ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر میں مدارس کا اہم کردار: ڈاکٹر ریحان اختر کو ینگ اسکالر ایوارڈ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 18-05-2026
ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر میں مدارس کا اہم کردار: ڈاکٹر ریحان اختر کو ینگ اسکالر ایوارڈ
ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر میں مدارس کا اہم کردار: ڈاکٹر ریحان اختر کو ینگ اسکالر ایوارڈ

 



 نئی دہلی: موجودہ دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مدارس کے تعلیمی نظام میں مثبت تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ آج کئی مدارس جدید علوم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زبان و ادب اور پیشہ ورانہ تعلیم کو اپنے نصاب کا حصہ بنا رہے ہیں تاکہ طلبہ دینی بصیرت کے ساتھ ساتھ عملی میدان میں بھی کامیابی حاصل کر سکیں۔

ان خیالات کا اظہار  ممتاز اسلامی اسکالر ڈاکٹر ریحان قاسمی نے کیا,  جو تاریخی علاقے حضرت نظام الدین میں واقع جامعہ اسلامیہ اشاعت الاسلام کی کلان مسجد میں “ترقی یافتہ بھارت میں مدارس کا کردار” کے عنوان سے ایک اہم طلبہ مکالمہ اور استقبالیہ تقریب میں شرکت کررہے تھے۔

 اس پروگرام میں علمی، تعلیمی اور سماجی شعبوں سے وابستہ شخصیات، محققین، طلبہ اور دانشوروں نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران ڈاکٹر ریحان اختر کو ان کی علمی و تحقیقی خدمات، فکری رہنمائی اور تعلیمی میدان میں نمایاں کردار کے اعتراف میں “ینگ اسکالر ایوارڈ 2026” سے نوازا گیا۔ اس موقع پر قومی اقلیتی کمیشن کی رکن منوری بیگم بطور مہمان خصوصی شریک رہیں جبکہ دیگر مقررین نے بھی اپنے خیالات پیش کیے۔

یاد رہے کہ اس وقت “وکست بھارت” کے اس وسیع تصور کو حقیقت کا روپ دینے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے جس کا مقصد صرف اقتصادی ترقی، جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی استحکام حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک ایسے باوقار اور ذمہ دار معاشرے کی تشکیل بھی ہے جو اخلاقی اقدار، سماجی ہم آہنگی، انسانی ہمدردی اور فکری بیداری جیسی خصوصیات سے مزین ہو۔

اسی پس منظر میں مدارسِ اسلامیہ کے تعلیمی، فکری اور سماجی کردار پر مختلف علمی حلقوں میں سنجیدہ گفتگو جاری ہے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق مدارس نے صدیوں سے دینی علوم کے تحفظ، تہذیبی ورثے کی بقا، اخلاقی تربیت اور معاشرتی رہنمائی میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ بدلتے ہوئے تعلیمی تقاضوں کے پیش نظر کئی مدارس نے جدید علوم، کمپیوٹر تعلیم، انگریزی زبان، سائنسی مضامین اور فنی تربیت کو بھی اپنے نصاب میں شامل کر کے نئی نسل کو قومی ترقی کے سفر سے جوڑنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

اسی سلسلے میں منعقد اس پروگرام میں انہوں نے مزید کہا کہ ان کے مطابق مدارس سے وابستہ نوجوان آج سول سروسز، تدریس، صحافت، تحقیق، عدلیہ اور سماجی خدمت سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ مدارس قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر ریحان اختر نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کا خواب اُس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک قوم کی فکری اور اخلاقی بنیادیں مضبوط نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی اور جدیدیت کے ساتھ ساتھ اخلاقیات، سماجی انصاف، برداشت اور انسانی اقدار کو فروغ دینا بھی انتہائی ضروری ہے اور مدارس اسی کردار کو صدیوں سے انجام دیتے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق مدارس صرف مذہبی تعلیم کے مراکز نہیں بلکہ ایسے تربیتی ادارے ہیں جہاں طلبہ کی فکری، اخلاقی اور سماجی شخصیت کو سنوارا جاتا ہے اور انہیں ایک ذمہ دار شہری بننے کی تعلیم دی جاتی ہے۔

ڈاکٹر ریحان اختر نے برصغیر کی تاریخ میں مدارس کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان اداروں نے دینی علوم کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ملک کی تہذیبی شناخت، علمی روایت اور اخلاقی سرمایہ محفوظ رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی کے دوران علماء اور مدارس نے حب الوطنی، قومی بیداری اور اتحاد کے جذبے کو مضبوط کرنے میں نمایاں خدمات انجام دیں اور یہ ہندوستانی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔

تقریب کے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اگر مدارس کو جدید تعلیمی وسائل، تحقیقی مواقع، سرکاری تعاون اور قومی ترقیاتی منصوبوں سے مزید جوڑا جائے تو یہ ادارے نہ صرف اقلیتوں کی تعلیمی ترقی بلکہ ایک بااخلاق، مضبوط اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پروگرام کے اختتام پر مختلف علمی و سماجی شخصیات کی خدمات کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا گیا کہ مدارس مستقبل میں بھی قوم کی فکری اور اخلاقی رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔