نئی دہلی: مدھیہ پردیش کے ایک ڈاکٹر جوڑے کی جانب سے قبائلی علاقوں میں سکل سیل بیماری کی جانچ اور جینیاتی مشاورت کے لیے تیار کیے گئے کم خرچ نظام کو بین الاقوامی سطح پر شناخت ملی ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے شائع کی گئی ایک کتاب میں اس نظام کا ذکر کیا گیا ہے۔
ہومیوپیتھک معالج پروفیسر ڈاکٹر نشانت نمبیسن اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر اسمتا نمبیسن کی اس پہل کا ذکر سالماتی جینیات کے ماہر کیون ڈیوس کی اگست میں شائع ہونے والی کتاب ’کروڈ ایئر: اے بایوگرافی آف سکل سیل انیمیا اینڈ دی کویسٹ ٹو کیور دی فرسٹ مالیکیولر ڈیزیز‘ میں کیا گیا ہے۔
نشانت نمبیسن نے ہفتہ کو ’پی ٹی آئی-بھاشا‘ سے کہا، ’’ہارورڈ یونیورسٹی پریس کی اس کتاب میں ہمارے کام کو جگہ ملنا مدھیہ پردیش سے شروع ہونے والی زمینی سطح کی صحت سے متعلق پہل کی بین الاقوامی شناخت ہے۔‘‘ نشانت بھوپال واقع سرکاری ہومیوپیتھی میڈیکل کالج اور اسپتال میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں، جبکہ ان کی اہلیہ اسمتا معالج اور آزاد محقق ہیں۔