جبل پور: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے دمہ کے ایک اسکول میں طالبات کو مبینہ طور پر حجاب پہننے اور مخصوص مذہبی طریقوں پر عمل کرنے کے لیے مجبور کرنے کے معاملے میں چار سابق عہدیداروں اور ملازمین کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
جسٹس ہمانشو جوشی کی سنگل بنچ نے جمعہ کو کہا کہ طالبات کو دھمکی دے کر مبینہ طور پر مجبور کیے جانے سے متعلق مخصوص الزامات کو بے بنیاد نہیں کہا جا سکتا اور ان کی سچائی کا فیصلہ شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ عدالت نے اسکول کے سابق عہدیدار شیلیندر کمار جین، عبدالواسیم باری، استاد انس اثَر اور دفتر معاون رستم علی کی جانب سے ایف آئی آر منسوخ کرنے کی درخواستوں کو خارج کر دیا۔
یہ معاملہ دمہ کے گنگا جمنا ہائر سیکنڈری اسکول سے متعلق ہے۔ مئی 2023 میں ہندو طالبات کے حجاب پہنے ہوئے ایک پوسٹر سامنے آنے کے بعد ریاستی حکومت نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ طالبات کی شکایات کے بعد ضلع مجسٹریٹ نے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔
کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر تعزیراتِ ہند کی دفعہ 295-اے (کسی طبقے کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے جان بوجھ کر اور بدنیتی سے کیا گیا عمل)، 120-بی (مجرمانہ سازش) اور 506 (مجرمانہ دھمکی) کے علاوہ جوینائل جسٹس ایکٹ اور مدھیہ پردیش مذہبی آزادی ایکٹ، 2021 کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
الزام ہے کہ اسکول میں حجاب پہننا، نماز پڑھنا اور اردو زبان کی تعلیم لازمی قرار دی گئی تھی، جبکہ تلک اور کلوا پہننے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ عدالت نے کہا کہ ایف آئی آر میں طالبات کو ان کی مرضی کے خلاف مخصوص لباس پہننے اور مذہبی طریقوں پر عمل کرنے کے لیے دھمکی دینے اور دباؤ ڈالنے کے واضح الزامات ہیں۔ بنچ نے کہا کہ ایسی صورت حال میں درخواست گزاروں کے خلاف عائد الزامات کو پہلی نظر میں بے بنیاد نہیں کہا جا سکتا۔ الزامات کی سچائی کا فیصلہ شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ پولیس اس معاملے میں پہلے ہی چارج شیٹ داخل کر چکی ہے۔