کے نمبر ون آرٹسٹ ہیں میں آپ کو بتا رہی ہوں ان لوگوں نے ہمیں رائلٹی دی کمپنی کی طرف سے ایک سال میں تین لاکھ روپے رائلٹی ملی۔
کتابوں کے معاملے میں جس ایجنسی سے ہماری کتابیں چھپتی ہیں وہ بہت فروخت ہوتی ہیں اور کئی بیسٹ سیلر ہوتی ہیں اس سے ہمیں دس گیارہ لاکھ روپے تک مل جاتے ہیں۔ اب اتنا پیسہ کون خرچ کرے میں تو اکیلی ہوں، اس میں گزارا ہو جاتا ہے اور بہت سا بچ جاتا ہے جسے فلاحی کاموں پر خرچ کیا جاتا ہے-۔