آواز دی وائس/ نئی دہلی
ہم نے ایسی محبت پہلے کبھی نہیں دیکھی__
مہاراشٹر کے شہر بھیونڈی نے دینیات مسجد کے منتظمین کے پاؤں چھوتے ہوئے ایک دن غیر مسلم شخص نے یہ جملہ ادا کیا-دراصل مہاراشٹر کے شہر بھیونڈی میں نیٹ (NEET) 2026 کے امتحان کے موقع پر انسانیت، محبت اور باہمی احترام کی ایک ایسی خوبصورت مثال سامنے آئی جس نے مذہب، ذات اور برادری کی تمام دیواروں کو پس پشت ڈال دیا۔ دور دراز علاقوں سے اپنے بچوں کے ساتھ امتحانی مرکز پہنچنے والے والدین شدید گرمی اور طویل انتظار کی فکر میں مبتلا تھے، لیکن مقامی دینیات مسجد ٹرسٹ اور مسجد انتظامیہ نے ان کے لیے اپنے دروازے کھول کر راحت اور سکون کا بہترین انتظام کیا۔
مسجد میں والدین کے لیے ٹھنڈے پانی، جوس، چائے، ہلکے ناشتے، آرام دہ نشستوں اور کمروں کا بندوبست کیا گیا، جبکہ رضاکار مسلسل ان کی خدمت میں مصروف رہے۔ اس بے لوث خدمت اور خلوص نے آنے والے والدین کو اس قدر متاثر کیا کہ امتحان ختم ہونے کے بعد واپسی کے وقت کئی غیر مسلم والدین جذباتی ہو گئے۔
متعدد والدین نے مسجد انتظامیہ اور رضاکاروں کا شکریہ ادا کیا، جبکہ بعض غیر مسلم والدین نے احترام اور عقیدت کے اظہار کے طور پر وہاں موجود مسلم بزرگوں کے قدم چھو کر ان کی خدمت اور محبت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ کئی والدین کی آنکھیں نم تھیں اور وہ اس بات کا اعتراف کر رہے تھے کہ انہوں نے حقیقی بھائی چارہ، محبت اور انسانیت کا عملی نمونہ یہاں دیکھا ہے۔
یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ خدمتِ خلق، محبت اور انسان دوستی وہ مشترکہ اقدار ہیں جو دلوں کو جوڑتی اور معاشرے میں ہم آہنگی پیدا کرتی ہیں۔ بھیونڈی کی یہ مثال نہ صرف امتحان دینے والے طلبہ اور ان کے والدین کے لیے یادگار بن گئی بلکہ اس نے سماجی یکجہتی اور بین المذاہب احترام کا ایک مثبت پیغام بھی دیا۔
آئیے سنتے ہیں ان والدین، رضاکاروں اور مسجد انتظامیہ کے تاثرات جنہوں نے اس خوبصورت اور متاثر کن منظر کو قریب سے دیکھا اور محسوس کیا۔
امتحان کے لیے آنے والے متعدد والدین نے ان انتظامات کو مثالی قرار دیتے ہوئے مسجد انتظامیہ اور رضاکاروں کا شکریہ ادا کیا۔
یہ تجربہ زندگی بھر نہیں بھول سکیں گے ۔ جیوتی شرما
ایک خاتون جیوتی شرما (تھانے) نے کہا کہ "ہم چار افراد یہاں آئے تھے اور بارش و گرمی کی وجہ سے کافی فکرمند تھے کہ اتنے گھنٹے کہاں گزاریں گے۔ لیکن مسجد کے رضاکاروں نے جس محبت سے ہمارا استقبال کیا، پانی، جوس اور کھانے کا انتظام کیا اور آرام کے لیے جگہ فراہم کی، اس سے ہماری تمام پریشانیاں ختم ہوگئیں۔ واقعی یہاں انسانیت اور بھائی چارے کی بہترین مثال دیکھنے کو ملی۔
پچھلی بار جب نیٹ(NEET) کا امتحان ہوا تھا تو ہماری بیٹی کا امتحانی مرکز واشی میں تھا۔ اُس وقت میرے شوہر اسے امتحان دلانے کے لیے گئے تھے لیکن وہاں والدین کے لیے کوئی خاص انتظام موجود نہیں تھا۔ اسی وجہ سے وہ بیٹی کو امتحانی مرکز پر چھوڑ کر واپس آگئے تھے۔آج ہم چاروں ایک ساتھ یہاں آئے ہیں۔ بارش کے موسم اور طویل انتظار کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم سوچ رہے تھے کہ امتحان کے دوران کئی گھنٹے کہاں گزاریں گے اور کیسے وقت کاٹیں گے۔ راستے بھر یہی فکر ہمارے ذہنوں میں رہی۔
لیکن یہاں پہنچتے ہی ہماری تمام پریشانیاں دور ہوگئیں۔ ایک رضاکار شمع نے ہمارا استقبال کیا اور نہایت محبت اور خلوص کے ساتھ ہماری رہنمائی کی۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ والدین کے قیام اور آرام کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ شمع اور دیگر رضاکاروں نے ہماری بھرپور مدد کی۔ سب سے پہلے ہمیں پانی پیش کیا گیا۔ اس کے بعد کھانے اور جوس کا بھی انتظام کیا گیا۔ ہمیں آرام سے بیٹھنے کی جگہ دی گئی اور ایک کمرہ بھی فراہم کیا گیا جہاں بستر اور دیگر ضروری سہولیات موجود تھیں۔ اس سے ہمیں شام پانچ بجے تک کا وقت نہایت سکون اور اطمینان کے ساتھ گزارنے کا موقع ملا۔
یہ واقعی ایک منفرد اور یادگار تجربہ ہے۔ یہاں آکر انسانیت محبت اور بھائی چارے کی جو خوبصورت مثال ہم نے دیکھی وہ دل کو چھو لینے والی ہے۔ ہمارے دل میں جو خوف گھبراہٹ اور جھجک تھی وہ سب ختم ہوگئی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے ہم اپنے ہی لوگوں کے درمیان موجود ہوں۔یہ تجربہ ہم زندگی بھر نہیں بھولیں گے۔ ہماری بیٹی بھی یقیناً اس محبت تعاون اور خلوص کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
مسجد اور مدرسے کے معزز ٹرسٹیوں کے لیے میرا پیغام صرف اتنا ہے کہ آپ لوگ جس جذبۂ خدمت اور اخلاص کے ساتھ لوگوں کی مدد کر رہے ہیں اسے اسی طرح جاری رکھیے۔ آپ کی یہ کوششیں انسانیت محبت اور باہمی احترام کے فروغ کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ہم سب نے یہاں نہایت خوشگوار وقت گزارا اور دل کی گہرائیوں سے آپ سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

ہم نے صرف انسانیت دیکھی ۔ایک والد کا تاثر
"اسی سینٹر پر اپنی بیٹی کے ساتھ آئے ایک شخص نے کہا کہ میری بیٹی نیٹ امتحان دینے آئی ہے۔ اس سے پہلے دوسرے امتحانی مراکز پر ہمیں ایسی سہولتیں کبھی نہیں ملیں۔ یہاں پہنچتے ہی پانی، اسنیکس اور آرام کی جگہ فراہم کی گئی۔ میں سو فیصد مطمئن ہوں۔ بعض لوگ ذات اور مذہب کی بات کرتے ہیں، لیکن ہم نے یہاں صرف انسانیت دیکھی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے کام آ رہے ہیں اور یہی سب سے بڑی بات ہے۔"
یہاں آکر ہمیں ایک خوشگوار حیرت ہوئی۔ دینیات مسجد ٹرسٹ کے ذمہ داران نے والدین کے لیے نہایت عمدہ انتظامات کر رکھے ہیں۔ جیسے ہی ہم یہاں پہنچے، ان کے رضاکار پہلے سے موجود تھے اور انہوں نے ہماری رہنمائی کی۔انہوں نے بتایا کہ جب بچے امتحان دینے اندر چلے جائیں تو والدین کے آرام اور قیام کا انتظام مسجد میں کیا گیا ہے۔ ہمیں پانی فراہم کیا گیا، اسنیکس کا پیکٹ دیا گیا اور ساتھ ہی مینگو فروٹی بھی پیش کی گئی۔ پھر کہا گیا کہ آپ پہلی منزل پر جا کر آرام کر سکتے ہیں۔
اوپر جا کر دیکھا تو بیٹھنے اور آرام کرنے کا بہترین انتظام تھا۔ پنکھے چل رہے تھے اور ماحول نہایت پُرسکون تھا، جس کی وجہ سے ہمیں کسی قسم کی پریشانی محسوس نہیں ہوئی۔اگر انتظامات کے بارے میں پوچھا جائے تو میں سو فیصد مطمئن ہوں۔ اس سے پہلے جب بھی ہم مختلف امتحانات، خصوصاً پی سی بی اور دیگر مقابلہ جاتی امتحانات کے لیے گئے، ایسی سہولتیں کہیں دیکھنے کو نہیں ملیں۔
مجھے یاد ہے کہ گزشتہ نیٹ امتحان کے دوران الہاس نگر کے ایک اسکول میں مرکز تھا۔ وہاں والدین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بازار کے علاقے میں ہونے کی وجہ سے نہ مناسب بیٹھنے کی جگہ تھی اور نہ ہی دکاندار زیادہ دیر رکنے دیتے تھے، جس سے کافی پریشانی ہوئی تھی۔
لیکن یہاں صورت حال بالکل مختلف ہے۔ یہاں آکر حقیقی معنوں میں انسانیت کا جذبہ دیکھنے کو ملا ہے۔ بعض لوگ ذات، مذہب یا دیگر اختلافات کی بات کرتے ہیں، مگر ہم نے یہاں صرف انسانیت دیکھی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں اور یہی سب سے اہم بات ہے۔میں دینیات مسجد ٹرسٹ کے ذمہ داران اور رضاکاروں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے جس محبت، خلوص اور تعاون کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ ستائش ہے۔میں ان کے انتظامات اور تعاون سے انتہائی خوش اور مطمئن ہوں۔
دل کو چھو گیا ۔۔۔ پریا
میرا نام پریا کنور ہے اور میں امبرناتھ سے ہوں۔ میں ایک کاروباری خاتون (Entrepreneur) ہوں اور میرا ایک چھوٹا سا کاروبار ہے۔اس سے پہلے میری بیٹی کا امتحانی مرکز الہاس نگر میں آیا تھا، جو ہمارے گھر کے کافی قریب تھا۔ چونکہ ہم امبرناتھ میں رہتے ہیں، اس لیے وہاں آنا جانا نسبتاً آسان تھا اور ہم کسی نہ کسی طرح انتظام کر لیتے تھے۔لیکن اس بار جب مرکز یہاں آیا تو ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ والدین کے لیے اتنے اچھے انتظامات کیے گئے ہوں گے۔ یہاں آ کر واقعی بہت خوشگوار احساس ہوا۔
خاص طور پر جس محبت اور خلوص کے ساتھ ہمارا استقبال کیا گیا، وہ دل کو چھو گیا۔ یہ ایک بہت خوبصورت جذبہ ہے۔ ایسے مواقع پر، جب والدین اپنے بچوں کے امتحان کے دوران انتظار کر رہے ہوتے ہیں، انہیں صرف ایک سہارا اور تعاون کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہاں ہمیں وہ تعاون بھرپور انداز میں ملا۔
میں دل کی گہرائیوں سے آپ سب کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ آپ لوگوں نے ہمیں یہ احساس دلایا کہ ہم اکیلے نہیں ہیں بلکہ ایک بڑے خاندان کا حصہ ہیں۔اگر میں کوئی پیغام دینا چاہوں تو بس یہی کہوں گی کہ آپ لوگ اسی طرح خدمتِ خلق کا کام جاری رکھیں۔ آپ کی یہ کاوش نہ صرف لوگوں کی مشکلات کم کرتی ہے بلکہ معاشرے میں محبت، ہمدردی اور انسانیت کے جذبے کو بھی فروغ دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو جزائے خیر دے اور آپ کی ان خدمات میں مزید برکت عطا فرمائے۔
ایک اور خاتون پریا کنور (امبرناتھ) نے کہا کہ میری بیٹی کا پہلے سینٹر گھر کے قریب تھا، لیکن اس بار یہاں آنے پر اندازہ ہوا کہ والدین کے لیے کتنے اچھے انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس مشکل وقت میں جو تعاون اور محبت ہمیں ملی، وہ ناقابلِ فراموش ہے۔ ایسا محسوس ہوا جیسے ہم اپنے ہی خاندان کے درمیان موجود ہوں۔ میں مسجد انتظامیہ کی شکر گزار ہوں اور امید کرتی ہوں کہ وہ اسی طرح خدمتِ خلق کا کام جاری رکھیں گے۔ان تاثرات سے واضح ہوتا ہے کہ دینیات مسجد ٹرسٹ کا یہ اقدام صرف ایک انتظامی سہولت نہیں بلکہ انسانیت، ہمدردی اور سماجی ہم آہنگی کی ایک خوبصورت مثال ہے، جس نے امتحان کے دباؤ اور گرمی کے ماحول میں والدین کو سکون، راحت اور اپنائیت کا احساس دلایا۔

پہلے تو ڈر گئے تھے ۔ کلپنا شرما
ایک اور خاتون کلپنا چندر بھوشن شرما جو کہ تھانے سے آئی تھیں ٹبڑے صاف صاف الفاظ میں بات کرتی نظر آئیں ۔انہوں نے کہا کہ جب ہم نے پہلی بار ایڈمٹ کارڈ میں صلاح الدین کالج کا نام دیکھا تو سچ کہوں ہم بہت گھبرا گئے تھے۔ ہمارے ذہن میں کئی سوال تھے کہ بھونڈی ایک اجنبی علاقہ ہے۔ پتہ نہیں کالج کیسا ہوگا۔ وہاں کے لوگ کیسے ہوں گے۔ ماحول کیسا ہوگا۔
لیکن یہاں آنے کے بعد ہماری تمام غلط فہمیاں دور ہوگئیں۔ کالج کی سہولیات بہت اچھی ہیں۔ کیمپس نہایت خوبصورت اور منظم ہے۔ یہاں کا تجربہ واقعی شاندار رہا ہے۔ہم سب بہت زیادہ پریشانی اور ذہنی دباؤ کے ساتھ یہاں پہنچے تھے۔ پوری رات ہم سو بھی نہیں سکے تھے۔ لیکن یہاں کا ماحول دیکھ کر ہمارے دل کو سکون ملا۔ بچوں کے ساتھ ساتھ ہم والدین بھی خود کو بہت پرسکون اور مطمئن محسوس کر رہے ہیں۔
میں انتظامیہ اور تمام رضاکاروں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔ خاص طور پر یہاں کی رضاکار لڑکیاں بہت شاندار کام کر رہی ہیں۔ وہ نہایت خوش اخلاقی اور محبت کے ساتھ ہر ایک کی مدد کر رہی ہیں۔ ان کا تعاون اور خدمت کا جذبہ قابلِ تعریف ہے۔مسجد اور انتظامیہ کے لیے میرا پیغام یہ ہے کہ آپ لوگ جو خدمت انجام دے رہے ہیں وہ واقعی قابلِ ستائش ہے۔ ایسے اقدامات سے محبت بھائی چارہ اور انسانیت کے جذبات کو فروغ ملتا ہے۔ آپ اسی جذبے کے ساتھ اپنا کام جاری رکھیے۔ہمیں یہاں جو عزت محبت اور سہولتیں ملیں ان کے لیے ہم دل سے آپ سب کے شکر گزار ہیں۔
انتظامیہ نے کہا یہ ہماری خوش قسمتی ہے
دینیات مسجد کے ایک ذمہ دار نے کہا کہ الحمدللہ! یہ ہماری خوش نصیبی ہے اور ہم اپنے لیے اور اپنےادارےکے لیے اسے ایک بڑی سعادت سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دوبارہ خدمت کا موقع عطا فرمایا۔انسانیت اور خدمت ہی دراصل دین کی روح ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہی تعلیم دی ہے کہ اللہ کی مخلوق کو فائدہ پہنچایا جائے۔ الحمدللہ، ہم نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا۔ خاص طور پر ہماری مسجد کے ذمہ داران نے اس سلسلے میں فیصلہ کیا، کوششیں کیں اور ہماری حوصلہ افزائی کی کہ ہم اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔الحمدللہ، بڑی تعداد میں لوگ یہاں آئے اور انہوں نے ان سہولیات سے فائدہ اٹھایا۔ وہ بہت خوش ہوئے اور ہماری پوری ٹیم کو بھی اس بات کی خوشی ہے کہ دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگوں کو یہاں راحت اور سہولت میسر آئی۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے والدین نے بتایا کہ اس سے پہلے جب ان کے امتحان مراکز دوسری جگہوں پر تھے تو انہیں نہ پانی میسر تھا اور نہ ہی آرام کرنے کی مناسب جگہ۔ اس کے مقابلے میں یہاں آ کر وہ بہت متاثر ہوئے۔ خاص طور پر خواتین اور ماؤں کو بیٹھنے، آرام کرنے، واش روم استعمال کرنے اور پانی کی سہولت ملنے سے کافی آسانی ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں ہمارے مقامی نگر سیوک (کونسلر) نے بھی تعاون کیا، جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ اسی طرح ہم اپنے ادارے کے ذمہ داران کے بھی ممنون ہیں جنہوں نے ہمیں یہ موقع فراہم کیا۔
جب ہم نے آنے والے لوگوں سے ان کے تاثرات پوچھے تو تقریباً سبھی نے ہمیں دعائیں دیں اور یہی خواہش ظاہر کی کہ اس طرح کے بھائی چارے اور خدمت کے کام ہمیشہ جاری رہنے چاہئیں تاکہ ملک میں امن و سکون اور باہمی محبت کا ماحول برقرار رہے۔
دینیات مسجد میں فلاحی کام
انہوں نے کہا کہ الحمدللہ! ہم اس مقصد کے لیے ہمیشہ تیار ہیں اور ہمارا ادارہ اسی نہج پر مسلسل کام کر رہا ہے۔ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، یہاں خواتین کے لیے ایک کلینک بھی قائم ہے جہاں شام کے وقت انتہائی معمولی فیس پر علاج اور دوائیں فراہم کی جاتی ہیں۔ کسی بھی مذہب، ذات یا برادری سے تعلق رکھنے والا شخص یہاں آ سکتا ہے اور کم خرچ میں علاج حاصل کر سکتا ہے۔ بعض ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتے، انہیں مفت سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
یہاں ایک کونسلنگ سینٹر بھی ہے، دارالقضاء بھی قائم ہے، جن کے ذریعے مختلف نوعیت کی خدمات انجام دی جاتی ہیں۔ کسی ہنگامی صورتحال یا پریشانی کے وقت امدادی سرگرمیاں بھی یہی سے چلائی جاتی ہیں۔ الحمدللہ، کھانے کے پیکٹ بھی تقسیم کیے جاتے ہیں۔ہم ہمیشہ ایسے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں ہمیں انسانیت کی خدمت کا موقع ملے۔ الحمدللہ، ہم اس کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ ہم ان تمام لوگوں کے بھی شکر گزار ہیں جنہیں یہاں آ کر راحت ملی اور جنہوں نے ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ہمارا شکریہ ادا کیا۔